وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس

March 16, 2021

٭ نوشہرہ میں ریلوے کی زمین پر کثیر المنزلہ عمارت کی تعمیرکے حوالے سے  کابینہ کو بریفنگ کا ایجنڈا  ایک ہفتے کے لئے موخر کر دیا گیا۔

٭ بڑے پیمانے پر مالی نقصان کرنے والے سرکاری اداروں کا فارنزک آڈٹ کرانے  کے معاملے پر کابینہ کو  بریف کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ یہ آڈٹ اے جی پی اور معروف نجی کمپنیوں سے کرایا جائے گا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ پہلے مرحلے میں پاکستان ریلویز، پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز کارپوریشن، سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ، پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی اور جینکو تھری ناردرن پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ کا فارنزک آڈٹ کرایا جا رہا ہے یہ عمل تیس جون 2021تک مکمل ہو جائے گا۔ اگلے مرحلے میں پاکستان پوسٹ، کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی، حیدرآباد  الیکٹرک سپلائی کمپنی،لاہور  الیکٹرک سپلائی کمپنی اور سکھر  الیکٹرک سپلائی کمپنی کا آڈٹ کرایا جائے گا۔

٭ کابینہ نے ڈاکٹر راجا مظہر حمید کو منیجنگ ڈائریکٹر نیشنل بک فاؤنڈیشن تعینات کرنے کی منظوری دی۔

٭ کابینہ نے ممنوعہ اور غیر ممنوعہ اسلحہ لائسنسوں کی چند درخواستوں پر غور کرتے ہوئے ان لائسنسز کے اجراء کی منظوری دی۔

٭ کابینہ نے حکومت گلگت کی ریکوسٹ پر گلت بلتستان سکاؤٹس کی سترہ پلاٹونوں کو گلگت بلتستان میں ایک سال سال کے لئے انٹرنل سیکورٹی پر مامورکرنے کی ایکس پوسٹ فیکٹو (بعد از وقوع  واقعہ) منظوری دی۔

٭ کابینہ نے  چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ کے عہدے کا اضافی چارچ نادر ممتاز کو مزید تین ماہ کے لئے دینے کی منظوری دی۔

٭ کابینہ نے  ہومیو ڈاکٹر راؤ غلام مرتضیٰ کے بطور صدر نیشنل کونسل فار ہومیو پیتھی اور ہومیو ڈاکٹر سعید الرحمان خٹک کے بطور وائس چیئرمین  نوٹیفیکیشن کے اجراء کی منظوری دی۔

٭ کابینہ نے ڈاکٹر سید سیف الرحمن کو سندھ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے سی ای او کا اضافی چارج دینے کی منظوری دی۔

٭  کابینہ نے پٹرولیم پالیسی 2012کے تحت  جمع کیے جانے والے ویلفیئر فنڈ کے استعمال کی گائیڈ لائنز میں ترمیم کی منظوری دی۔ ترامیم کے مطابق ویلفیئر فنڈ کے  علاقے میں استعمال کے حوالے سے ترجیحات کا تعین کرنے والی کمیٹی میں متعلقہ علاقے کا منتخب نمائندہ  شامل ہوگا اور وہ کمیٹی کا چئیرمین ہوگا۔کمیٹی کا سربراہ وفاقی وزیر مقرر کرے گا۔ اس کے علاوہ  صحت، تعلیم، واٹر سپلائی اور ڈرینیج  (نکاسی) کے ساتھ ساتھ ویلفیئر فنڈ  ڈرگ سے متعلقہ ٓگاہی، سپورٹس کا فروغ، خصوصی ضروریات کے حامل افراد (معذور افراد)، تعلیمی  سہولتوں  کی بہتری،  پینے کے صاف پانی کی فراہمی، صحت، سڑکوں کی تعمیر اور مقامی طالبعلموں کو سکالرشپ دینے پر خرچ کیا جا سکے گا۔
اگر کوئی منصوبہ دو حلقوں میں واقع ہے تو دونوں حلقوں میں ویلفیئر فنڈ کی مد میں اکاؤنٹ کھولا جائے گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ دونوں حلقوں میں ان فنڈ کی منصفانہ  استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔

