وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی حکومت کی ملکیت غیر استعمال شدہ بیش قیمت اراضی کو مثبت طریقے سے برؤے کار لانے کے حوالے سے اب تک کی پیش رفت کے سلسلے میں جائزہ اجلاس

December 12, 2019

: اسلام آباد،12دسمبر2019:

٭ وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی حکومت کی ملکیت غیر استعمال شدہ بیش قیمت اراضی کو مثبت طریقے سے برؤے کار لانے کے حوالے سے اب تک کی پیش رفت کے سلسلے میں جائزہ اجلاس

٭ اجلاس میں وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر، وزیر برائے بحری امور سید علی حیدر زیدی،  وزیر نجکاری میاں محمد سومرو، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصٰ برائے اوورسیز پاکستانیز سید ذوالفقار عباس بخاری، معاون خصوصی /ترجمان ندیم افضل چن، متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹری صاحبان اور سینئر افسران شریک

٭  سیکرٹری نجکاری  رضوان ملک کی جانب سے پہلے مرحلے میں مختلف وزارتوں کی جانب سے شناخت کی جانے والی 32بیش قیمت اراضیوں کو مثبت طریقے سے برؤے کار لانے کے حوالے سے اب تک کی پیش رفت پر بریفنگ

٭ وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ مختلف وزارتوں اور محکموں کی جانب سے اب تک شناخت ہونے والی غیر استعمال شدہ املاک وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، کراچی، لاہور جیسے شہروں میں مرکزی مقامات پر واقع ہیں جن کی قیمت کا تخمینہ اربوں روپوں میں لگایا گیا  ہے۔ 

٭ پہلے مرحلے میں شناخت کی جانے والی 32املاک میں سے ستائیس مکمل طور پر دستیاب ہیں جبکہ بقیہ پانچ املاک کے حوالے سے ملکیتی دستاویزات کی فراہمی اور بعض مقامات پر ناجائز قبضے کو واگذار کرانے کا عمل بھی جاری ہے جو کہ بہت جلد مکمل کر لیا جائے گا۔  

٭ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ  رواں ماہ دبئی میں منعقدہ ایکسپو میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور سرمایہ کاروں کی جانب سے ان بیش قیمت اراضیوں میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا گیا ہے۔ 

٭  وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ تمام مراحل کی تکمیل کے بعد ان املاک کی نیلامی کا شیڈول مرتب کیا جائے گا تاکہ جنوری کے پہلے ہفتے میں ان املاک کے حوالے سے اندرون و بیرون ملک اشتہارات اور تشہیری مہم کا آغاز کیا جا سکے۔ 

٭ وزیرِ اعظم نے اب تک حاصل ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سالہا سال سے  غیر استعمال  شدہ بیش قیمت سرکاری اراضیوں کو عوامی فلاح و بہبود کے لئے استعمال  کرنا اور ان سے حاصل شدہ آمدنی کو عوامی سہولیات کے لئے برؤے کار لانا حکومت کی پالیسی کا اہم جزو ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے شہروں کے مرکزی مقامات پر واقع قیمتی املاک کو کم آمدنی والے افراد کے لئے گھروں کی تعمیر کے حکومتی منصوبے، سکولوں، ہسپتالوں کی تعمیر کے لئے استعمال کے ساتھ ساتھ ان املاک کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو بھی عوام کے لئے بہتر سہولیات کی فراہمی پر خرچ کیا جائے گا۔ 

٭ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ نشاندہی کی جانے والی اراضی کی تمام تفصیلات نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کے ساتھ شیئر کی جائیں تاکہ مناسب املاک کو کم آمدنی والے افراد کے لئے گھروں کی تعمیر کے منصوبے کے لئے برؤے کار لایا جا سکے۔ 

٭ وزیرِ اعظم نے تمام وزارتوں کو ہدایت کی کہ ان کی ملکیت میں موجود املاک کو عوامی فلاح و بہبود اور مثبت طور پر برؤے کار لانے کے لئے متعلقہ محکموں کے قوانین میں ترمیم کی جا سکے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ اس عمل کو ایک ہفتے میں مکمل کرکے کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ اس عمل کی حتمی تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔ 

٭ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ  متعلقہ صوبائی حکومتوں کے تعاون سے  نامکمل دستاویزات یا ناجائز قبضہ شدہ املاک کو ہر قسم کی رکاوٹ سے پاک کرنے کے عمل کو بھی جلد از جلد مکمل کیا جائے۔

٭  چیئرمین نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی نے وزیرِ اعظم کو کم آمدنی والے افراد کے لئے گھروں کی تعمیر کے منصوبے پر اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔

٭  وزیرِ اعظم نے کہا کہ کم آمدنی والے غریب افراد  اور خصوصاً  شہروں میں واقع کچی بستیوں میں رہنے والے افراد کو جدید سہولتوں سے مزین سستے گھروں کی سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہروں میں واقع کچی بستیوں میں کثیر المنزلہ عمارات کی تعمیر سے جہاں غریب اور پسے ہوئے طبقے کی رہائش کا مسئلہ حل ہوگا وہاں  اسی جگہ رہائشی عمارات کے ساتھ  واقع کمرشل پلازوں کی تعمیر سے حاصل ہونے والی آمدنی کو غریب افراد کو سستے گھر وں کی فراہمی کے لئے استعمال کیا جا سکے گا۔