وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس

December 15, 2020

٭     کابینہ کو اٹارنی جنرل آف پاکستان نے سینٹ کے انتخابات کے قانون کے بارے تفصیلی بریفنگ دی۔
سیکرٹ بیلٹ کی بجائے اوپن ووٹنگ پر بحث ہوئی۔کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ آئین پاکستان میں اوپن بیلٹ کی بظاہر کوئی ممانعت نہیں ہے۔کابینہ نے فیصلہ کیاکہ اس ضمن میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 186کے تحت اٹارنی جنرل کے ذریعے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کیا جائے گا۔  
وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ انتخابات کے لئے قانونی اصلاحات کا صرف ایک مقصد ہے اور وہ پورے عمل کو شفاف بنانا ہے۔تمام سیاسی جماعتوں سے اس ضمن میں مذاکرات کے لئے دروازے ہر وقت کھلے ہیں۔   


٭    وزارت خزانہ نے کابینہ کو وفاق کی جانب سے صوبوں کو مختص فنڈز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔کابینہ کو صوبوں کے اپنے مالی وسائل کے بارے بھی آگاہ کیا گیا۔
 کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ ساتویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت 42.5%وفاق اور 57.5%صوبوں کو تقسیم کیا جاتا ہے۔یہ بتایا گیا کہ مالی سال 2018-19میں وفاق کی طرف سے صوبوں کو 2.4ٹریلین روپے دئیے گئے اور اسی مالی سال صوبوں نے اپنے وسائل سے 496بلین روپے حاصل کیے۔اسی طرح مالی سال 2019-20میں وفاق نے صوبوں کو 2.6ٹریلین روپے دئیے اور صوبوں نے 524بلین روپے اپنے وسائل سے حاصل کیے۔
مالی سال 2020-21کے پہلے پانچ مہینوں میں اب تک وفاق صوبوں کو 1.06ٹریلین روپے دے چکی ہے جبکہ اسی مدت میں صوبوں نے 226بلین روپے اپنے وسائل سے حاصل کیے۔
کابینہ کو بتایا گیا کہ صوبوں کو اس کے علاوہ وفاق امن و عامہ،قدرتی آفات،صحت،تعلیم،احساس پروگرام اور ترقیاتی منصوبوں کی مد میں بھی رقوم مہیا کر تا ہے۔مزید بتایا گیا کہ وفاق صوبوں کو سماجی تخفظ کے لئے بجلی،گیس،اشیاء ضروریہ کی مد میں سبسڈی بھی فراہم کرتی ہے۔

٭    معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کابینہ کو احساس کفالت پروگرام کے تحت ادائیگیوں،احساس نیشنل سوشیو اکنامک سروے اور وزیر اعظم کوویڈ ریلیف فنڈ کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
کابینہ کو بتایا گیا کہ پرانے سماجی تحفظ اور تخفیف غربت  سروے میں کافی غلطیاں اور ابہام موجود تھے جس کی وجہ سے غیر مسحق افراد کو ادائیگیاں کی گئیں۔اس وقت نیا سروے تکمیل کے مراحل میں ہے جو جدید ڈیجیٹل بنیادوں پرگھر گھر جا کر کیا جا رہا ہے۔معاون خصوصی نے بتایا کہ احساس پروگرام70 لاکھ افراد کورقوم کی مد میں مددفراہم کرئے گا جس میں اب تک 23لاکھ افراد کو رقوم دی جا چکی ہیں۔کابینہ کو بتایا گیا کہ 31,543غیر مسحق افراد کو ڈیٹا بیس میں سے نکال دیا گیا ہے۔

