وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ، تعمیرات و ڈیویلپمنٹ کا ہفتہ واراجلاس۔

December 24, 2020

سروئیر جنرل آف پاکستان نے اجلاس کو کیڈسٹرل میپنگ (زمین کی پیمائش) کے حوالے سے بریف کیاگیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں میپنگ کا عمل جاری ہے۔ اس کے علاوہ دیگر چھوٹے شہروں اور دہی علاقوں کا ڈیٹا موصول ہو چکا ہے جس کو ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے۔ اس عمل سے زمین کی اصل ملکیت  کے تعین کے حوالے سے پیش آنے والے مسائل کا خاتمہ ہوگا اور بہتر منصوبہ بندی میں مدد ملے گی ۔ جنگلات،  واپڈا، ریلوے،اوقاف اور دیگر سرکاری زمینوں کے حدود کا تعین ہو سکے گا۔ کیڈسٹرل میپنگ کی وجہ سے نا جائز قبضے واگذار کرانے، ملکیتی تنازعے ختم کرنے اور قانونی مقدمے جلد نمٹانے، پرانے ریکارڈ میں غلطیاں دور کرنے اور آڈٹ میں مدد ملے گی۔

 

وزیر اعظم نے تمام صوبائی چیف سیکریٹریز کو ہدایت دی کہ صوبائی لینڈ ریکارڈ جلد سے جلد سروئیر جنرل کومہیا کیا جائے تاکہ میپنگ کا عمل مکمل ہو۔

 

چیف سیکریٹری پنجاب نے صوبے میں شہروں کی ماسٹر پلاننگ کے بارے میں اب تک کی پیش رفت سے آگاہ  کیا۔  اجلاس کو بتایا گیاکہ پنجاب کے 5 بڑے شہروں اور 16 درمیانے اور چھوٹے شہروں کے ماسٹر پلان پر کام جاری ہے۔ ہر ماسٹر پلان میں رہائش، کمرشل، صحت، تعلیم، سیوریج، پارکس اور دیگر مصارف کو مد نظر رکھا جا رہا ہے۔

 

وزیر اعظم نے کہا کہ بڑھتی ہوئ شہری آبادی سے پیدا ہونے والے مسائل کے حل کے لئے ضروری ہے کہ شہروں کے ماسٹر پلان کو ازسر نو مرتب کیا جائے ۔ ماسٹر پلاننگ کے لیے جدید اور بین الاقوامی معیار کے طریقہ کار کو اپنایا جائے۔ ماسٹر پلان کی وجہ سے نہ صرف شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی بلکہ   شہری سہولتوں و دیگر مقاصد کے لئے مختص جگہوں  کے غلط استعمال کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اس پہلو کو یکسر نظر انداز کیا جاتا رہا ہے جس کی وجہ سے شہری آبادیاں مختلف مسائل کا شکار ہیں۔ 

 

وزیر اعظم نے تمام تعمیراتی  منصوبوں میں ماحولیاتی تحفظ  کو مد نظر رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