: وزیر اعظم عمران خان سے صدر وفاقی ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان میاں انجم نثار کی سربراہی میں ایف پی سی سی آئی وفد کی اسلام آباد میں ملاقات۔

January 13, 2020

: اسلام آباد، 13جنوری 2020:

 

: وزیر اعظم عمران خان سے صدر وفاقی ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان میاں انجم نثار کی سربراہی میں ایف پی سی سی آئی وفد کی اسلام آباد میں ملاقات۔

 

وفد میں نائب صدور عبدالقیوم قریشی (سندھ)، قیصر خان (خیبر پختونخوا)، زاہد اقبال (پنجاب)، محمد علی قائد (اسلام آباد)، ندیم شیخ (سمال ٹریڈرز) ، روحی رضوان (وویمن چیمبر) اور ایوان ہائے صنعت وتجارت کے دیگر عہدےداران شامل۔ 

 

ملاقات میں وزیر توانائی عمر ایوب،  مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد،  معاون خصوصی ندیم بابر،  چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ سید زبیر حیدر گیلانی اور سینئر افسران بھی موجود۔ 

 

وزیر اعظم نے وفاقی ایوان ہائے صنعت و تجارت کے نو منتخب عہدےداران کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ تاجر برادری ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔  موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی پہلے دن سے صنعت کاروں اور تاجر برادری سے روابط استوار کیے  اور آج دن تک اہم امور پر مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔

 

*حکومت ٹریڈ باڈیز کو فعال اور تھنک ٹینک کے طور پر دیکھنا چاہتی ہے۔وزیراعظم

 

صدر ایف پی سی سی آئی  نے وزیر اعظم اور حکومتی معاشی ٹیم کو معیشت کے استحکام کے لیے اٹھاے گئے اقدامات پر خراج تحسین پیش کیا اور حکومتی پالیسیوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے بھرپور حمایت کی یقین دہانی کرائی۔

 

ہم نے درست فیصلے کرکے معیشت کو آئی سی یو سے نکالاہے۔  وزیراعظم

 

*سولہ ماہ میں میکرو انڈیکیٹرز میں گروتھ شروع ہو گئی ہے۔ وزیراعظم

 

*سٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ 40% اضافہ سرمایہ داروں کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔  وزیر اعظم عمران خان

 

 

وزیر اعظم نے وفد سے گفتگو کرتے ہوے کہا کہ 1960 کے بعد یہ پہلی حکومت ہے جس نے صنعتوں کے فروغ اور برآمدات میں اضافے پر توجہ مرکوز کی۔  وزیر اعظم نے کہا کہ مشکل ترین معاشی حالات کے باوجود حکومت نے مالی استحکام حاصل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج روپے کی قدر مستحکم ہو رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ روپے کی قدر مستحکم ہونے سے قیمتوں  اورمعیشت میں مزید استحکام آئے گا اور صنعتوں کے لیے بجلی ، گیس اور دیگر ضروریات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے  گی۔

 

وزیر  اعظم نے کہاکہ بیمار صنعتوں کی بحالی کے لیے ایک مفصل اور جامع حکمت عملی کا جلد اجرا کیا جائے گا۔ صنعتی اداروں کی فعالی سے معیشت کا پہیہ چلے گا اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔  وزیرِ اعظم نے کہا کہ مشکلات کے باوجود حکومت نے صنعتوں کے لئے بجلی اور گیس کی فراہمی کو ممکن بنایا تاکہ  ملکی پیداوار متاثر نہ ہو۔ 

 

وزیر توانائی عمر ایوب نے وفد کو آگاہ کیا کہ پچھلی حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے بجلی اور گیس کی چوری عام تھی جس کی وجہ سے قیمتیں بڑھیں۔  موجودہ حکومت نے بجلی چوری کی روک تھام سے ١١٢ ارب روپے کی بچت کی۔ اسی بچت کی بدولت صنعتوں کو سستی بجلی فراہم  ممکن بنائی جاسکے گی۔

 

وزیر اعظم نے وفد کو دعوت دی کہ صنعتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے قابل تجدید توانائی کے منصوبے لگائیں جس میں حکومت تعاون فراہم کرے گی۔ 

 

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت صنعتوں کے فروغ کے لیے کاروباری طبقے سے رہنمائی حاصل کرنا چاہتی ہے تاکہ حقیقی ترقی ممکن ہو سکے اور عوام کو روزگار کے مواقع فراہم ہوں۔ 

 

 

وزیر اعظم نے وفد کی تجویز پر بزنس کونسل میں ایف پی سی سی آئی نمائندوں کی شمولیت کی منظوری دی۔

 

وفد نے وزیرِ اعظم کو تاجر برادری کو درپیش مسائل خصوصاً بنکوں سے قرضوں کے حصول،   واجبات کے حصول  اور برآمدات کے ضمن میں مہنگی بجلی و گیس  اور دیگر مشکلات سے آگاہ کیا۔ وزیرِ اعظم نے وفد کو یقین دلایا کہ حکومت  ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ پاکستانی مصنوعات بین الاقوامی  منڈیوں میں  دیگر ملکوں کی مصنوعات کامقابلہ کر سکیں اور پاکستانی تاجر برادری کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جا سکے۔