وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت  ملک کا تشخص اور  نئے پاکستان کی شناخت  کو اجاگر کرنے کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس

February 24, 2020

وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت  ملک کا تشخص اور  نئے پاکستان کی شناخت  کو اجاگر کرنے کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس

 

اجلاس میں    وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر تعلیم شفقت محمود، معاون خصوصی سید ذوالفقار عباس بخاری، معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی معید  یوسف، سینٹر فیصل جاوید شریک

 

اجلاس میں بتایا گیا کہ موجودہ دورِ حکومت میں نہ صرف سفارتی سطح پر بلکہ اندرون ملک کئی شعبوں میں خاطر خواہ  کامیابیاں نصیب ہوئی ہیں جس سے عالمی سطح پر ملک کا وقار بلند ہوا ہے اور  اندرون اور بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنی شناخت پر فخر محسوس کرنے لگے ہیں۔ 

 

کئی دہائیوں کے بعد آج پاکستان کسی اور کی جنگ نہیں لڑ رہا بلکہ دنیا میں امن کے فروغ میں متحرک پارٹنر کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس ضمن میں افغانستان میں امن کی کوششوں میں پاکستان کا کردار، مسلم امہ میں اتحاد کے فروغ کے لئے حکومت پاکستان کی کاوشیں،  ملک اور خطے کی ترقی کے لئے سی پیک منصوبے میں چین کے ساتھ پارٹنر شپ اور عالمی طاقتوں کی جانب سے علاقائی امن میں کردار کا اعتراف بدلتے پاکستان کا عکاس ہے۔    

 

نیا پاکستان مسلم امہ کے مابین اتحاد اور بھائی چارے کے فروغ میں پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ 

 

موجودہ حکومت کی کوششوں کی بدولت ملکی معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ موجودہ دورِ حکومت میں سی پیک کو وسعت دیکر کئی اہم شعبہ جات اس اہم منصوبے میں شامل کیے گئے جس سے نہ صرف تعمیر و ترقی کا سفر تیز ہوا ہے بلکہ ہزاروں کی تعداد میں نوکریوں کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ 

 

سفارتی محاذ پر آج پاکستان تنہائی کا شکار نہیں بلکہ عالمی سطح پر ایک ذمہ دار ملک کا کردار ادا کر رہا ہے۔ 

 

وزیرِ اعظم عمران خان کے وژن کے مطابق نئے پاکستان میں ان معاملات پر توجہ دی جا رہی ہے جو ماضی میں یکسر نظر انداز کیے جاتے رہے۔ ان میں ماحولیات کے تحفظ  کے لئے اقدامات  اوراسلام  فوبیا کے خلاف موثر آواز بلند کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ 

 

ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ وزیرِ اعظم پاکستان نے منی لانڈرنگ کے عفریت کے خلاف اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے آواز بلند کی۔

 

اندرونی سطح پر ترقی کے سفر میں تمام طبقات کو شامل کیا جانا، کمزور اور ناتواں طبقات کے لئے جامع سماجی تحفظ کے پروگرام کا اجرا اور ریاست کی جانب سے کمزور اور غریب طبقے کی کفالت کا سہرا موجودہ حکومت کے سر ہے۔ 

 

ایک ایسا پاکستا ن جو امن و امان سے متعلقہ مسائل سے گھر اتھا اور جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اربوں ڈالر کے مالی نقصان  اور ہزاروں جانوں کا نذرانہ دینے کے باوجود بھی غیر محفوظ سمجھا جاتا تھا آج ایک نئے تشخص کے ساتھ عالمی سطح پر ابھر رہا ہے۔ اس کا اعتراف حالیہ دنوں میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے بھی واضح الفاظ میں کیا گیا۔

 

موجودہ  دورِحکومت میں جہاں امن وامان کی صورتحال میں  واضح بہتری آئی ہے وہاں  حکومت  بیرونی دنیا سے پاکستان آنے والے سیاحوں، سرمایہ کاروں اور دیگر افراد کو خوش آمدید کر رہی ہے۔ 

 

اجلاس میں بتایا گیا کہ جہاں بھارت میں اقلیتوں کے لئے زمین تنگ کر دی گئی ہے وہاں حکومت پاکستان اقلیتوں کے حقوق کا نہ صرف تحفظ کر رہی ہے بلکہ انکے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہوئے کرتار پور جیسے اقدامات اٹھا رہی ہے۔ 

 

ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ ایک وزیرِ اعظم نے بیرون ملک قید پاکستانیوں کے لئے آواز اٹھائی اور ساڑھے آٹھ  ہزار  سے زائدپاکستانیوں کی واپسی یقینی بنائی

 

آج کا پاکستان  عالمی سطح پر خوددار پاکستان کے طور پر  ابھر رہا ہے۔ 

 

وزیرِ اعظم نے معاون ِ خصوصی برائے اطلاعات کو ہدایت کی کہ پاکستان کے اصل تشخص کو ملکی اور عالمی سطح  پر اجاگر کرنے کے لئے بھرپور کوششیں کی جائیں