وزیرِ اعظم عمران خان سے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ کے شرکاء کی ملاقات

December 30, 2019

اسلام آباد،30دسمبر2019:

٭ وزیرِ اعظم عمران خان سے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ کے شرکاء کی ملاقات

٭ 87شرکاء پر مشتمل اس وفد میں شامل افراد  کا تعلق  مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تھا۔ 

٭ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ نیشنل سیکورٹی کا سب سے اہم جزو خود انحصاری اور مالی استحکام ہوتا ہے۔ جو قوم قرضوں کی دلدل میں دھنس جاتی ہے اس کے لئے نیشنل سیکیورٹی کے ضمن میں بے تحاشہ مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مالی طور پرمشکلات کا شکار قومیں اپنے انسانی وسائل کے فروغ پر توجہ نہیں دے سکتیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جو بھی اقوام ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھی ہیں انہوں نے اپنے انسانی وسائل کے فروغ پر توجہ دی۔ اس ضمن میں وزیرِ اعظم نے امریکہ، جرمنی اور جاپان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان اقوام نے اپنے انسانی وسائل کی بہتری پر بھرپور توجہ دی نتیجتاً جرمنی اور جاپان جنگ عظیم میں نقصانات اٹھانے کے باوجود بھی تیزی سے ترقی کرتے ہوئے ترقی یافتہ اقوام کی صف میں شامل ہو گئے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے پناہ وسائل سے نوازا ہے۔ بہترین انسانی وسائل کے ساتھ ساتھ ملک میں مختلف شعبوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات سوئٹرزلینڈ سے نہ صرف رقبے کے لحاظ سے دوگنا ہیں بلکہ خوبصورتی کے لحاظ سے بھی قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شمالی علاقہ جات کے ساتھ ساتھ ملک میں مذہبی ٹورازم، ثقاقتی و دیگر سیاحت کا بے پناہ پوٹینشل موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے اس شعبے کے فروغ کو نظر انداز کیا جاتا رہا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ سوئٹزر لینڈ محض سیاحت کے شعبے سے اسی ارب ڈالر سے زیادہ کماتا ہے جبکہ پاکستان کی کل برآمدات بیس سے پچیس ارب ڈالر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوئٹزر لینڈ میں سیاحت کے فروغ کی بڑی وجہ وہاں کی تعلیم یافتہ عوام، صحت صفائی کی سہولیات اور منظم معاشرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک میں موجود وسائل سے تب استفادہ کیا جا سکتا ہے جب وہاں کی عوام پر سرمایہ کاری کی جائے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے ماضی میں ہمارے ملک میں موجود وسائل اور معیشت کے استعداد کو برؤے کار نہیں لایا گیا۔ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں تیزی سے ترقی کرنے والے ملک میں صنعتی عمل اور فروغ کی حوصلہ شکنی کی گئی۔ 

وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملکی وسائل کو برؤے کار لانے اور ملک کو درپیش مسائل کا مقابلہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ مستقبل کو مد نظر رکھتے ہوئے طویل المدتی منصوبہ بندی کی جائے۔ وزیرِ اعظم نے کوئٹہ، لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں درپیش پانی کے مسئلے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ان مسائل اور مستقبل کی ضروریات کو نظر انداز کرنے سے آج ان مسائل کی شدت کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ 

وزیرِ اعظم نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ چین کی ترقی کی بڑی وجہ مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے طویل المدتی منصوبہ بندی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے جن وسائل سے پاکستان کو نوازا ہے اگر ہم ان کو صحیح طور پر برؤے کار لائیں تو ملک تیزی سے ترقی کرے گا۔ وزیرِ اعظم نے زراعت کے شعبے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ زرخیز زمین اور پانی کی فراہمی کے باوجود بھی ہماری زرعی پیداوار ترقی یافتہ ممالک کی نسبت بہت کم ہے۔ انہوں نے کہا اگر ہم جدید ٹیکنالوجی کو برؤے کار لاکر محض زرعی پیداوارمیں اضافہ کر لیں تو اس سے ملک کی معیشت بڑی حد تک مستحکم ہوگی۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ہم چین کے تجربات سے استفادہ کر رہے ہیں اور ملک میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر پر توجہ دے رہے ہیں۔ 

