وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت پاکستان ریلویز میں جاری اصلاحاتی عمل، کراچی سرکولر ریلوے منصوبے میں پیش رفت اور پرائم منسٹر ریلوے گرین انیشیئیٹو کے حوالے سے اجلاس

March 15, 2021

اجلاس میں وزیرِ ریلوے  محمد اعظم خان سواتی، وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر، مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین، وفاقی سیکرٹری صاحبان اور سینئر افسران شریک

 

کراچی شہر کے مسائل کے حل کے حوالے سے بتایا گیا کہ  لاہور کراچی ریلوے ٹریک  کے متوازی  مال بردار گاڑیوں کے لئے ایک مخصوص فریٹ کواریڈور بنائے جانے کا منصوبہ زیر غور ہے جس کے ذریعے پپری کو کراچی پورٹ ٹرسٹ سے ملایا جائے گا۔اس کواریڈور کے نتیجے میں مال برداری میں آسانی اور شہر میں ٹریفک کے مسائل میں کمی واقع ہوگی۔

 

کراچی سرکولر ریلوے منصوبے کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس حوالے سے پاکستان ریلوے نے بی او ٹی بنیادوں پر  ماڈل تیار کیا ہے جس کے ذریعے  مسافروں کو بہتر سروس کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

 

منصوبے کے ٹیکنیکل ڈیزائن  اور فنانشل ماڈل کی تیاری کے حوالے سے کنسلٹنٹ مقرر کر دیا گیا ہے۔  جو تیس دنوں میں اپنی تجاویز پیش کرے گا۔

 

ریلوے اصلاحات کے حوالے سے بتایا گیا کہ  پاکستان ریلویز کے نقصانات میں کمی لانے اور ادارے کو ڈوبنے سے بچانے کے حوالے سے مفصل اصلاحاتی پروگرام پر کام جاری ہے۔ اس ضمن میں نہ صرف نجی شعبے کو ریلوے آپریشنز میں شریک کیا جا رہا ہے بلکہ ادارے میں آٹو میشن جیسی کلیدی اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں۔

 

اجلاس کو بتایا گیا کہ اب تک چار ٹرینیوں کی نجکاری کی جا چکی ہے اور مزید پندرہ ٹرینوں کو پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کرنے پر کام جاری ہے۔

 

ریل ٹورازم کے حوالے سے بتایا گیا کہ راولپنڈی سے اٹک تک سفاری ٹرین کا آغاز کر دیا گیا ہے جس کا انتظام نجی شعبے کے پاس ہے۔

 

وزیرِ اعظم کو ایم ایل ون منصوبے کی پیش رفت پر بھی بریفنگ

 

کلین اینڈ گرین مہم کے حوالے سے بتایا گیا کہ شجر کاری کے لئے  221 کلومیٹر لمبے ٹریک کے ساتھ زمین کی نشاندہی کی جا چکی ہے جہاں درخت لگائے جائیں گے ۔

 

وزیرِ اعظم نے ریلوے اصلاحات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے جیسے قومی ادارے کو خسارے سے باہر نکالنے کے لئے بلا تعطل اصلاحاتی عمل کو یقینی بنانا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہتر ریلوے نظام سے نہ صرف عوام کو آمد و رفت کی بہتر سہولیات میسر آئیں گی بلکہ اس سے ٹریفک سے متعلقہ مسائل کو حل کرنے اور معاشی  بہتری کے حوالے سے بھی مدد ملے گی۔

 

وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ اصلاحاتی عمل کے حوالے سے پیش رفت پر انہیں مسلسل آگاہ رکھا جائے