٭کابینہ نے پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں، جن کے پاس پہلے پروف آف ریجسٹریشن موجود ہے، کے لئے سمارٹ کارڈ کے اجراء کی منظوری دی۔ان کارڈ کی معیاد دو سال ہوگی۔ ان کارڈز میں افغان مہاجرین کی اضافی معلومات جن میں ان کا سماجی و معاشی پروفائل، پاکستان میں ان کی نقل و حرکت اور فیملی کے غیر ریجسٹرڈ ممبرز کی تفصیلات بھی درج ہوں گی۔

٭    کابینہ کو موجودہ  حکومت کے دور میں گیس ڈویلپمنٹ منصوبوں پر عمل درآمدکی پیش رفت اور تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔
 کابینہ کو بتایا گیا کہ رواں سال ساڑھے چار لاکھ نئے گیس میٹر لگ چکے ہیں جبکہ اس سال کا ہدف چھ لاکھ نئے میٹر ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ اگلے سال تک بارہ لاکھ میٹر لگانے کا ہدف مکمل کیا جائے گا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ اب تک ملک کی ستائیس فیصد آبادی کو پائپ گیس میسر آرہی ہے۔ حکومت کی بھرپور کوشش کے کہ گیس نیٹ ورک کو مزید وسیع کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ آبادی پائپ گیس کی سہولت سے مستفید ہو۔
کابینہ نے اس بات پر زور دیا کہ گیس کے شعبے میں گردشی قرضوں کے مسئلے پر قابو پانے اور گیس کے حوالے سے آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ لوکل اور درآمد شدہ گیس کی weighted average cost  ویٹیڈ  اوسط قیمت مقرر کی جائے۔  
کابینہ نے ہدایت کی کہ اب تک تکمیل شدہ و جاری گیس ڈویلپمنٹ منصوبوں کی تمام تفصیلات آئندہ کابینہ کے سامنے پیش کی جائیں۔

٭  اجلاس نے کابینہ کمیٹی برائے ادارہ جاتی اصلاحات  کے 11فروری2021اور 18فروری 2021کے اجلاسوں میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔
٭ کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 10مارچ 2021 کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔
    )     اس ضمن میں ایک اہم فیصلہ Auto Disable Syringes  کی درآمد اور مقامی طور پر ایسی سرنج کی تیاری کے         لئے استعمال ہونے والے خام مال کی درآمد پر ٹیکسوں میں چھوٹ دینے کی منظوری شامل ہے۔

    )    ان فیصلوں میں 7.8 ارب روپے کا تاریخی رمضان پیکیج  کی منظوری بھی شامل ہے۔ اس پیکیج کے مطابق انیس             چیزوں کو     رعایتی قیمتوں پر فراہم کیا جائے گا۔ 

    )    کابینہ کو بتایا گیا کہ حکومتی کوششوں کے باعث یوٹیلیٹی اسٹورز کی سیل چھ ارب سے بڑھ کر دس ارب ہو گئی  ہے اور اس             سال آمدن و اخراجات میں توازن  (بریک ایون) حاصل ہو جائے گا

    )    کابینہ میں قواعد و ضوابط کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجن میں ردوبدل کے معاملے پر بھی تفصیلی بات ہوئی۔         کابینہ نے قانون کی خلاف ورزیوں میں ملوث کمپنیوں کے خلاف  کاروائی کرنے کی منظوری دی۔

٭ کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے 04مارچ 2021، 11مارچ 2021 اور 15مارچ 2021کے اجلاسوں میں لئے گئے فیصلوں کی منظوری دی گئی۔

٭  کابینہ نے  عون عباس بپی کے بطور  منیجنگ ڈائریکٹر بیت المال استعفے کی منظوری دی۔

٭ کابینہ نے وزیر اعظم عمران خان کے  پروگرام   "کوئی بھوکا نہ سوئے"کی افادیت کو  سراہتے ہوئے کہا کہ اب تک موصول ہونے والے فیڈ بیک کے مطابق اس پروگرام سے بے سہارا اور غربت کا شکار افراد کو خاطر خواہ  ریلیف میسر آ رہا ہے۔  معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ نے بتایا کہ اندرون و بیرون ملک سے مخیر حضرات  کی جانب سے اس پروگرام میں حصہ ڈالنے کے لئے دلچسپی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

٭ کابینہ کو  غریب افراد کواحساس پروگرام کے تحت ٹارگیٹڈ سبسڈی کی فراہم کے پلان سے آگاہ کیا گیا۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ اس پروگرام کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے تاکہ حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی سبسڈی مستحقین تک پہنچانے اور اسکا موثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