وزیر اعظم  عمران خان سے اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی منیجنگ کمیٹی  کی ملاقات 

March 11, 2020

وزیر اعظم  عمران خان سے اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی منیجنگ کمیٹی  کی ملاقات 

 

وزیر برائے بحری امور سید علی حیدر زیدی، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، گورنر سٹیٹ بنک رضا باقر، اور سینئر افسران بھی موجود

 

اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شہزاد دادا نے وزیرِ اعظم کو بتایا کہ  چیمبردو سو کمپنیوں پر مشتمل ہے جو کہ 35 ممالک میں موجود ہیں اور    مختلف شعبوں میں کاروباری سرگرمیاں سر انجام دے رہی ہیں۔ شہزاد داد نے بتایا کہ پاکستان کے ٹیکس ریونیو میں ایک تہائی حصہ او آئی سی سی آئی کمپنیوں کی جانب سے ادا کیا جاتا ہے ۔ او آئی سی سی آئی کمپنیوں کی جانب سے چھ سو ملین ڈالر سے زائد  کی برآمدات کی جا رہی ہیں جن کو دو ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے ۔  انہوں نے کہا کہ اوآئی سی سی آئی  سے وابستہ کمپنیوں کی جانب سے اس وقت دس لاکھ افراد کو نوکریوں کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔  

 

صدر او آئی سی سی آئی نے چیمبر کی جانب سے حکومتی پالیسیوں خصوصاً معاشی استحکام، کاروبار موافق پالیسیوں کی تشکیل اورمارکیٹ میں استحکام کو یقینی  بنانے کے حوالے سے حکومتی معاشی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ چیمبر کی جانب سے کیے جانے والے سروے کے مطابق موجودہ دورِ حکومت میں جہاں حکومتی ٹیم کے کاروباری طبقے سے تعلق اور روابط بہتر ہوئے ہیں وہاں حکومتی معاشی ٹیم میں کاروبار کے حوالے سے ایشوز کو بہتر طور پر سمجھا اور حل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بہتر سیکورٹی اور امن و امان کی صورتحال اور حکومت کی جانب سے کاروبار موافق پالیسیوں کے اجرا نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔    صدر او آئی سی سی آئی نےمعاشی سرگرمیوں  کو دستاویزی شکل دینے کے سلسلے  میں حکومتی کاوشوں کو خصوصی طور پر سراہتے ہوئے کہا کہ غیر رسمی معیشت کو دستاویزی شکل دینے سے جہاں حکومت کے ریونیو میں اضافہ ہوگا وہاں  یہ کاوش  قانون کے دائرے میں رہ کر  کام کرنے والی اور ریجسٹرڈ کمپنیوں کے لئے نہایت حوصلہ افزا ہے۔ 

 

وفد نے معیشت کی بہتری کے لئے حکومت کی جانب سے لیے گئے اہم فیصلوں جن میں روپے کی اصل قیمت کی بحالی، پالیسیوں پر عمل درآمد کے سلسلے میں کی جانب والی کاوشوں، ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کی کوششوں، کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے اور دیگر اقدامات کو بھی خصوصی طور پر سراہا۔ کاروبار موافق فضا کو مزید بہتر کرنے کے حوالے سے وفد نے مختلف تجاویز بھی وزیرِ اعظم کو پیش کیں۔ 

 

وزیرِ اعظم نے وفد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری برادری کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کاروباری برادری کی جانب سے تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ  حکومت کاروباری برادری کو مزید آسانیاں فراہم کرنے کے لئے پر عزم ہے۔ وزیرِ اعظم نے مشیر تجارت کو ہدایت کی کہ او آئی سی سی آئی  کی تجاویز کا جائزہ لیا جائے تاکہ چیمبر سے وابستہ کمپنیوں کی جانب سے نشاندہی  کیے جانے والے معاملات کو فوری طور پر حل کیا جا سکے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت کاروباری برادری کی مشاورت سے پالیسوں کی تشکیل ، پالیسیوں پر من و عن عمل درآمد اور ان کا تسلسل چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ کاروباری طبقے کو مطلوبہ استحکام کی فضا کی فراہمی کو یقینی بنا یا جائے  تاکہ وہ پاکستان میں مختلف شعبوں میں موجود مواقعوں کا بھرپور فائدہ اٹھا سکیں اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو۔