وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت کراچی کی تعمیرو ترقی کے لئے  وفاقی حکومت کی جانب سے مکمل  ہونے والے اور نئے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے جائزہ اجلاس

March 13, 2020

اسلام آباد، 13مارچ 2020:

 

وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت کراچی کی تعمیرو ترقی کے لئے  وفاقی حکومت کی جانب سے مکمل  ہونے والے اور نئے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے جائزہ اجلاس

 

اجلاس میں وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر،  وزیر برائے بحری امور سید علی حیدر زیدی، گورنر سندھ عمران اسماعیل، متعلقہ وفاقی و صوبائی سیکرٹری صاحبان و دیگر سینئر افسران شریک

 

وزیرِ اعظم کو سندھ کے لئے وفاقی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ 162 ارب روپے   کے ترقیاتی پیکیج کے حوالے سے اب تک کی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ

 

اجلاس میں اب تک   مکمل شدہ اور جون 2020 تک مکمل کیے جانے والے منصوبوں ،   خصوصاً کراچی کی تعمیرو ترقی کے لئے نئے ترقیاتی منصوبوں اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت مختلف اہم منصوبوں پر بریفنگ

 

اجلاس کو بتایا گیا کہ سخی حسن فلائی ، فائیو سٹار اور کے ڈی اے فلائی اووز،  6.4 کلومیٹر طویل نشتر روڈ   جبکہ  منگھوپیر سڑک  کے ایک حصے کا افتتاح گذشتہ ہفتے کیا گیا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گرین لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم کا انفراسٹرکچر مارچ 2021تک مکمل کر لیا جائے گا۔ بنارس سے جام چکرو تک 66انچ کی واٹر سپلائی  لائن کا 95 فیصد کام مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ بقیہ کام اپریل تک مکمل کر لیا جائے گا۔ کراچی میونسپل کارپوریشن کے فائر فائٹنگ سسٹم کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے بتایا گیا کہ اب تک اس منصوبے پر ایک ارب سے زائد خرچ کیے جا چکے ہیں اس منصوبے کے تحت پچاس فائر ٹینڈرز سسٹم میں شامل کیے جائیں گے۔ 

 

اجلاس میں جناح ایونیو پر فلائی اوور کی تعیمر، گرین لائن کو فعالیت کے حوالے سے پیش رفت، سندھ کے دیگر علاقوں میں پرایم منسٹر پیکیج کے حوالے سے ترقیاتی منصوبوں اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت مختلف بڑے منصوبوں خصوصاً واٹر فلٹریشن پلانٹس،  لیاری ایکسپریس وے کی بہتری،  کراچی ناردرن بائی پاس کی توسیع وغیرہ جیسے منصوبوں  کے حوالے سے بھی  تفصیلی بریفنگ

 

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سندھ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی کی   تنظیم نو اور استعداد کار میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ ترقیاتی منصوبوں پر  بروقت عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے ۔   

 

وزیرِ اعظم نے کہا کہ کراچی میں پانی صاف کرنے خصوصاً سیوریج اور آبی آلودگی کے مسئلے پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ 

 

وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی ترقی کراچی کی ترقی سے وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی ملکی معیشت میں انجن آف گروتھ کا کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کی ترقی کے برآمدات میں اضافہ جبکہ برآمدات میں اضافے کو یقینی بنانے کےلئے ضروری ہے کہ کراچی کی بندرگاہیں اور نقل و حمل  کی سہولتوں کو مزید بہتر بنایا جائے۔  وزیرِ اعظم نے  کہا کہ کراچی کی آبادی کےلحاظ سے تعمیر و ترقی ا ور شہری سہولیات کی ضروریات کو  ماضی میں نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت  کراچی کی تعمیرو ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے ضمن میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے حوالے سے پرعزم ہے۔