وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت صنعتی سرگرمیوں کے فروغ، کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے

December 10, 2020

کاروباری برادری کو سہولیات فراہم کرنے دور دراز علاقوں کی ترقی اور لوگوں کو غربت سے نکالنے پر بھر پور توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے، کاروباری برادری کے ایف بی آر، سٹیٹ بینک اوردوسرے محکموں کے متعلق مسائل حل کریں گے، عوامی مسائل کے حل کے لئے موثر بلدیاتی نظام لا رہے ہیں، کورونا وائر س کی وبا کی صورتحال میں معاشی سرگرمیاں جاری رکھنا اہم چیلنج تھا، حکومت نے ٹھوس اقدامات سے جاری کھاتوں کے خسارے پر قابو پایا، کورونا وائرس کی وبا کی پہلی لہر میں مکمل لاک ڈائون کا مطالبہ کرنے والی اپوزیشن آج جلسے کررہی ہے، کورونا سے بچائو کے لئے احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد ضروری ہے، عوام ماسک پہنیں اور حفاظتی تدابیر پر عمل کریں، صحیح معنوں میں احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو موسم سرما میں مشکلات پیش آئیں گی۔ان خیالات کا اظہارا نہوں نے بدھ کو سیالکوٹ میں فضائی کمپنی ایئر سیال کے افتتاح کے بعد کاروباری برادری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملکی ترقی میں سیالکوٹ کی بزنس کمیونٹی کا اہم کردار ہے۔ مستقبل قریب میں سیالکوٹ برآمدی سرگرمیوںکا مرکز ہو گا۔ انہیں مستقبل میں اپنی ایئر لائن کی ضرورت پڑنا تھی، اسی لئے انہوں نے یہاں پر پہلے ایک شاندار ایئر پورٹ اور پھر اپنی ایئر لائن بنائی ہے کیونکہ کاروباری طبقہ بہتر طریقے سے جانتا ہے کہ وہ کیسے ایئرلائن چلا سکتی ہے۔ ایئر سیال کے آغاز سے پی آئی اے اور دیگر فضائی کپنیوں کے ساتھ مقابلے کی فضا پیدا ہوگی اور مسافروں کو سہولتیں ملیں گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ کورونا کی صورتحال میں معاشی سرگرمیاں جاری رکھنا اہم چیلنج تھا۔ وائرس کو روکنے کے لئے لاک ڈاﺅن بہترین راستہ ہے۔ اللہ کے فضل و کرم اور عوام کے تعاون سے کورنا کی پہلی لہرمیں صورتحال کنٹرول میں رہی۔ موثر حکمت عملی پر ڈبلیو ایچ او نے پاکستان کا شمار ان 7 ممالک میں کیا ہے جنہوں نے بہترین طریقے کورونا کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے اقدامات کئے ۔ روز گار، کاروبار اور اپنے لوگوں کو کورونا سے بچایا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن اس وقت لاک ڈاﺅن نہ کرنے پر حکومت پر تنقید کررہی تھی لیکن پچھلی مرتبہ مکمل لاک ڈاﺅن کا مطالبہ کرنے والی اپوزیشن آج جلسے کرتی پھرتی ہے۔ کورونا کی دوسری لہر میں احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد ضروری ہے۔ صحیح معنوں میں احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو موسم سرما میں مشکلات پیش آئیں گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا میں ہر چار دنوں میں اتنے لوگ کورونا سے ہلاک ہوئے ہیں جتنے پاکستان میں 7 ماہ میں نہیں ہوئے۔ اس وقت کیلیفورنیا، انگلینڈ اور اٹلی میں لاک ڈاﺅن کی صورتحال ہے۔ عوام سے اپیل ہے کہ ماسک پہنیںاور حفاظتی تدابیر پر عمل کریں کیونکہ ماکس پہننے سے کورونا کا پھیلاﺅ روکا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کاروباری طبقے کو سہولتوں کی فراہمی کے لئے پرعزم ہے اور کاروباری طبقے کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہے تاکہ کاروباری سرگرمیاں بڑھیں۔ 60 کی دہائی میں پاکستان ترقی کررہا تھالیکن 70کی دہائی کی منفی پالیسیوں کی وجہ سے صنعتی ترقی متاثر ہوئی۔ صنعتی ترقی کے لئے بزنس کمیونٹی کو تمام سہولیتں کی فراہمی، رکاوٹوں کا خاتمہ اور کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنا حکومت کی ترجیح ہے اور حکومت کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو غربت سے نکالا جائے اور گلگت بلتستان، سابق فاٹا، انضمام شدہ اضلاع ، بلوچستان اور پنجاب کے ضلع ڈیرا غازی خان جیسے ان پسماندہ علاقوں کو ترقی دی جائے جو ترقی میں پیچھے ہیں۔ پائیدار خوشحلی کے لئے یکساں ترقی ضروری ہے۔ چین نے اپنے نچلے طبقے کو سہولیات فراہم کیں اور 70 کروڑ افراد کو غربت سے نکالا۔ سی پیک کاایک مقصد بھی مغربی چین کی ترقی ہے کیونکہ چین اس علاقے کو گوادر کے ذریعے سمندری تجارت کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ جن علاقوں میں احساس محرومی ہے وہاں سہولیات دی جائے۔ غریب افراد کے لئے پالیسیاں بنائی جائیں اور اسی مقصد کے لئے احساس پروگرام شروع کیا گیا ہے لیکن اس کے لئے دولت کی فراوانی کی بھی ضروری ہے کیونکہ دولت کے بغیر غربت کا خاتمہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہاکہ جب موجودہ حکومت اقتدار میں آئی تو زرمبادلہ کے ذخائر کم تھے اور ادائیگیوں کے لئے ہمارے پاس رقم نہیں تھی۔ ہماری برآمدات کم اور درآمدات زیادہ تھیں۔ ہم برآمدات میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ہماری کوشش ہے کہ سیالکوٹ کی صنعت کو ہر ممکن سہولت فراہم کریں۔ سیالکوٹ، گوجرانوالہ ، گجرات، وزیرآباد، کراچی اور فیصل آباد کی برآمدات بڑھانے کے لئے مدد کرنی چاہیے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار سب سے زیادہ روزگار پیدا کرتے ہیں۔ نوجوان ہماری آبادی کا بڑا حصہ ہیں انہیں روزگار کے مواقع فراہم کرنے ہیں۔ اس سلسلہ میں وزیر اعظم آفس کے تحت وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر اور ٹاسک فورس رکاوٹیں دور کرنے اور چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعت کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کے لئے اقدامات کریں گے۔وزیراعظم نے کہاکہ حکومت نے ٹھوس اقدامات سے جاری کھاتوں کے خسارے پر قابو پایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ میں جدید یونیورسٹی کے قیام کا منصوبہ ہے، اس یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں پر توجہ ہو گی۔ اسی طرح ہم نے ہری پور میں آسٹریا کے تعاون یونیورسٹی قائم کی ہے جہاں پر عالمی معیار کے حامل انجینئرز پیدا ہوں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کاروباری برادری کے ایف بی آر، سٹیٹ بینک اوریوٹیلیٹی کمپنیوں کے حوالے سے مسائل حل کئے جائیں گے۔ عوامی مسائل کے حل کے لئے موثر بدیاتی نظام لارہے ہیں۔ شہروں میں سٹی گورنمنٹس بنائی جائیں گی اور میئر کا انتخاب براہ راست ہوگا اور اپریل کے بعد ان کے انتخابات ہوں گے جو اپنے مقامی مسائل خود حل کرسکیں گے۔