وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک بھر میں اشیائے ضروریہ  (آٹا، چاول، گھی، چینی، دالیں، سبزی وغیرہ) کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس

January 01, 2020

اسلام آباد،01جنوری2020:

٭ وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک بھر میں اشیائے ضروریہ  (آٹا، چاول، گھی، چینی، دالیں، سبزی وغیرہ) کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس

٭   اجلاس میں مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، معاون ِ خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخواہ محمود خان،  وفاقی سیکرٹری صاحبان، پنجاب، خیبرپختونخواہ اور سندھ کے چیف سیکرٹری صاحبان و دیگر سینئر افسران شریک

٭  اجلاس میں وفاقی حکومت میں رائج "درست دام"اپلیکیشن کے نظام کو صوبوں کے بڑے شہروں میں متعارف کرانے  میں پیش رفت، دودھ،  ملاوٹ، خوردنی تیل،  گوشت، مصالحوں، دالوں، چائے کی پتی و دیگر کھانے پینے کی اشیاء  میں ملاوٹ کے خلاف کریک ڈاؤن،  اشیائے ضروریہ کی طلب و رسد پر نظر رکھنے اور مستقبل کی ضروریات کے مدنظر تخمینوں کے حوالے سے خصوصی سیل کے قیام،اجناس کی  براہ راست فروخت اور کسانوں کی سہولت کے لئے تحصیل کی سطح پر "کسان مارکیٹ"کے قیام کے حوالے سے پیش رفت  اور شہری اور دیہی علاقوں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ جیسے معاملات پر تفصیلی  بریفنگ

٭ چیف سیکرٹری خیبرپختونخواہ ڈاکٹر کاظم نیاز نے بتایا کہ عوام کو اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے کے لئے  وفاقی دارالحکومت  کی طرز پر "درست دام"اپلیکیشن جنوری کے پہلے ہفتے میں پشاور، مردان اور ایبٹ آباد میں شروع کر دی جائے گی۔ 

٭ چیف سیکرٹری خیبرپختونخواہ نے بتایا کہ اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ  کے خلاف کریک ڈاؤن کے حوالے صوبے بھر سے 2122نمونے اکٹھے کیے گئے جن کو حکومت کی جدید لیبارٹریز اور پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹرئیل ریسرچ کے ذریعے چیک کرایا گیا۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ حاصل ہونے والے اعدادو شمار کے مطابق دودھ میں شہری علاقوں میں 44.2فیصد پانی کی ملاوٹ جبکہ دیہی علاقوں میں 50.5فیصد ملاوٹ پائی گئی۔ دودھ میں کمیکل ملانے کا تناسب شہری علاقوں میں 3.14فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں تقریبا ایک فیصد پایا گیا۔ 

٭ خوردنی تیل میں فری فیٹی ایسڈ کی ملاوٹ شہری علاقوں میں 75فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 60.71فیصد پائی گئی۔  

٭  کم عمر اور بیماری زدہ گوشت کی شرح شہری علاقوں میں 1.71فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 2.85فیصد پائی گئی۔ گوشت میں پانی اور کلر (رنگ) ملانے کی شرح شہری علاقوں میں تقریباً تین فیصد جبکہ یہ دیہی علاقوں میں یہ شرح دس فیصد سے زائد پائی گئی۔ 

٭  مصالحوں میں رنگ کی شرح شہری علاقوں میں بیس فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں تقریباً نو فیصد پائی گئی

٭ چائے کی پتی میں رنگ و دیگر ملاوٹی اجزاء کی شرح شہری علاقوں میں تقریباً تیس فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح تقریباً یچیس فیصد پائی گئی۔ 

٭ دالوں میں کلر(رنگ)، دیگر بیج اور ریت و پتھر کی ملاوٹ کی شرح تقریبا چار فیصد کے لگ بھگ پائی گئی۔ 

٭ دیگر صوبائی چیف سیکرٹری صاحبان کی جانب سے بھی اسی طرح کے اعدادوشمار اجلاس میں پیش کیے گئے۔ 

