وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس

September 08, 2020

اسلام آباد،08ستمبر 2020:

 

٭ وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس

 

حالیہ بارشوں کے نتیجے میں ملک کے مختلف حصوں اور خصوصاً 

اندرون سندھ میں ہونے والے نقصانات :

٭ کابینہ اجلاس میں حالیہ بارشوں کے نتیجے میں ملک کے مختلف حصوں بشمول سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخواہ اور پنجاب کے چند علاقوں میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان خصوصاً اندرون سندھ میں ہونے والی تباہ کاریوں اور فصلوں کو پہنچنے والے نقصانات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ این ڈی ایم اے کو ذمہ داری سونپ دی گئی ہے کہ صوبائی حکومتوں سے ملکر ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا جائے تاکہ متاثرین کو ریلیف کی فراہمی کے حوالے سے جامع حکمت عملی ترتیب دی جا سکے۔ 

کراچی ٹرانسفارمیشن پلان:

٭ کراچی ٹرانسفارمیشن پلان اور کراچی کے مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے حوالے سے وفاقی حکومت کی معاونت پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ کراچی ملکی معیشت کے لئے انجن آف گروتھ کا کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی ترقی ملک کی ترقی ہے لہذا وفاقی حکومت کراچی کے مسائل کے حل کے ضمن میں اپنا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پر عزم ہے۔

 

میڈیا کے بقایا جات کی ادائیگی:

٭  وفاقی کابینہ کو بتایا گیا کہ موجودہ حکومت کے دور میں میڈیا کے بقایا جات کے ضمن میں 1.16ارب روپے تھے۔ وزیرِ اعظم کی ہدایت پر تمام سرکاری محکموں کی جانب سے ادائیگی کا عمل شروع کیا گیا ۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ اب تک ایک ارب سے زائد رقم ادا کی جا چکی ہے ۔ 

 

ایجنڈا نمبر: 1

٭ کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے دائرہ اختیار میں توسیع کرنے کی منظوری دی۔ اس کے تحت کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اس امر کا جائزہ لے کہ مجوزہ قانون یا موجود قانون میں مجوزہ ترمیم دیگر قوانین اور آئین سے مطابقت رکھتی ہے اورپارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کمیٹی اس امر کے حوالے سے بھی سفارشات پیش کرے گی کہ کسی نئے قانون ، قواعد یا موجود قانون میں ترامیم حکومت کی پالیسیوں اور آئینی اور قانون سکیم کے مطابق ہیں۔ اگرکسی معاملے پر کمیٹی اور متعلقہ وزارت کی آراءمختلف ہوں گی تو معاملہ کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

 

ایجنڈا نمبر02

٭  کابینہ نے قیصر عالم کو چیئرمین فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن تعینات کرنے کی منظوری دی

 

ایجنڈا نمبر03:

٭موخر کر دیا گیا۔

 

ایجنڈا نمبر04

٭ پورٹ قاسم پر ایل این جی کے نئے ٹرمینل کی تعمیر کے حوالے سے کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ پورٹ قاسم پر نئے ایل این جی ٹرمینل کی تعمیر کے حوالے سے این او سی کا اجراءکیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ موجودہ پائپ لائن میں "پہلے آئے پہلے پایئے"کی بنیاد پر اور نئی گیس پائپ لائن میں نئے ٹرمینل کے آپریٹرز کو کوٹہ دیا جائے گا۔ 

٭ کابینہ نے وزارتِ بحری امور کو ہدایت کی کہ مستقبل کے حوالے سے جامع لائحہ عمل بھی کابینہ کو پیش کیا جائے۔ 

 

ایجنڈا نمبر05

٭ کابینہ نے زائرین کی سہولت کے لئے فیری سروس کے آغاز کی منظوری دی۔ اس مقصد کے لئے کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر پورٹ پر متعلقہ پورٹ اتھارٹیز کی جانب سے مسافرین کی سہولت کے لئے امیگریشن، کسٹم سمیت تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ 

 

ایجنڈا نمبر06

٭ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کی سالانہ رپورٹ برائے 2018-19اور سٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2019کابینہ کے سامنے پیش کی گئی۔ 

٭ کابینہ نے اس امر پر زور دیا کہ آئی پی پیز سے طے پانے والے معاملات کے نتیجے میں مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ 

٭ وزیرِ منصوبہ بندی نے توانائی کے شعبے میں کی جانے والی اصلاحات کے حوالے سے کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ قابل تجدید توانائی کے حوالے سے پالیسی جو اپریل2019ءسے التوا کا شکار تھی بالآخر منظور کرا لی گئی ہے۔

٭ Return on Equityایکویٹی پر واپسی کی شرح کو کم کیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے آئندہ دو تین سال میں تقریبا سو ارب روپے کی بچت ہو گی

٭ کابینہ کو بتایا گیا کہ کم کارکردگی والے پاور پلانٹس (Inefficient ) کو بند کیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کے تحت 1479میگا واٹ کے پلانٹس کو فوری طور پر بند کیا جا رہا ہے جبکہ 1460میگا واٹ کے پلانٹس کو کہ جن کی کارکردگی (efficiency) خراب ہے ستمبر 2022تک بند کر دیا جائے گا۔ 

