وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس

July 06, 2021

وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کابینہ کو الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی تیاری پر اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ 15جولائی  تک الیکٹرانک ووٹنگ مشین مکمل طور پر تیار کر لی جائے گی۔ مشیر برائے پارلیمانی امور نے الیکٹرانک ووٹنگ اور اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹنگ کا اختیار دینے کے حوالے سے پیش رفت سے آگاہ کیا

 

٭ کابینہ نے جوہر ٹاؤن لاہور واقعے کی تحقیقات کے حوالے سے پنجاب سی ٹی ڈی کی کارکردگی کو سراہا۔

 

ایجنڈا نمبر: 01

٭ وفاقی کابینہ کو گذشتہ اجلاسوں میں لیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کی رپورٹ پیش کی گئی۔ اجلاس  کو بتایا گیا کہ اب تک کابینہ کے 141اجلاس ہوئے ہیں جن میں 3776فیصلے لئے گئے۔ ان میں سے 3444(اکانوے فیصد) پر عمل درآمد ہو چکا ہے۔ 66پر عمل درآمد جاری ہے. 123پر عمل درآمد میں تاخیر ہوئی ہے جبکہ 142فیصلے مفاہمتی یاداشتوں یا معاہدوں سے متعلق ہیں۔ 

 

مختلف وزارتوں سے متعلقہ زیر التوا فیصلوں سے متعلق معاملات پر بھی تفصیلی طور پر غور کیا گیا۔ گلگت اور سکردو ائیر پورٹ پر جہازوں کی آمد ورفت کے نظام کو بہتر کرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے ہوابازی ڈویژن کو ہدایت کی کہ جہازوں میں مخصوص ضروریات کے حامل افراد خصوصاً ان کو جہاز میں سوار کرانے اور اتارنے کے حوالے سے خصوصی انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔

سرکاری ملازمتوں میں بھرتی کے لئے شفاف اور قابل اعتماد ٹیسٹنگ نظام لانے کے حوالے سے وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ اس حوالے سے نظام جلد وضع کیا جائے۔ 

 

کابینہ نے چئیرمین سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں گرین ایریاز کے تحفظ اور وفاقی دارالحکومت میں تجاوزات کے خاتمے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی جائے۔ 

 

وفاقی وزراء، وزرائئ مملکت و دیگر شخصیات کے پروٹوکول اور سیکیورٹی کے حوالے سے معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ اس حوالے سے نظام کا ازسر نو جائزہ لیا جائے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ پروٹوکول اور سیکورٹی کے حوالے سے سادگی کی ابتدا انہوں نے اپنی ذات سے کی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے  وزیر اعظم کی سیکیورٹی اور پروٹوکول کی وجہ سے  عوام کو پہنچنے والی  دقت کو مدنظر رکھتے ہوئے  اپنی نجی و سماجی مصروفیات تقریبا ترک کی ہوئی ہیں تاکہ ان کی آمدورفت کم سے کم ہو۔ 

 وزیرِ اعظم نے ہدایت کی تمام وزراء کی سیکیورٹی ضروریات کا ازسر نو جائزہ لیا جائے اور ان ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کو سیکورٹی فراہم کی جائے گی اور اسی تناظر میں موبائل سکواڈ  کو ساتھ چلنے کی اجازت دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ گاڑی پر جھنڈا لہرانے کے نظام کا بھی از سر نو جائزہ لیا جائے اور کابینہ کے آئندہ اجلاس میں اس حوالے سے تفصیلی پالیسی پیش کی جائے۔ 

 ایجنڈا نمبر: 02

٭ کابینہ نے پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی آرڈیننس 2021اور پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی آرڈیننس 2021کی منظوری دی۔ ان قوانین کا مقصد سول ایوی ایشن کی ریگولیٹری  ذمہ داریوں اور ائیر پورٹس پر سروسز کی فراہمی کے شعبوں کو علیحدہ کرنا ہے تاکہ ان دونوں شعبوں کی بہتری کو یقینی بنایا جا سکے۔ 

ایجنڈا نمبر: 03 

 سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے حوالے سے سے  30جون2021 کو اختتام پذیر مالی سال کے لئے آر ایس ایم اویس حیدر لیاقت نعمان چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کو مقرر کرنے کی منظوری دی گئی۔ 

