وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی برائے ہاؤسنگ، کنسٹرکشن  اینڈ ڈویلپمنٹ  کا ہفتہ وار اجلاس.

August 20, 2020

اسلام آباد: 20 اگست 2020

 

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی برائے ہاؤسنگ، کنسٹرکشن  اینڈ ڈویلپمنٹ  کا ہفتہ وار اجلاس.

 

اجلاس میں  وزیرِ اطلاعات  سینیٹر شبلی فراز، معاونین خصوصی ملک امین اسلم،  لیفٹنٹ جنرل(ر) عاصم سلیم باجوہ،  سید ذوالفقار عباس بخاری، ڈاکٹر شہباز گل، گورنر اسٹیٹ بنک ڈاکٹر رضا باقر، چئیرمین نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی لیفٹنٹ جنرل(ر) انور علی حیدر و دیگر سینئر افسران شریک

 

اجلاس میں ملک کے تمام بڑے بنکوں کے صدور اور آباد کے نمائندگان بھی شریک۔

 

اجلاس میں شرکاء کوتعمیرات کےشعبے میں بنکوں کی جانب سے آسان قرضوں اور رقوم کی فراہمی کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت پر بریفنگ۔ 

 

صدر پاکستان بنکس ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم کو بریف کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے تعمیرات کے فروغ کے لیے موافق پالیسیوں اور بنکوں کے لیے سہولت کاری سے نجی بنکوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ تمام بنک تعمیرات کے فروغ خصوصا کم اور درمیانہ آمدنی والے افراد کو گھر کی سہولت کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

 

صدر بنک آف پنجاب اور صدر بنک الفلاح نے نیا پاکستان ہاوسنگ پروگرام کے تحت گھروں کی تعمیر کے فروغ کے لیے متعارف کرائے جانے والے پراڈکٹس پر بریفنگ دی۔ دیگر بنکوں کے صدور نے وزیر اعظم کو بتایا کہ تعمیرات کے فروغ کے حوالے سے بنکوں کی جانب سے پراڈکٹ تیار کیے جا چکے ہیں جو کہ بہت جلد متعارف کرا دیے جائیں گے۔


 

وزیر اعظم نے بنکوں کی جانب  سے تعمیرات کے شعبے میں متحرک کردار ادا کرنے کے عزم پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعمیرات کا شعبہ معیشت کے فروغ کا ضامن ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعمیرات کے شعبے کے فروغ سے بنکوں کے لیے منافع بخش بزنس کے بے شمار مواقع میسر آئیں گے۔ 


 

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی جانب سےبنکوں کے تمام تحفظات کو دور کر دیا گیا ہے۔ بنکوں کی جانب سے دیے جانے والے قرضوں پر حکومت کی جانب سے اعلان کردہ سبسڈی کی فوری فراہمی کے لیے سٹیٹ بنک کو با اختیار بنا دیا گیا ہے۔ فورکلوژر قوانین کے معاملے کی موثر پیروی کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم 

 

ویر اعظم عمران خان نے بنکوں کو ہدایت کی کہ گھروں کی تعمیر کے حوالے سے درخواستوں کو آسان اور سہل بنایا جائے تاکہ کم اور درمیانہ آمدنی والے افراد اس سہولت سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہو سکیں-