٭ کابینہ کو بتایا گیا کہ ماضی کی حکومت نے مہنگی گیس خریدتے ہوئے چند پاور پلانٹس کو پابند کیا کہ وہ لازمی گیس خریدیں اور اس وجہ سے انہیں Must Run Plantsقرار دیا گیا تاہم اس حوالے سے ان کی کارکردگی کو مد نظر نہیں رکھا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اب یہ شرط ختم کی 

جا رہی ہے ۔ 

٭ کابینہ کو بتایا گیا کہ کراچی میں بجلی کی کمی کو پورا کرنے کے لئے کے الیکٹرک کی استعداد میں اضافہ کرنے کے لئے capcaityاستعداد کا اضافہ کیا جا رہا ہے یہ عمل آئندہ تین سال میں مکمل ہو جائے گا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ فوری طور پر تین سو سے چار سو میگا واٹ کے الیکٹرک کی کپیسیٹی میں شامل کیا جا رہے ہیں۔ مزید یہ کہ کے الیکٹرک کے ماہانہ نقصانات کم کرنے کے حوالے سے بھی اقدامات لیے جا رہے ہیں۔ 

٭ کابینہ کو بتایا گیا کہ آئی پی پیز سے طے پانے والے معاملات کے نتیجے میں ہر سال سو ارب سے زائد روپے کی بچت ہوگی۔ 


 

ایجنڈا نمبر07

کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 27اگست2020کے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی تو ثیق کی

 

ایجنڈا نمبر08 

٭کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے 27اگست2020کے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی تو ثیق کی

 

ایجنڈا نمبر09

٭ ملتوی کردیا گیا۔


 

ایجنڈا نمبر10

٭ وفاقی کابینہ نے حکومت سندھ کی درخواست پر صوبہ سندھ میں رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع کرنے کی منظوری دی

ایجنڈا نمبر11

٭ کابینہ نے وفاقی دارالحکومت کے لئے کیپیٹل ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے قیام کی منظوری دی 

ایجنڈا نمبر12

٭ ملتوی کر دیا گیا

ایجنڈا نمبر13

٭  کابینہ نے 19مئی2004میں وفاقی دارالحکومت کے زون II, 

IIIاور IVمیں بجلی و گیس کے نئے میٹروں پر لگائی جانے والی پابندی کے فیصلے اور بعد ازاں اس حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلوں کو مد نظر رکھتے ہوئے وزیرِ قانون، مشیر داخلہ، مشیر پارلیمانی امور، وزارتِ منصوبہ بندی کے نمائندے پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو اس حوالے سے مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں ساٹھ دنوں میں سفارشات پیش کرے گی۔ 

 

ایجنڈا نمبر14 

٭  مارگلہ روڈ پر تجاوزات ہٹانے کے حوالے سے کابینہ کی ہدایات پر عمل درآمد میں پیش رفت کی رپورٹ پیش کی گئی۔ 

 

ایجنڈا نمبر15

٭موخر کر دیا گیا۔

ایجنڈا نمبر 16

٭کابینہ نے منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان بیت المال کی مدت ملازمت میں توسیع دینے کی منظوری دی۔

معیاری سہولتوں سے آراستہ ماڈل پناہ گاہوں کی تعمیر

٭ کابینہ کو اسلام آباد میں معیاری سہولتوں سے آراستہ ماڈل پناہ گاہوں کی تعمیر پر بریفنگ۔ گذشتہ روز وزیرِ اعظم نے ترلائی میں ماڈل پناہ گاہ کا دورہ کیا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ اسلام آباد میں ماڈل پناہ گاہوں کی تعمیر اور کامیابی کے بعد اس کا دائرہ کار ملک کے طول و ارض میں پھیلایا جائے گا۔ اس حوالے سے نجی شعبے اور مخیر حضرات کو بھی شامل 

کیا جائے گا۔ 

٭ کابینہ نے معاشرے کے کمزور طبقوں کو ریلیف کی فراہمی اور پناہ گاہوں کا پائیدار ماڈل تشکیل دینے پر معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی کاوشوں کو سراہا۔ کابینہ نے بیت المال کا بہتر انتظام یقینی بنانے پر موجودہ منیجنگ ڈائریکٹر عون عباس بپی کی کاوشوں کو سراہا۔ 

٭ وزیرِ اعظم نے کہا کہ یہ خیال کیا جاتا ہے عوام کی خوشحال کے بعد فلاحی ریاست کا قیام ممکن ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ان کا ماننا ہے کہ فلاحی ریاست کا قیام عوام کی خوشحالی کا باعث بنتا ہے ۔

 

اضافی ایجنڈا 

٭ چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد نے ایس ای سی پی کے ایڈیشنل جوائنٹ ڈائریکٹر ساجد گوندل کی گمشدگی اور بازیابی کے حوالے سے اب تک کی جانے والی کوششوں سے آگاہ کیا۔ وزیرِ اعظم نے چیف کمشنر اور آئی جی اسلام آباد کو ہدایت کی کہ ساجد گوندل کی بازیابی کے لئے ہر ممکنہ کوشش کی جائے۔ کابینہ نے اس حوالے سے اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی ہے تاکہ وہ ان واقعات کا جائزہ لیکر ان کے مستقل تدارک کے لئے سفارشات پیش کرے۔ اس کمیٹی میں وزیرِ قانون، مشیر داخلہ، چیف کمشنر ، آئی جی اسلام آباد و دیگر متعلقین شامل ہوں گے۔

٭ کابینہ نے پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے لئے ڈائریکٹر کے عہدے کے لئے نمائندگان کی منظوری دی۔