وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت دریاؤں اور نہروں میں سیوریج اور گندگی کی وجہ سے پیدا ہونے والی آبی آلودگی کی روک تھام کے حوالے سے اجلاس

March 03, 2020

 
وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت دریاؤں اور نہروں میں سیوریج اور گندگی کی وجہ سے پیدا ہونے والی آبی آلودگی کی روک تھام کے حوالے سے اجلاس

اجلاس میں   وزیرِ برائے بحری امور سید علی   حیدر زیدی، مشیر موسمیاتی تبدیلی  ملک امین اسلم ، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان  ،وفاق اور صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے سینئر افسران شریک

اجلاس میں بتایا گیا کہ اس وقت ملک کا 93 فیصد پانی زرعی مقاصد، 5 فیصد صنعتی شعبے اور 2 فیصد گھریلو مقاصد کے لئے استعمال ہو رہا ہے۔ زمینی سطح پر دریائے چناب، دریائے کابل اور دریائے سندھ آبی آلودگی کا شکار ہو رہے ہیں جبکہ ملک کی چھ کروڑ آبادی زمینی پانی  کی آلودگی کا شکار ہو رہی ہے۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ کراچی میں تقریباً نوے فیصد زیر زمین پانی آلودگی کا شکار ہے۔  میونسپل سطح پر مختلف شہروں میں محض دس فیصد پانی کو جزوی طور پر ٹریٹ کیا جاتا ہےجبکہ صنعتی سطح پر محض ایک فیصد پانی کو صاف کیا جاتا ہے۔ زرعی شعبے میں استعمال ہونے والے فرٹیلائزر  ز پانی کی آلودگی کا باعث بن رہے ہیں۔

وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ ورلڈ بنک کے ایک اندازے کے مطابق تقریباً چالیس فیصد اموات پانی کی آلودگی کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے ہو رہی ہیں جبکہ اس آلودگی سے آبی حیات بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ  سروے کے مطابق وزیرِ اعظم عمران خان کی ذاتی کاوشوں سے اس وقت تقریباً 75 فیصد آبادی میں ماحولیاتی آلودگی کے نقصانات کے بارے میں شعور پایا جاتا ہے۔

اجلاس کے دوران چیف سیکرٹری خیبرپختونخواہ   اور صوبہ پنجاب کے متعلقہ  افسران نے صوبہ خیبرپختونخواہ اور صوبہ پنجاب میں سیوریج اور گندگی کے نتیجے میں پھیلنے والی آبی آلودگی     کی روک تھام کے حوالے سے مختلف منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا۔

وزیرِ اعظم  کو بتایا گیا کہ صوبہ پنجاب میں سیوریج اور گندگی کے نتیجے میں پھیلنے والی آبی اور ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام کے لئے صوبہ بھر میں 36منصوبے زیر غور ہیں۔ ان منصوبوں میں ایشیئن ڈویلپمنٹ بنک، ورلڈ بنک اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی معاونت بھی شامل ہے۔
 
چیف سیکرٹری خیبرپختونخواہ نے آبی آلودگی کی روک تھام کے حوالے سے مختلف منصوبوں پر وزیرِ اعظم کو تفصیلی بریفنگ دی۔ اس حوالے سے انہوں نے دریائے سوات، دریائے کابل میں آبی آلودگی کی روک تھام،  پشاور، ایبٹ آباد، مردان جیسے خیبر پختونخواہ  کے بڑے شہروں میں سیوریج کو ٹھکانے لگانے کے منصوبوں، حطار اور پشاور انڈسٹرئیل اسٹیٹ میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کے قیام اور صوبہ پنجاب کی طرز پر ہسپتالوں کے  فضلہ جات کو ٹھکانے لگانے کے حوالے سے بریفنگ دی

وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آبی آلودگی  ایک نہایت سنجیدہ معاملہ ہے ۔آبی آلودگی کی وجہ سے عوام کی صحت  اور معیشت پر منفی اثرات  کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مسئلے پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

وزیرِ اعظم نے مشیر موسمیاتی تبدیلی  کو ہدایت کی کہ آبی آلودگی کی روک تھام کے حوالے سے  صوبوں کی مشاور ت سے جامع حکمت عملی اور ٹائم لائنز پر مبنی روڈ میپ آئندہ پندرہ دنوں میں مرتب کیا جائے تاکہ اس حوالے سے عملی اقدامات کو حتمی شکل دیکر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔

وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ  نئے قائم ہونے والی انڈسٹرئیل اسٹیٹس اور نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں قانون کے مطابق واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی موجودگی اور فعالی کو یقینی بنایا جائے