وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک میں گندم کی صورتحال، ملکی ضروریات  ، موجود سٹاک اور مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے حوالے سے لائحہ عمل پر اجلاس

January 29, 2020

اسلام آباد: 29 جنوری 2020

 

وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک میں گندم کی صورتحال، ملکی ضروریات  ، موجود سٹاک اور مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے حوالے سے لائحہ عمل پر اجلاس

 

 

اجلاس میں وزیرِ برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی مخدوم خسرو بختیار، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر ، وزیرِ توانائی عمر ایوب، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدا لحفیظ شیخ اور سینئر افسران   شریک 

 

سیکرٹری فوڈ سیکیورٹی نے اجلاس کو گندم کے حوالے سے مجموعی  صورتحال، گذشتہ سالوں میں گندم کی پیداوار، ملکی کھپت، ماضی میں گندم کی برآمدو درآمد اور موجودہ صورتحال کے حوالے سے تفصیلی طور پر بریف کیا

 

گندم اور آٹے کے حوالے سے حالیہ دنوں میں پیش آنے والے حالات اور انکی وجوہات پر بھی بریفنگ

 

وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ ملکی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے اقتصادی رابطہ کمیٹی گندم کی  درآمد کی اجازت دے چکی ہے۔ اس درآمد پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔ 

 

وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ ملک میں فصلوں /اجناسکی پیداوار کے  اعداد و شمار مرتب کرنے کے  نظام (کراپ رپورٹنگ سسٹم ) کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے تاکہ فصلوں کی پیداوار کے بارے میں درست ڈیٹا بروقت میسر آئے ۔

 

وزیرِ اعظم نے کہا کہ گندم/آٹا   بنیادی ضرورت ہے لہذا اس حوالے سے عوام کو کسی قسم کی قلت کا سامنا نہیں ہونا  چاہیے ۔ ملکی ضروریات  کے مطابق گندم پوری کرنے  کو یقینی  بنانےکے لیے ہر ممکنہ اقدام اٹھایا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ملک کے کسی بھی حصے میں گندم یا آٹے کی کمی کی شکایت نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی روک تھام پر خصوصی توجہ دی جائے۔

 

وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ آنے والے مہینوں میں گندم کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے  پیشگی منصوبہ بندی کی جائے اور اس ضمن میں تخمینوں اور طریقہ کار کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے