وزیرِ اعظم عمران خان سے ورجینیا یونیورسٹی کے طلبا ء کے وفد کی ملاقات

January 06, 2020

اسلام آباد،06جنوری 2020:

 

٭ وزیرِ اعظم عمران خان سے ورجینیا یونیورسٹی کے طلبا ء کے وفد کی ملاقات

 

٭  ورجینیا یونیورسٹی کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن سے تعلق رکھنے والے طلباء کے دورے کا مقصد پاکستان میں بزنس کے مواقع اور سیاحت کے حوالے سے موجود پوٹیشنل کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا ہے۔ 

 

٭  ملاقات میں پاکستان کو درپیش چیلنجز، موجودہ حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے، پاکستانی معاشرے کے مثبت پہلووں، مختلف شعبوں میں موجود ملک کے پوٹیشنل، معیشت کو درپیش مسائل اور مستقبل کے لائحہ عمل پربات چیت

 

٭ طلباء  نے مختلف موضوعات پر وزیرِ اعظم سے سوالات کیے۔ 

 

٭ طلباء سے بات چیت کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے پناہ وسائل سے نوازا ہے۔ بد قسمتی سے معاشرے میں کرپشن کے ناسور اور انسانی وسائل کے فروغ کو نظر انداز کیے جانے سے ملکی ترقی کا عمل جمود کا شکار ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ساٹھ کی

دہائیوں میں پاکستان جنوبی ایشیا ء میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والا ملک تھا لیکن ستر اور اسی کی دہائیوں کے سیاسی فلسفوں کی وجہ سے جہاں صنعتی عمل جمود کا شکار ہوا وہاں سیاست میں پیسہ اور کرپشن شامل ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں عام آدمی کی حالت زار اور بڑے ایوانوں میں کرپشن اور لوٹ کھسوٹ کے پیش نظر انہوں نے سیاست میں قدم رکھا اور بائیس سال کی مسلسل جدوجہد کی بدولت ان کی جماعت نے ملک کی دو بڑی سیاسی پارٹیوں کو شکست دی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقابلہ مافیا سے جو ملک کی ترقی کی راہ میں حائل رہا ہے۔ 

وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملکی ترقی میں انسانی وسائل کا فروغ اور ہیومن ڈویلپمنٹ کی اہمیت مسلم ہے۔ ماضی کی حکومتوں نے ملک کے انسانی وسائل کے فروغ کو جہاں یکسر طور پر نظر انداز کیا وہاں تعلیم اوردیگر شعبوں میں اصلاحات پر بھی توجہ نہیں دی گئی۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ان کے سامنے بڑا چیلنج جہاں ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہے وہاں تعلیمی نظام کو بہتر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تین مختلف نظام تعلیم کی موجودگی انسانی وسائل کے فروغ اور ترقی کی راہ میں بڑا چیلنج ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت یکساں تعلیمی نصاب کے لئے کوشاں ہے تاکہ تعلیمی نظام کی بنیاد پر معاشرے میں پائی جانے والی تفریق کو ختم کیا جا سکے۔ 

 

٭  معیشت پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے جب اقتدار سنبھالا تو ملک سنگین معاشی حالات کا شکا ر تھا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی کاوشوں کی بدولت معیشت میں استحکام آیا ہے اور معاشی اقتصادی اعشاریوں میں واضح بہتری آئی ہے۔ انہوں

نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پچاس لاکھ سستے گھروں کی تعمیر و دیگر ترقیاتی منصوبوں  اور  کاروباری موافق پالیسیوں کی بدولت معیشت میں مزید بہتری آئے گی اور معاشی عمل تیز ہوگا۔ 

 

٭ وزیرِ اعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت اقلیتوں کے حقوق کے مکمل تحفظ اور انکو ملک کا برابر شہری تصور کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مذہب اسلام اور بابائے قوم کی تعلیمات ہمیں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا درس دیتی ہیں۔    

 

٭ خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ بھارت حکومت کی آر ایس ایس نظریے پر مبنی پالیسیوں کی وجہ سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سرکار کی فسطائی پالیسیوں کی وجہ سے خود بھارتی عوام کی شناخت خطرے میں پڑ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی سرکار کی پالیسیوں نے بھارت میں مقیم پانچ سو ملین اقلیتوں کے تشخص اور وجود کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ وزیرِ اعظم نے مقبوضہ کشمیر میں 150دنوں سے زائد جاری کرفیو کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت سرکار کے اس ظلم و ستم نے بھارت کے جمہوری دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔ 

 

٭ وزیرِ اعظم نے طلباء کے پاکستان میں خوشگوارقیام اور ملک کے بارے میں آگاہی حاصل کرنے کے مقصد کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا