وزیرِ اعظم عمران خان کی زیرِ صدارت روزمرہ اشیاء کی قیمتوں پر اعلی سطح کا اجلاس

December 30, 2020

اجلاس میں وفاقی وزراء ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، محمد حماد اظہر، مشیران ڈاکٹر عشرت حسین، عبدالرزاق داؤد، معاونینِ خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر، شہباز گل، عثمان ڈار، ڈاکٹر وقار مسعود، گورنر اسٹیٹ بنک رضا باقر اور وفاقی و صوبائی اعلی عہدیداران کی شرکت.
وزیرِ اعظم کو چینی اور آٹے کی قیمت میں کمی کے بارے آگاہ کیا گیا. اسکے علاوہ آلو، پیاز اور مرغی کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی اور اسکے مثبت اثرات سے بھی آگاہ کیا گیا۔  وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ کنزیومر پرائس انڈیکس  افراطِ زر کی موجودہ شرح حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے سال سے 4.4 فی صد اور اسی سال پچھلے ماہ سے 0.9 فی صد کم ہوئی ہے جو کہ خوش آئند بات ہے.
 وزیرِ اعظم کو آگاہ کیاگیا کہ یوٹیلیٹی سٹورز پر چینی 68 روپے فی کلو کی قیمت پر میسر رہی اور مارکیٹ میں قیمت ذیادہ ہونے کے باوجود ابھی بھی اسی قیمت پر دستیاب ہے.
وزیرِ اعظم کو موسمی طلب  کے باعث اشیاء خوردونوش کی   طلب  و قیمت اور خصوصاً کورونا وباء کی وجہ سے بین الاقوامی منڈیوں میں بڑھتی قیمتوں کے مقامی قیمتوں پر دباؤ کے بارے بھی  بریف کیا گیا.
 اشیاء خوردونوش کی رسد کو بڑھانے اور زراعت کے شعبے کی بہتری کیلئے بنائی گئی حکمتِ عملی کے بارے بھی آگاہ کیا گیا۔.
وزیر صنعت محمد حماد اظہر نے اجلاس کو گھی کی قیمت میں کمی لانے کیلئے شعبے سے متعلقہ تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے لائحہ عمل کو جلد عملی جامہ پہنانے کی یقین دہانی کرائی.

وزیرِ اعظم نے اشیاء خوردنوش کی قیمتوں میں استحکام کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کسی بھی بحران سے بچنے کیلئے طلب اور رسد کے اعشاریوں کی کڑی نگرانی کی ہدایات دیں.

 وزیرِ اعظم نے اشیاء خوردو نوش میں ملاوٹ کرنے والے عناصر اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بھی سخت کاروائی کی ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی لوگوں کی صحت سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی.

  وزیرِ اعظم نے گندم کی طلب، موجودہ سٹاک اور آنے والی فصل کو مد نظر رکھتے ہوئے وزارتِ نیشنل فوڈ سیکیورٹی کو ادارہ شماریات کے اشتراک سے سالانہ پلان بنانے کی ہدایات جاری کیں.
 چینی کی صنعت میں ٹیکس چوری میں ملوث شوگر مِلّوں کی نشاندہی اور انکے خلاف قانونی کاروائی کو یقینی بنانے کی بھی ہدایات دیں.
 وزیرِ اعظم نے کہا کہ گذشتہ دوماہ میں اشیاء کی قیمتوں میں کمی کا جو رجحان دیکھنے میں آیا ہے اس کے تسلسل کو قائم رکھنے کیلئے اقدامات یقینی بنائے جائیں