سی پیک پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ سی پیک کا فائدہ پورے ملک اور خصوصاً بلوچستان کو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک سے بلوچستان میں خوشحالی کا نیا دور آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کی ترقی اور مستقبل میں معاشی حب بننے سے پورا بلوچستان مستفید ہوگا۔ 

وزیرِ اعظم نے مزید کہا  کہ بلوچستان وسائل سے مالامال صوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور حکومت میں بین الاقوامی کمپنیاں بلوچستان کے وسائل کی دریافت میں دلچسپی کا اظہار کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ  معدنی وسائل کی دریافت سے سب سے زیادہ مستفید صوبہ بلوچستان اور صوبے کی عوام ہوں گی۔ 

موجودہ حکومت کی جانب سے معاشی و دیگر اصلاحات پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا معاشی شعبے میں حکومت کو فسکل اور ٹریڈ خسارہ جیسے  بڑے چیلنجز درپیش تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوششوں کے نتیجے میں معاشی استحکام آیا ہے اور معاشی اعشاریوں میں بہتری آئی ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ 2019معاشی استحکام کا سال تھا جس میں حکومت کی ساری کوشش معاشی استحکام کے حصول پر مرکوز تھی۔ انہوں نے کہا کہ 2020میں شرح نمو میں اضافے اور معاشی عمل کے فروغ پر توجہ دی جائے گی۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ان کا عزم ہے کہ وسائل میں اضافے کے ساتھ ان علاقوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی جو سماجی و معاشی ترقی میں  ملک کے دیگر حصوں سے پیچھے رہ گئے ہیں۔

شرکاء نے وزیرِ اعظم سے ملکی حالات اور خصوصاً بلوچستان کے حوالے سے مختلف معاملات پر سوال کیے۔

بلوچستان میں کرپشن کے کیسز اور اس میں ملوث افراد کو قانون کی گرفت میں لانے کے حوالے سے ایک سوال پر جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ وائٹ کالر کرائم کو پکڑنے کے لئے ایک خاص مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہ ہم  وائٹ کالر کرائمز کی روک تھام اور ان کیسز کی موثر پیروی  اور انکو منطقی انجام تک پہنچانے کی صلاحیت میں اضافے پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں انہوں نے کہا کہ کوئی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب بڑے عہدوں پر جرائم پیشہ افراد موجود ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بعض عناصر موجودہ حکومت کو یہ کہتے ہیں کہ ہمیں مجرموں پر نہیں بلکہ دیگر مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ ایسے عناصر ملک کے خیر خواہ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ملک کے وسائل پر ڈاکہ ڈلتا رہے گا اور مجرمان اپنی تجوریاں بھرتے رہیں گے ملک ترقی نہیں کر سکے گا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ جن عناصر کو خوف ہے کہ انکی کرپشن بے نقاب ہوگی اور وہ قانون کے شکنجے میں آجائیں گے وہ سب سے زیادہ شور کررہے ہیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ کرپشن کے خلاف ہماری جنگ دراصل پاکستان اور ہماری آئندہ نسلوں کے محفوظ مستقبل کی جنگ ہے۔ 

بلوچستان میں معاشی ترقی اور انفراسٹرکچر کی تعمیر پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ محدود معاشی وسائل کے باوجود ہم بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں پر پھرپور توجہ دے  رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں موجود معدنیات کی  دریافت اور ان کو برؤے کار لانے سے صوبے میں تعمیر و ترقی کا نیا باب روشن ہوگا۔ 

صوبے میں نوجوانوں کے لئے سہولیات  کی فراہمی خصوصاً کھیلوں کے میدان کی دستیابی پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ اس ضمن میں وفاقی حکومت صوبائی حکومت کو بھرپور تعاون فراہم کر رہی ہے۔      

وزیرِ اعظم نے کہا کہ لیڈر وہ ہوتا ہے جو قوم کو امید دیتا ہے۔ خوف میں مبتلا کرکے ووٹ حاصل کرنے والے لیڈر نہیں کہلاتے۔ وزیرِ اعظم نے بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ قوم اور معاشرے کو تقسیم کرنے والے لیڈر نہیں ہوتے وہ خوف کی فضا پیدا کرکے محض عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