وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت بجلی کی قیمتوں اور خصوصاً بجلی کے شعبے میں گردشی قرضوں میں کمی لانے کے حوالے سے اجلاس

March 12, 2021

اجلاس میں  وفاقی وزراء مخدوم خسرو بختیار، ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، محمد حماد اظہر، سید فخر امام، عمر ایوب، اسد عمر ، معاونین خصوصی ندیم بابر، ڈاکٹر وقار مسعود، تابش گوہر، سابق وزیرخزانہ شوکت ترین، وفاقی سیکرٹری صاحبان و دیگر سینئر افسران شریک

وزیرِ اعظم کو بجلی کی موجودہ قیمتوں، گردشی قرضوں اور ان قرضوں میں کمی لانے کے حوالے سے  مجوزہ حکمت عملی پر بریفنگ

اجلاس کو بتایا گیا کہ موجودہ حکومت کی کوششوں کے نتیجے میں  جہاں تکنیکی و غیر تکنیکی نقصانات میں کمی کا رجحان سامنے آیا ہے وہاں بجلی کے بلوں کی وصولیوں میں بھی بہتری آئی ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹربیوشن لاسز (ترسیل و تقسیم ) میں مزید کمی لانے کے لئے حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے ۔

بھرپور کوشش ہے    ترسیل و تقسیم  کی مد میں ہونے والے   اصل نقصانات  اور نیپرا کی جانب سے منظور شدہ شرح کے درمیان  فرق کو کم ترین سطح پر لایا جا سکے۔

 وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ نقصانات پر قابو پانے اور وصولیوں کو بہتر کرنے کے حوالے سے آئندہ دو سالوں میں مقرر کردہ ٹارگٹ  کے نتیجے میں تقریباً  سواتین سو ارب روپے کی بہتری آئے گی جس کا فائدہ صارفین کو میسر آئے گا۔
وزیر اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ حکومتوں کی جانب سے جہاں ایک طرف بجلی کے مہنگے ترین منصوبے لگائے گئے وہاں ترسیل و تقسیم کے نقصانات پر قابو پانے اور سسٹم کی خرابیوں کو ٹھیک کرنے کے پہلو کو نظر انداز کیا جاتا رہا جس کا بوجھ عوام کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ ماضی کی کوہتایوں کے نتیجے میں آج عوام پس رہی ہے۔

وزیرِ اعظم نے بجلی کے شعبے میں بہتری کے حوالے سے تجویز کردہ حکمت عملی کے حوالے سے ہدایت کی کہ ان اہداف کے حصول کے تمام متعلقہ وزارتوں کی ذمہ داریاں واضح کی جائیں تاکہ  اقدامات پر عمل درآمد اور اہداف کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے ۔