وزیر اعظم کوویڈ ریلیف فنڈ کے بارے بتایا گیا کہ بین الاقوامی ڈونر ز سے اس فنڈ میں 1.081ارب روپے موصول ہوئے جبکہ مقامی ڈونرز نے3.805ارب روپے عطیہ کیے۔ اس وقت اس فنڈ میں 4.886ارب روپے جمع ہوئے۔
 وزیر اعظم کی ہدایات کے مطابق وفاقی حکومت نے اپنی طرف سے اس رقم کو بڑھا کر 24.43ارب روپے کر دیا ہے۔
کابینہ کو بتایا گیا کہ اس فنڈ سے ادائیگیاں مکمل طور پر شفاف طریقے سے کی جا رہی ہیں۔اس فنڈ سے اب تک 20لاکھ افراد کو ایمرجنسی کیش فراہم کیا جاچکا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ احساس پروگرام حکومت کی سب سے بڑی کامیابی ہے جس کی تائید بین الاقوامی ادارے کرتے ہیں۔وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ملک سے غربت کا خاتمہ ان کا مشن ہے۔      
وزیر اعظم نے صوبائی حکومتوں اور اسلام آباد انتظامیہ کو ہدایت دی کہ کرونا وباء کے پیش نظر غریب ریڑھی بانوں کے لئے ریڑھی بازار قائم کرنے کا جائزہ لیا جائے تاکہ ان غریب افراد کا روزگار متاثر نہ ہو۔

٭    کابینہ کو میٹروپولیٹن کلب اسلام آباد کے استعمال کے لئے قائم کمیٹی کی رپورٹ کے بارے آگاہ کیا گیا۔کابینہ نے مزید عمارات کو قابل استعمال لانے کے لئے رپورٹ بمعہ سفارشات مرتب کرنے اور اگلے اجلاس میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایات دیں۔    


٭    کابینہ نے عاصم شہریارحسین کی بطور چیف ایگزیکٹو آفیسر نیشنل ٹیکنالوجی فنڈ تین سال کنٹریکٹ پر تعیناتی کی منظوری دی۔

٭کابینہ نے عمران مانیار کوتین سال کے لئے کنٹریکٹ پر بطور مینیجنگ ڈائریکٹرسوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ تعینات کرنے کی منظوری دی۔


٭    کابینہ نے علی جاوید ہمدانی کوتین سال کے لئے کنٹریکٹ پر بطور مینیجنگ ڈائریکٹرسوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ  تعینات کرنے کی منظوری دی۔


؎٭    کابینہ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹر ز پر ممبران تعینات کرنے کی منظوری دی۔


٭    کابینہ نے ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیویشن کے بورڈ آف ٹرسٹیز کی تنظیم نو  کرنے کی منظوری دی۔

 
٭    کابینہ نے مختلف ممالک (05) میں موجود پاکستانی سفارتخانوں میں کمیونٹی ویلفیئر اتاشی تعینات کرنے کی منظوری دی۔


٭    کابینہ نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز)کے سی ای اوز تعینات کرنے کے لئے اشتہارات شائع کرنے کی منظور ی دی  ۔

٭    کابینہ نے لیفٹیننٹ جنرل اختر نوازکو نیشنل ڈئزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا چیئر مین تعینات کرنے کی منظوری دی۔


٭    کابینہ نے نیپرا کی طرف سے مالی سال 2019-20کے دوسرے اور تیسرے سہ ماہی کے لئے بجلی کے نرخوں میں بقایا  ایڈجسٹمنٹ کی منظوری دی۔اس منظوری سے صارفین پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑے گا۔


٭     کابینہ کو ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی کمی کے حوالے سے قائم انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
کابینہ نے وفاقی وزراء اسد عمر،شفقت محمود،ڈاکٹر شیریں مزاری اور محمد اعظم خان سواتی پر مشتمل کمیٹی قائم کرنے کی منظوری دی۔یہ کمیٹی انکوائری کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کرانے کے لئے لائحہ عمل مرتب کرئے گی اور ایک ہفتے میں کابینہ کو رپورٹ پیش کرئے گی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ کمیٹی کی رپورٹ موصول ہونے پر ذمہ داران کے خلاف سخت ترین ایکشن لیا جائے گا۔