٭ وزیرِ اعظم نے اشیائے خورودونوش میں ملاوٹ پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملاوٹ کے مرتکب عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ ایسے افراد محض چندسکوں کے عوض عوام کی زندگیوں اور صحت کے ساتھ کھیل رہے ہیں ایسے عناصر کے خلاف بھرپور ایکشن لیا جائے۔ 

٭ ڈاکٹر کاظم نیاز نے بتایا کہ صوبائی حکومت ملاوٹ کے تدارک کے لئے منظم حکمت عملی کے تحت اس مہم کو آگے بڑھا رہی ہے جس میں تمام متعلقہ اداروں کے درمیان کوارڈینیشن و معاونت کو یقینی بنایا جا رہاہے۔ اس ضمن میں عوام میں آگاہی کے لئے بھی بھرپور تشہیری مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں تعلیمی اداروں میں اسپیشل کلاسز کا آغاز کیا گیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ دیگر قانون اور انتظامی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

٭ چیف سیکرٹری خیبرپختونخواہ نے بتایا ملاوٹ کے خلاف اقدامات کو مزیدمنظم کرنے کے لئے ٹیکنالوجی اور جیو ٹیگنگ کو برؤے کار لایا جا رہا ہے اشیا کے معیار کے تعین پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ 

٭ ملاوٹ کے خلاف انتظامی اقدامات پر بریف کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے بتایا کہ اب تک  صوبے بھر میں بیس ہزارانسپیکشن کی جا چکی ہیں جن کے نتیجے میں تقریباً ساڑھے تین ہزار نوٹسز کا اجراء جبکہ تقریبا ستر لاکھ جرمانہ کیا جا چکا ہے۔ تقریبا دو لاکھ کلو گرام/لیٹر اجناس کو تلف کیا گیا جبکہ چار سو مقامات کو سیل کیا گیا۔ 

٭ دیہی اور شہری علاقوں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ مجموعی طور پر قیمتوں میں استحکام آیا ہے جبکہ ان اقدامات کے نتیجے میں باسمتی چاول کی قیمت میں سولہ روپے کمی، پاکستانی ٹماٹر کی قیمت میں پچپن روپے، دال ماش کی قیمت میں تقریبا دو روپے کمی واقع ہوئی ہے۔   

٭ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ خیبرپختونخواہ میں 28اضلاع میں 73کسان مارکیٹیں قائم کی جا چکی ہیں جہاں کسان براہ راست اپنی فصل فروخت کرتے ہیں۔ 

چیف سیکرٹری پنجاب میجر (ر) اعظم سلیمان نے بتایا کہ اشیائے ضروریہ کی طلب و رسد اور تخمینوں کے حوالے سے وزیرِ اعظم کی ہدایات کی روشنی میں کمیٹی قائم کی جا چکی ہے۔ 

٭ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے دسمبر میں 29500مقامات کی انسپیکشن کی گئی۔ 

انہوں نے کہا کہ گذشتہ ماہ سامنے آنے والے اعدادوشمار کے مطابق ٹماٹر، آلو اور پیاز کی قیمتیں کم ہوئی ہیں جبکہ آٹا، چاول، خوردنی تیل، دالوں اور چینی کی قیمتوں میں استحکام رہا ہے۔ چیف سیکرٹری نے بتایا کہ گذشتہ ماہ برائلر چکن کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کی بنیادی وجہ طلب میں اضافہ اور موسمی حالات تھے۔ 

٭ شہری اور دیہی علاقوں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب نے بتایا کہ ٹماٹر کی قیمتوں میں چالیس روپے کمی، آلو کی قیمت میں بارہ روپے، آٹا، دال اور چاول کی قیمتوں میں دو سے تین روپے کمی واقع ہوئی ہے جبکہ دیگر چیزوں کی قیمتیں مستحکم رہی ہیں۔ 

٭ چیف سیکرٹری پنجاب نے بتایا کہ اشیاء کی قیمتوں کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے  اور گراں فروشی پر قابو پانے کے لئے راولپنڈی میں "قیمت"اپلیکیشن شروع کی جا چکی ہے۔ قیمت اپلیکیشن اب تک چھ لاکھ افراد ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں۔ اس اپلیکیشن پر شکایات کے ازالے کی شرح 99فیصد رہی ہے۔ اس اپلیکیشن کی بدولت دو گھنٹے میں شکایت کا ازالہ کیا جاتا ہے۔

٭ عوام کی دہلیز تک اشیائے ضروریہ پہنچانے کے حوالے سے آن لائن ہوم ڈیلیوری سسٹم کا راولپنڈی سے باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ 

٭ پنجاب کے 19اضلاع میں 32ماڈل بازار قائم کیے جا چکے ہیں  جبکہ 95تحصیلوں میں جگہوں کی شناخت کی جا چکی ہے۔ 

٭ چیف سیکرٹری پنجاب نے بتایا کہ فروٹ اور سبزیوں کے ضمن میں لاہور اور فیصل آباد میں گریڈنگ سسٹم شروع کیا جا چکا ہے جس کو بتدریج پورے صوبے میں نافذ کیا جائے گا۔ 

٭ قیمتوں پر قابو پانے، ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کریک ڈاؤن کے حوالے سے اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس ضمن میں فروٹ اور سبزی مارکیٹوں میں آر ایف آئی ڈی سسٹم)ریڈیو فریکوئنسی آئیڈنٹیفیکیشن)، سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب اور پرائس مجسٹریٹس کی کارکردگی کی مسلسل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔  

٭ چیف سیکرٹری پنجاب نے بتایا کہ  ذخیرہ اندوزی پر موثر قابو پانے کے لئے صوبے میں موجود اجناس کا تخمینہ لگایا جا چکا ہے اور اسکا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔ 

٭ چیف سیکرٹری نے بتایا کہ اب تک 82کسان مارکیٹوں کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے۔ 

٭ چیف سیکرٹری سندھ اور سیکرٹری صنعت بلوچستان نے بھی قیمتوں کو قابو میں رکھنے، ملاوٹ کے خلاف کریک ڈاؤن اور دیہی و شہری علاقوں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل کے اقدامات سے وزیرِ اعظم کو آگاہ کیا۔ 

٭ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عام آدمی کو ہر ممکنہ ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ 

٭ انہوں نے کہا کہ قیمتوں کو قابو میں رکھنے اور انکو نیچے لانے کے لئے جہاں موثر انتظامی اقدامات کی ضرورت ہے وہاں طلب و رسد کو مدنظر رکھتے ہوئے بروقت منصوبہ بندی ازحد ضروری ہے۔ 

٭ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ماضی میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر قابو پانے،طلب و رسد کا فرق مٹانے کے حوالے سے جامع منصوبہ بندی کرنے اور خصوصاً ملاوٹ جیسی روش کا تدارک کرنے کو نظر انداز کیا جاتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ان امور پر بھرپور توجہ دے رہی ہے 

٭ ملاوٹ کی شرح پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملاوٹ عوام کے ساتھ ظلم ہے۔ ملاوٹ کے نتیجے میں سنگین امراض کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ بدقسمتی سے اس کے تدارک کے پہلو کو ماضی میں یکسر نظر انداز کیا جاتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ ملاوٹ کے خاتمے کے لئے ہر ممکنہ کوشش کی جائے اور جدید ٹیکنالوجی کو برؤے کار لایا جائے۔ 

٭ وزیرِ اعظم نے کہا کہ بڑے شہروں میں ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی کے خاتمے پر خصوصی  توجہ دی جائے۔ 

٭ وزیرِ اعظم نے کہا کہ وہ ہر ہفتے اس حوالے سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے پیش رفت کا جائزہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ  عوام کی زندگیوں سے براہ راست متعلقہ مسائل کے حل کے ضمن میں صوبائی حکومتوں کے تجربات کا تبادلہ خیال نہایت کارآمد مشق ہے جسے باقاعدگی سے جاری رکھا جائے گا۔