For the first time in 74 years, Pakistan is going to turn Gems, Gewellery and Minerals into an export industry: PM

July 07, 2021

 Prime Minister Imran Khan chaired a meeting of the Gems, Jewellery and Minerals Task Force.


 The meeting was attended by Federal Minister for Industry Makhdoom Khusro Bakhtiar, Special Assistant Dr. Shahbaz Gill, Chairman Gems and Jewelery Task Force Engineer Gull Asghar Khan, Atif Khan, members of the task force and relevant senior officers.


 During the meeting, recommendations were made to the Prime Minister on the restructuring of the Gems, Jewelery and Minerals Division of the Task Force and the proposed Mineral City.


 The meeting was informed that Pakistan has a potential of USD 5 billion annually in terms of exports of precious stones which will have a positive impact on the national economy and create millions of jobs.  Pakistan currently has reserves of 99 types of precious stones and is the eighth largest producer in the world.  Moreover, according to conservative estimates, Pakistan consumes 200 tons of gold annually.  With effective legislation and better management of this sector, it will be transformed into a major export industry.


 The meeting was informed that Gems and Jewellery has been given industry status and its implementation will be ensured as per the strategy of the task force.  In order to increase exports, special attention will be given to export promotion for which assistance will also be sought from Pakistani embassies.  In addition, a Gems and Jewellery City will be set up to pool resources, provide one-window operations to address the problems the sector is facing and provide incentives to investors.  Initially, a public-private partnership model will be adopted using existing resources.  Pakistan will also actively seek sector-related certifications for access to international markets.  It will not only improve the standards of not only precious stones but also precious metals, but will bring the current standards at par with internationally recognized standards.


 The meeting was also informed that despite the availability of research resources in this field, no significant progress has been made.  According to the strategy, all modern standards will be introduced by utilizing the research sector.


 The meeting was also given a detailed briefing on the establishment of Mineral City.  An area has been identified in for the chemical and mineral industry in Pakistan where industrial value addition from crude minerals will not only help reduce imports but also increase foreign exchange from exports.


 The Prime Minister said on the occasion that the government was restructuring the sector with modern technology by changing the traditional practices of the minerals and precious stones sector.  The Prime Minister further directed that all the resources that are being wasted should be utilized and a schedule should be worked out for the implementation of this strategy with clear-cut timelines as well as the existing barriers for investors should be eradicated.



پاکستان  74 سال میں پہلی دفعہ قیمتی پتھروں، ریورات اور معدنیات کے شعبے کو برآمدی صنعت بنانے جا رہا ہے: وزیرِ اعظم



وزیرِ اعظم عمران خان کی زیرِ صدارت جیمز، جیولری اور منرلز ٹاسک فورس کا اجلاس


اجلاس میں وفاقی وزیرِ صنعت مخدوم خسرو بختیار، معاونِ خصوصی ڈاکٹر شہباز گل، چیئرمین جیمز اینڈ جیولری ٹاسک فورس انجینیئر گُل اصغر خان، عاطف خان، ٹاسک فورس کے ارکان اور متعلقہ اعلی افسران کی شرکت


اجلاس میں وزیرِ اعظم کو ٹاسک فورس کی جیمز، جیولری اور منرلز شعبے کی تشکیل نو اور مجوزہ منرل سٹی پر سفارشات پیش کی گئیں


اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان میں قیمتی پتھروں کی برآمدات کے حوالے سے 5 ارب ڈالر سالانہ کی صلاحیت موجود ہے جسکے ساتھ ساتھ ملکی معیشت پر مثبت اثرات اور لاکھوں نوکریاں پیدا ہونگی. پاکستان میں اس وقت 99 قسم کے  قیمتی پتھروں کے ذخائر موجود ہیں اور اس شعبے میں پیداوار کے حوالے  سے پاکستان دنیا میں آٹھواں بڑا ملک ہے. مزید یہ کہ محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں سالانہ 200 ٹن سونے کی کھپت ہے. اس شعبے سے متعلق مؤثر قانون سازی اور بہتر انتظام سے اسے ایک بڑی برآمدی صنعت میں تبدیل کیا جائے گا


اجلاس کو بتایا گیا کہ جیمز اور جیولری کو صنعت کا درجہ دیا جا چکا ہے اور ٹاسک فورس کے لائحہ عمل کے مطابق اس پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا. برآمدات کو بڑھانے کیلئے ایکسپورٹ پروموشن پر خصوصی توجہ دی جائے گی جسکے لئے پاکستانی سفارتخانوں سے بھی مدد لی جائے گی. اسکے علاوہ جیمز اینڈ جیولری سٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا جو وسائل کو ایک جگہ اکٹھا کرنے، شعبے کو درپیش مسائل کے حل کیلئے ون ونڈو آپریشن فراہم کرنے اور سرمایہ کاروں کو مراعات فراہم کرنے کو یقینی بنائے گا. ابتدائی طور پر موجودہ وسائل کو بروئے کار لا کر پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ماڈل اپنایا جائے گا. مزید پاکستان بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کیلئے شعبے سے متعلق سرٹیفیکیشنز بھی حاصل کرے گا. اس میں نہ صرف قیمتی پتھروں بلکہ قیمتی دھاتوں کے سٹینڈرڈز نہ صرف وضح کیے جائیں گے، بلکہ موجودہ معیار کو بین الاقوامی سطح پر رائج معیار پر لایا جائے گا.  


اسکے علاوہ اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ اس شعبے میں تحقیق کے وسائل کی موجودگی کے باوجود کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں کی گئی. لائحہ عمل کے مطابق تحقیق کے شعبے کو فعال بنا کر تمام جدید سٹینڈرڈز متعارف کروائے جائیں گے


اجلاس کو منرل سٹی کے قیام پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی. پاکستان میں کیمیکل و منرل صنعت کیلئے علاقے کی نشاندہی کر لی گئی ہے جہاں خام معدنیات سے صنعتی ویلو ایڈیشن کرکے نہ صرف در آمدات کو کم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ برآمدات سے زرِ مبادلہ میں اضافہ ہوگا


وزیرِ اعظم نے اس موقع پر کہا کہ حکومت معدنیات اور قیمتی پتھروں کے شعبے کے روایتی طریقوں کو بدل کر جدید ٹیکنالوجی سے  اس شعبے کی تشکلیل نو کر رہی ہے. مزید وزیرِ اعظم نے ہدایت دی کہ ایسے تمام وسائل جو ضائع ہو رہے ہیں ان کو بروئے کار لایا جائے اور اس لائحہ عمل پر عملدرآمد کیلئے باقائدہ شیڈول مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں کیلئے موجود رکاوٹوں کا تدارک کیا جائے.