وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک میں کپاس کی بحالی کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس

February 25, 2020

اسلام آباد،25فروری 2020:

٭  وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک میں کپاس کی بحالی کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس

٭ اجلاس میں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی، جہانگیر خان ترین، وزیرِ برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی مخدوم خسرو بختیار، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، مشیر ماحولیات ملک امین اسلم، سید فخر امام، وزیر زراعت پنجاب نعمان لنگڑیال، وفاقی و صوبائی سیکرٹری صاحبان، کاٹن سے منسلک ماہرین، ایپٹما، سیڈ سیکٹر، ادویات، کسان اتحاد کے نمائندگان و دیگر متعلقہ افراد شریک

٭ اجلاس میں ملک میں کاٹن کی موجودہ صورتحال، کاٹن کو درپیش چیلنجز،  پیداواری لاگت سے متعلقہ مسائل،  ریسرچ اداروں  اور سیڈ سیکٹر سے متعلقہ معاملات، کپاس کی فصل کو کیڑوں مثلاً وائٹ فلائی، پنک بال وارم سے بچاؤ کے حوالے سے درپیش چیلنجز پر قابو پانے کے لئے مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ

٭ کاٹن کے شعبے میں ریسرچ کو موثر بنانے کے لئے پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کی تنظیم نو کا فیصلہ 

٭ سیڈ سیکٹر میں اصلاحات اور سیڈز کی منظوری کے عمل کو آسان، تیز تر اور سہل بنانے کا فیصلہ

٭ کپاس کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں پر قابو پانے کے لائحہ عمل کی منظوری

 ٭ پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کی تنظیم نو کے ذریعے ادارے کو خودمختار بنانے اور نجی شعبے کو موثر نمائندگی دینے کا فیصلہ

٭  تنظیم نو کے بعد پی سی سی سی  وزارتِ نیشنل فوڈ سیکیورٹی، وزارت ٹیکسٹائل کے سینئر نمائندگان، کاٹن کمشنر، محکمہ زراعت کے صوبائی سیکرٹری صاحبان، ٹیکسٹائل سیکٹر کے چار نمائندگان، کاٹن جنرز کے دو نمائندگان، کاٹن ٹریڈرز کے نمائندے، سیڈ پروڈیوسرز کے دو نمائندگان، چار کسان نمائندوں، ایک ماہر اور چیف ایگزیکیٹو پر مشتمل ہوگی

٭ کمیٹی کو موثر بنانے کی غرض سے مطلوبہ مالی وسائل کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے کاٹن سیس کے ضمن میں حکومت اور ایپٹمامیں مکمل اتفاق 

٭ حکومت کی جانب سے پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کے لئے ریسرچ انڈومنٹ فنڈ کے قیام کا فیصلہ

٭  ریسرچ کے شعبے میں بہتری کے لئے تمام ضروری اقدامات بشمول کاٹن سیس ایکٹ 1923میں ترمیم، ماہر افرادی قوت پورا کرنے اورریسرچ انڈومنٹ  کے قیام کے لئے ٹائم لائنز پر مبنی روڈ میپ منظور 

٭ ٹرانسجینک ٹیکنالوجی متعارت کرانے کے لئے اعلیٰ سطحی کاٹن ٹیکنالوجی اسٹیرنگ کمیٹی کے قیام کا فیصلہ۔ اس ضمن میں سیکرٹری نیشنل فوڈ سیکیورٹی کی سربراہی میں ایگزیکیٹو کمیٹی اپنی سفارشات وزیرِ اعظم کو پیش کرے گی۔ 

٭ سیڈز کے حوالے سے وفاق اور صوبائی حکومتوں کے مابین معاملات کے حل کے لئے  وفاقی اور صوبائی نمائندگان پر مشتمل کمیٹی کے قیام کا فیصلہ۔ کمیٹی  کو31مارچ تک تمام معاملات حل کرنے کا ٹاسک سونپ دیا گیا۔ 

٭  سیڈ ورائٹی کی منظوری کے عمل کو تیز اور سہل بنانے کے لئے طریقہ کار منظور 

٭  اجلاس میں کاٹن سیزن 2020کے حوالے سے ضروری اقدامات کی بھی منظوری

٭ کاٹن کی ممکنہ قیمت (انڈیکیٹو پرائس) کے تعین کے لئے وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری کامرس، سیکرٹری ٹیکسٹائل اور پرائیوٹ سیکٹر سے تعلق رکھنے والے دیگر اسٹیک ہولڈر (ایپٹما، جنرز، کسان) پر مشتمل کمیٹی کے قیام کا فیصلہ، کمیٹی کاٹن سیزن 2020شروع ہونے سے قبل اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ 

٭ کپاس کی فصل کو  وائٹ فلائی، پنک بال وارم  جیسے کیڑوں سے بچانے کے لئے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال

٭  اجلاس میں ایپٹما، کسان اتحاد، سیڈ سیکٹر و دیگر متعلقین نے کاٹن کی بحالی کے حوالے سے منظور کیے جانے والے روڈ میپ پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کاوشوں کی مکمل حمایت کا یقین دلایا

٭ وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں کاٹن کی بحالی اور اس شعبے میں ملکی استعداد سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے حوالے سے تمام متعلقین کے درمیان پائے جانے والے اتفاق رائے پر اطمینا ن کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ کاٹن کی بحالی سے کسان اور ٹیکسٹائل کے شعبے کو فائدہ پہنچے گاجس کے نتیجے میں ملکی معیشت میں بہتری آئے گی۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ایک زرعی ملک ہونے کے ناطے زرعی شعبے میں ریسرچ کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت کی جانب سے نیشنل ایگریکلچر ایمرجنسی پروگرام کا مقصد زرعی شعبے کو درپیش مسائل کو دور کرتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی کا فروغ اور پیداوار میں اضافے کو یقینی بنانا ہے۔