وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی برائےہاؤسنگ، تعمیرات و ڈیویلپمنٹ کا ہفتہ وار اجلاس

December 17, 2020

اجلاس میں کمرشل بنکوں کے سربراہان خصوصی طور پر مدعو۔ نیشنل بنک، حبیب بنک، یونائیٹڈ بنک، مسلم کمرشل بنک، الائیڈ بنک، بنک الحبیب، عسکری بنک، میزان بنک، فیصل بنک، جے ایس بنک اور بنک آف پنجاب، دبئی اسلامک بنک،سونیری بنک، بنک الاسلامی، حبیب میٹرو بنک، البرکا بنک، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ، فرسٹ ویمن بنک اور بنک آف خیبر کے سربراہان شریک۔

 

گورنر اسٹیٹ بینک نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ تمام کمرشل بنکوں کے ساتھ مل کر اسٹیرنگ کمیٹی بنائی گئی ہے جس میں آسان قرضوں کے حصول کےطریقہ کار کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ کمرشل بینکوں نے ملک بھر میں 7,700 شاخوں میں گھر تعمیر کرنے کے لیے قرضے فراہم کرنے کی سہولت شروع کر دی ہے۔ اس ضمن میں غریب اور متوسط طبقے کی آگاہی کے لیے میڈیا مہم بھی شروع ہے۔

 

اجلاس کو بتایا گیا کہ کمرشل بینکوں کو قرضوں کے حصول کے لیے کثیر تعداد میں درخواستیں موصول ہو رہی ہیں۔  سٹیٹ بینک نے شکایات کے ازالے کے لیے کمپلینٹ پورٹل کا اجرا کر دیا ہے جس پر صارفین قرضوں کے حصول میں پیش آنے والی  شکایات درج کر سکتے ہیں۔

 

ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ کمرشل بنکوں کی کارکردگی جانچنے کے لیے سٹیٹ بینک نے طریقہ کار وضع کیا ہے اور اس عمل کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔

 

 وزیر اعظم نے تعمیرات کو فروغ دینے پر کمرشل بینکوں کی طرف سے تعاون کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ غریب آدمی کو اپنا گھر بنانے کے لیے کمرشل بینک قرضے فراہم کر رہے ہیں جو کہ خوش آئند ہے۔

 

وزیر اعظم نے کہا کہ تعمیرات سیکٹر کا فروغ اور غریب طبقے کو اپنی چھت فراہم کرنا ایک قومی خدمت ہے۔ وزیر اعظم نے آگاہی مہم مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔

 

بنکوں کے سربراہان نے حکومت کو اس اہم قومی پروگرام کی تکمیل کے لیے مکمل تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

 

سیکریٹری توانائی نے اجلاس کو ہاؤسنگ منصوبوں کے لیے بجلی فراہم کرنے کے بارے بریفنگ دی۔

 

نائب چیرمین ایل ڈی اے نے اجلاس کو ایل ڈی اے سٹی نیا پاکستان ہاؤسنگ اپارٹمنٹس لاہور کے بارے آگاہ کیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اس منصوبے میں کل 35,000 یونٹس تعمیر کیے جائیں گے تاہم کثیر تعداد غریب اور متوسط طبقے کے لیے مختص ہوگی۔ ابتدائی مرحلے میں 4,000 یونٹس تعمیر کیے جارہے ہیں۔ اس منصوبے کا پی سی ون اور ماسٹر پلان منظور کیا جاچکا ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل جون 2022 میں ہوگی اور آسان اقساط میں ادائیگیوں کی سہولت موجود ہو گی۔