وزیر اعظم عمران خان کو پاکستان شماریات بیورو کی طرف سے افراطِ زر کی شرح کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلہ سازی کے نظام اور کورونا وباء کے سماجی اور معاشی اثرات پر بریفنگ

January 08, 2021

بریفنگ میں وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، وزیر اطلاعات سنیٹر شبلی فراز، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر صنعت محمد حماد اظہر، مشیر تجارت عبدالرزاق داود، معاون خصوصی محصولات ڈاکٹر وقار مسعود اور سینئر افسران شریک۔

 

ممبر  ادارہ شماریات نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ افراطِ زر کی شرح کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومتی فیصلہ سازی کے لیے ڈیجیٹل نظام مرتب کیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت شماریات بیورو اشیائے ضروریہ کا ڈیٹا ملک بھر کے اضلاع سے حاصل کرتا ہے اور اس کا تقابلی جائزہ  مرتب کرتا ہے۔ 

 

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ یہ نظام وزیراعظم کے ڈیجیٹل پاکستان ویژن کے تحت بنایا گیا ہے جس کی بدولت بروقت فیصلہ سازی ممکن ہو سکے۔ اس نظام سے قومی پرائس مانیٹرنگ کمیٹی، وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کو بروقت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے اعداد وشمارمیسر آئیں گے جس سے بروقت فیصلہ سازی ممکن ہوسکے گی۔

 

وزیر اعظم نے ڈیجیٹل نظام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نظام سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی نگرانی کرنے اور ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی جانچنے میں مدد ملے گی۔ وزیر اعظم نے کہا کے اس نظام سے فیصلہ سازی کے عمل میں شفافیت کا عنصر نمایاں ہوگا۔

 

وزیر اعظم کو کورونا وباء کے سماجی اور معاشی اثرات کے حوالے سے کیے گئے سروے پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔

 

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ  اس سروے میں  روزگار، آمدن، ترسیلات، خوراک، صحت اور کورونا سے نمٹنے کے لیے اقدامات کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا۔ اس سروے کے مطابق کورونا وباء کے آغاز میں زیادہ گھرانے معاشی طور پر متاثر ہوئے۔ تاہم حکومت کے بروقت اقدامات اور اسمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی سے یہ شرح جولائی 2020 سے کمی کی طرف گئی۔ 

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے کورونا وباء کے دوران مسلسل توجہ غریب اور مزدور طبقے کو ریلیف فراہم کرنے پر مرکوز رکھی۔

وزیراعظم نے کہاکہ عالمی معیشت کرونا وباء سے متاثر ہوئی تاہم اللہ تعالیٰ کی مدد اور حکومت کے بروقت اقدامات سے پاکستان اس مشکل صورتحال سے نبردآزما ہوا اور پوری دنیا ہمارے اقدامات کی معترف ہے