وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امن امان کی صورتحال، ترقیاتی امور  اور شہریوں کو بہترین شہری سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے جائزہ اجلاس

January 30, 2020

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امن امان کی صورتحال، ترقیاتی امور  اور شہریوں کو بہترین شہری سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے جائزہ اجلاس

 

اجلاس میں وزیر تعلیم  شفقت محمود،  وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر،  معاون خصوصی علی نواز اعوان،  ممبر قومی اسمبلی راجہ خرم شہزاد نواز، چیرمین سی ڈی اے عامر احمد علی،  آئی جی اسلام آباد محمد عامر ذولفقار خان اور سینئیر افسران شریک

 

چیئرمین سی ڈی اے نے وزیرِ اعظم کو وفاقی دارالحکومت میں جاری ترقیاتی منصوبوں، شہریوں کو  بین الاقوامی معیار کی شہری سہولتوں کی فراہمی کے حوالے  سے تفصیلی طور پر بریف کیا۔ 

 

سی ڈی اے کومتحرک ادارہ بنانے، عوام الناس کو سہولیات کی بلا تعطل فراہمی کے ضمن میں اٹھائے جانے والے  اقدامات، وفاقی دارالحکومت کے  انتظامی امور میں بہتری  لانے کے حوالے سے لئے گئے نئے اقدامات، ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت، محصولات کی وصولی میں اضافے، لینڈ ریکارڈ، ڈومیسائل،گاڑیوں کی رجسٹریشن، اسلحہ لائسنس کی ڈیجیٹائزیشن اور شہریوں کے لئے دیگر سہولتوں کی ایک چھت تلے فراہمی  کے لئے قائم کیے گئے مراکز جیسے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ۔

 

چیئرمین سی ڈی اے نے بتایا  کہ  وفاقی دارالحکومت میں اراضی کی خرید و فروخت   اور لینڈ ریکارڈکے  نظام کو ڈیجیٹل بنا یا جا رہا ہے اور اس ضمن میں بائیومیٹرک سسٹم  متعارف کرایا گیا ہے ۔ اسلام آباد کے قیام کے بعد  پہلی دفعہ   ڈی سی ریٹ کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے ۔ اسلام آباد کا لینڈ ریکارڈ اگلے 6 ماہ تک کمپیوٹرائز  کر دیا جائے گا۔ انتظامی ڈھانچےکو موثر بنانے کے لئے اس کا ازسر نو جائزہ لیا جا رہا ہے ۔پراپرٹیز اور  گاڑیوں سے متعلقہ ٹیکسز کی شرح کے از سر نو تعین کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی ۔

 

وزیراعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی ڈی اے میں اصلاحات کا بنیادی مقصد عوام کو  بہترین شہری سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ معاشی و اقتصادی عمل میں نمایاں اضافہ ہونا چاہیے تاکہ روزگار کے مواقع فراہم ہوں اور لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہو۔ 

 

شہریوں کو سہولیات کی فراہمی اور شہر کی خوبصورتی برقرار رکھنے کے  حوالے سے جاری منصوبوں  سےشرکاء کو آگاہ کیا گیا ۔  جی سیون  اور جی ایٹ انڈر پاسز،  اتاترک ایونیو کو دو رویہ   کرنے ، برما بریج کی تعمیر اور کیپیٹل ہسپتال میں اضافی بلاک کی تعمیر جیسے منصوبوں پر اب تک کی پیش رفت سے وزیرِ اعظم کو آگاہ کیا گیا۔ ۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ  اسلام آباد ایکسپریس وے پر مختلف مقامات پر شجر کاری کی جا رہی ہے۔ 

 

صحت کی سہولیات کی فراہمی  میں بہتری  کی غرض سے اٹھائے جانے والے  اقدامات کے حوالے سے بھی  اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ سی ڈی اے ہسپتال میں 100 بستروں کا اضافہ کیا جا رہا ہے، پمز اور پولی کلینک کی توسیع کی جا رہی ہے جبکہ اسلام آباد کے 16 بنیادی مراکز صحت میں ادویات کی بلا تعطل فراہمی، عملے کی موجودگی کو یقینی بنانے اور ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرنے کے حوالے سے  اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔ 

 

وفاقی دارالحکومت میں تعلیم کی سہولیات کی بہتری کے حوالے سے مجوزہ اقدامات سے بھی  شرکاء کو آگاہ کیا گیا۔ 

 

وزیراعظم عمران خان نے صحت اورتعلیم کے حوالے سے اہداف  اور درکار وسائل کی نشاندہی  کے عمل کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ صحت اور تعلیم کے موجود انتظامی ڈھانچے کومکمل طور پر فعال بنایا جائے تاکہ موجود وسائل سے مکمل طور پر استفادہ حاصل  کیا جا سکے۔

 

وزیرِ اعظم نے اسلام آباد میں ماحولیات کے تحفظ اور شہر کے قدرتی حسن کو برقرار رکھنے پر خصوصی توجہ دینے  کی ہدایت کی 

 

آئ جی اسلام آباد نے اجلاس کو وفاقی دارالحکومت میں امن و امان کی مجموعی صورتحال میں بہتری کے حوالے سے لئے گئے حالیہ اور مستقبل میں مجوزہ اقدامات پر شرکاء کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی دارالحکومت میں جرائم کی روک تھام میں اسلام آباد پولیس نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اسٹریٹ کرائم کے تدارک کیلئے پولیس کو سہولیات میسر کی جا رہی ہیں اور عملے کی کمی کو پورا کرنے کے لئے اقدامات لئے جا رہے ہیں ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پولیس نے وفاقی دارالحکومت میں شہریوں کی سہولت کے مراکز، موبائل یونٹس، ناکوں پر باڈی کیمروں کی فراہمی کےساتھ ساتھ ماڈل پولیس اسٹیشنز اور  تنازعات کے حل کے لئے کمیٹیوں  قائم کی ہیں۔ 

آئی جی  پولیس نے گذشتہ سالوں کی نسبت امن و امان کی صورتحال  کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سال 2019 میں سنگین جرائم کی شرح میں اٹھارہ فیصد کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے اسلام آباد کو فیملئ اسٹیشن قرار دیا جانا اور ورلڈ کرائم انڈیکس کی جانب سے اسلام آباد کو پاکستان کا محفوظ ترین شہر اور دنیا کے 66 محفوظ شہروں میں شمار کیا جانا امن و امان کی صورتحال میں بہتری کا عکاس ہے۔ 

 

وزیراعظم عمران خان نے وفاقی دارالحکومت میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہر لحاظ سے ایک ماڈل سٹی ہونا چاہئے ۔ وزیراعظم نے خصوصی طور کمزور طبقے کے تحفظ  کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا ۔وزیراعظم نے بڑے جرائم پیشہ عناصر اور قبضہ مافیا کے گرد مزید گھیرا تنگ کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ کمزور اور غریب طبقے کا تحفظ ہر صورت ممکن بنایا جائے ۔ وزیراعظم عمران خان ۔