ایجنڈا نمبر: 04

سابقہ قبائلی علاقوں (انضمام شدہ علاقوں) میں تھری اور فورجی انٹرنیٹ کی سہولت کے حوالے سے بتایا گیا کہ ان علاقوں میں انٹر نیٹ کی جدید سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر اس علاقے میں انٹرنیٹ کی جدید سہولیات کی فراہمی میں دقت ہوئی تاہم باجوڑ اور جنوبی وزیرستان میں تھری جی فورجی کی سہولت مارچ 2019اور جنوری2021میں بالترتیب بحال کر دی گئی تھی۔ دیگر علاقوں کے لئے بھی پی ٹی اے کی جانب سے

 ایک شیڈول مقرر کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر ایک پٹیشن کے جواب میں عدالت کے سامنے بھی یہ شیڈول پیش کر دیا گیا ہے۔کابینہ نے اس امر پر زور دیا کہ سابقہ قبائلی علاقوں میں تھری جی فور جی کی فراہمی کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں۔ کسی بھی سیکورٹی کی صورتحال کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔

ایجنڈا نمبر: 05

کابینہ نے مجوزہ  "اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری سیف سٹی اتھارٹی ایکٹ2021  " پر غور کرتے ہوئے اس مجوزہ قانون کو کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی بھیجنے کی منظوری دی۔ 

ایجنڈا نمبر: 06

کابینہ نے مجوزہ "اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری مینٹیننس آف پبلک آرڈ  ایکٹ  2019 "پر غور کرتے ہوئے اس مجوزہ قانون کو بھی کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کو بھیجنے کی منظوری دی۔ 

ایجنڈا نمبر: 07

کابینہ نے مجوزہ "اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری سیکیورٹی آف ولنیریبل  اسٹیبلشمنٹس ایکٹ 2019 " (The Islamabad Capital Territory Security of Vulnerable Establishments Act)پر غور کرتے ہوئے اسے کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کو بھیجنے کی منظوری دی۔  

ایجنڈا نمبر: 08

کابینہ نے مجوزہ  "اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری ساؤنڈ سسٹم (ریگولیشن) ایکٹ 2019  "(The Islamabad Capital Territory Sound Systems (Regulation) Act 2019)پر غور کرتے ہوئے اس مجوزہ قانون کو بھی کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کو بھیجنے کی منظوری دی۔

 

وزیرِ اعظم عمران خان نے وزیر برائے مذہبی امور کو ہدایت کی کہ صوبہ خیبرپختونخواہ کی طرز پر آئمہ کرام کے لئے مشاہرے اور انکی تربیت کے انتظام کے نظام کے حوالے سے تجاویز پیش کی جائیں۔

ایجنڈا نمبر: 09

٭ کابینہ نے مجوزہ "اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری انفارمیشن آف ٹمپریری ریزیڈنٹس ایکٹ 2019 "(The Islamabad Capital Territory Information of Temporary Residents Act 2019)  پر غور کرتے ہوئے

 اس مجوزہ قانون کو بھی کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کو بھیجنے کی منظوری دی۔

ایجنڈا نمبر: 10

کابینہ نے پیمرا کونسل آف کمپلینٹس بلوچستان کے ممبران کی تعیناتی کی منظوری دی۔ 

ایجنڈا نمبر: 11

کابینہ نے محترمہ سحر زرین بندیال کو پیمرا کونسل آف کمپلینٹس لاہور میں تعینات کرنے کی منظوری دی۔ 

ایجنڈا نمبر: 12

 سی ای او پاکستان جیم اینڈ جیولری ڈویلپمنٹ کمپنی کی تعیناتی کا ایجنڈا موخر کر دیا گیا

ایجنڈا نمبر: 13

کابینہ نے کورنا ویکسین Convidecia جوکہ CanSino Biologics Inc., Chinaکی تیارکردہ ویکسین ہے کی ریٹیل پرائس 12168/=(تین ڈوزز)مقرر کرنے کی منظوری دی۔

 

وزیرِ برائے منصوبہ بندی نے کابینہ کو کورونا وباء کی صورتحال اور خصوصاً انڈین ویریئنٹ کے پھیلاؤ کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کابینہ نے اس امر پر زور دیا کہ ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

کابینہ نے اکانوسٹ رپورٹ میں کورونا کے حوالے سے پاکستان کی کامیابیوں کے اعتراف پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی برائے کوویڈ کی خدمات کو سراہا۔ 

 

ایجنڈا نمبر: 14

 چئیرمین ایمپلائیز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن کی تعیناتی کے حوالے سے کابینہ نے ہدایت کی کہ اس حوالے سے دوبارہ عمل شروع کیا جائے۔ 

ایجنڈا نمبر: 15

کابینہ نے وفاقی حکومت اور اسکے اداروں کی ملکیت میں ملک کے طول و ارض میں واقع اراضی کے بہتر انتظام  اور ان کو بہتر طور پر برؤے کار لانے کے حوالے سے فیڈرل گورنمنٹ پراپرٹیز منیجمنٹ اتھارٹی (Federal Government properties Mangement Authority) کے قیام  کے حوالے سے قانون کی اصولی منظوری دی۔ 

ایجنڈا نمبر: 16

 پاکستان بیورو برائے شماریات میں ممبر (سپورٹ سروسز) کی تعیناتی کے حوالے سے کابینہ نے ہدایت کی کہ تعیناتی کا عمل دوبارہ کیا جائے جس میں موجودہ ممبر بھی حصہ لینے کے اہم ہیں۔  

ایجنڈا نمبر: 17

کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے17جون2021کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی گئی

ایجنڈا نمبر: 18

کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے18جون2021کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی گئی

ایجنڈا نمبر: 19

کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے24جون2021کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی گئی

ایجنڈا نمبر: 20

کابینہ کمیٹی برائے ادارہ جاتی اصلاحات کے 17جون2021کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی گئی

ایجنڈا نمبر: 21

کابینہ نے بجٹ کی تیاری کے دوران ٹیرف کے ضمن میں سامنے آنے والی بے قاعدگیوں کو دور کرنے کے لئے مختلف اشیا پر لاگو ریگولیٹری ڈیوٹی اور ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی کے حوالے سے نیشنل ٹیرف پالیسی بورڈکے فیصلوں کی منظوری دی۔  

 

کابینہ نے مقامی طور پرتیار شدہ گاڑیوں (ہزار سی سی اور کم) پر ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی ختم کرنے جبکہ ہزار سی سی سے اوپر والی گاڑیوں پر اے سی ڈی  سات سے کم کرکے دو فیصد کرنے کی منظوری دی۔ آٹو انڈسٹری کے حوالے سے بقیہ تین تجاویز پر فیصلہ ایک ہفتے کے لئے موخر کر دیا گیا۔  

ایجنڈا نمبر: 22

کابینہ نے G-20 Debt Service Suspension Initiative (Extension)کے تحت تیرہ ملکوں کے ساتھ قرضوں کی ری شیڈولنگ معاہدے کرنے کی منظوری دی۔

ایجنڈانمبر23

کابینہ نے پاکستان اور ازبکستان کے مابین ٹرانزٹ ٹریڈٖ ایگریمنٹ پر دستخط کرنے کی منظوری دی

ایجنڈا نمبر: 24

کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 24جون 2021کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔

ایجنڈا نمبر25:

کابینہ کو معاشی اعشاریوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ 

 کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی مد  میں بتایا گیا کہ  موجودہ حکومت کو ملکی کی تاریخ کا سب سے بڑا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ (بیس ارب ڈالر) ورثے میں ملا تھا لیکن تین سال کی کاوشوں کے نتیجے میں اب یہ اعداو شمار مثبت ہو چکے ہیں۔ 

کابینہ کو بتایا گیا کہ گذشتہ ماہ  درآمدات کی مد میں 7.2ارب ڈالر کا اضافہ سامنے آیا ہے۔ اس میں 15-20فیصد درآمدات مشینری کی درآمد کی مد میں ہوئی ہیں۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ سٹیٹ بنک کے ذخائر میں 5.7ارب ڈالر کا اضافہ ہوئے (پچھلے سال کے مقابلے میں)

کابینہ کو فسکل سیکٹر کے بارے میں بریفنگ۔ رئیل سیکٹر میں کاٹن، چاول، گنا، گندم، مکئی کی پیداوار کے حوالے سے بریفنگ۔ لارج سکیل مینوفیکچرنگ  12.8فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 

کابینہ کو بتایا گیا کہ سی پی آئی اور ایس پی آئی کی مد میں کمی سامنے آئی ہے۔ (Consumer Price Index and Sensitive Price Index)

کابینہ کو بتایا گیا کہ پرائیویٹ انویسٹرز کی جانب سے سرمایہ کاری کا رجحان سامنے آیا ہے۔ کریڈٹ ٹو پرائیویٹ بزنس میں 116فیصد کا اضافہ سامنے آیا ہے۔ فکسڈ انویسٹمنٹ میں خاطرخواہ اضافہ سامنے آیا ہے۔