وزیرِ اعظم عمران خان سے ایشین ڈویلپمنٹ بنک کے چیف برائے رورل ڈویلپمنٹ اینڈ فوڈ سیکیورٹی  ڈاکٹر اکمل صدیق کی ملاقات

December 11, 2019

٭ وزیرِ اعظم عمران خان سے ایشین ڈویلپمنٹ بنک کے چیف برائے رورل ڈویلپمنٹ اینڈ فوڈ سیکیورٹی  ڈاکٹر اکمل صدیق کی ملاقات

٭ ملاقات میں وزیرِ برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی مخدوم خسرو بختیار، وزیرِ برائے منصوبہ بندی اسد عمر، جہانگیر ترین بھی موجود

٭ ملاقا ت میں ترقی پذیر ممالک، علاقائی سطح پر اور خصوصاً پاکستان میں زرعی شعبے کو درپیش مسائل،  ٹیکنالوجی، ماحولیات، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ اور مارکیٹنگ کی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے زرعی شعبے پر منفی اثرات، ملک میں زرعی شعبے کے فروغ کے لیے ایشین ڈویلپمنٹ کی جانب سے فراہم کی جانے والی تکنیکی  و دیگرمعاونت اورمستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے تفصیلی گفتگو

٭ ڈاکٹر اکمل صدیق نے وزیرِ اعظم کو  بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر زرعی شعبے کی صورتحال کے حوالے سے ایشین ڈویلپمنٹ بنک کی  جانب سے کی جانے والی اسٹڈی اوراسکی سفارشات کے بارے میں تفصیلی طور پر بریف کرتے ہوئے کہا کہ دورِ حاضر اور خصوصاً جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ایگریکلچر کاشعبہ مسلسل حکومتی سرپرستی کا متقاضی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کے فروغ کے لئے  ریسرچ  اینڈ ڈویلپمنٹ، بیج کی جدید اقسام کی تیاری و آسان فراہمی، کمیکلز(فرٹیلائزرز، کیڑے مار ادویات  وغیرہ) مالی وسائل کی دستیابی، کولڈ چین اور مارکیٹنگ جیسے شعبوں پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایشین ڈویلپمنٹ بنک کی جانب سے 2018میں بنگلہ دیش، نیپال، پاکستان اور ویت نام میں زرعی شعبے میں کی جانے والی اسٹڈی سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ زرعی اجناس کے حوالے سے مطلوبہ انفراسٹرکچر تباہ حالی کا شکار ہے اور جلد خراب ہونے والی اجناس (مثلاً فروٹ وغیرہ)  کا دس فیصد سے بھی کم حصہ باقاعدہ طور پر کولڈ چین کے ذریعے  مارکیٹ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ جہاں حکومتی عدم توجہ کا شکار رہا ہے وہاں اس شعبے میں جہاں نجی سرمایہ کاری کی شرح  بھی کم ہے اس کے ساتھ ساتھ پیداوار کی شرح کم ہونے کی وجہ سے کاشتکاروں کو انکی محنت کا مکمل ثمر نہیں مل پاتا۔

٭ زرعی شعبے کے فروغ کے حوالے سے ایشین ڈویلپمنٹ بنک کی جانب سے تکنیکی و دیگر معاونت کی فراہمی پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر کمال نے وزیرِ اعظم کو بتایا کہ ایشین ڈویلپمنٹ بنک کی جانب سے زرعی شعبے میں انفارمیشن اینڈ کمونیکیشن ٹیکنالوجی کے  فروغ کے لئے بنک کی جانب سے دس لاکھ ڈالر کی گرانٹ منظور کی گئی ہے۔اس منصوبے پر 2020میں عمل شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں جدید ہول سیل مارکیٹ کے قیام میں معاونت کے لئے ایشین ڈویلپمنٹ بنک کی جانب سے 150ملین ڈالر کے قرضے کی فراہمی  پر غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فشریز کے فروغ کے لئے اسٹڈی کرائی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں زرعی شعبے کے فروغ  خصوصاً کچی کنال کے علاقے میں بڑے پیمانے پر کارپوریٹ ایگریکلچر متعارف کرانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ 

٭  ملاقات کے دوران وزیرِ اعظم نے کہا کہ زرعی شعبے کی ترقی خصوصا شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کو متعارف کرانا اور کسانوں کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے جس سے آبادی کا بڑا حصہ بالواسطہ یا بلا واسطہ منسلک ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملک میں زرعی اجناس کی پیداوار کے بارے میں جامع منصوبہ بندی کے لئے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کپاس، چاول، گندم و دیگر بڑی فصلوں کی پیداوار میں اضافے، جدید ٹیکنالوجی اور طریقوں کو برؤے کار لانے کے ساتھ ساتھ حکومت فشریز، فارمنگ وغیرہ جیسے شعبوں پر بھی توجہ دے رہی ہے جو ماضی میں یکسر نظر انداز کیے جاتے رہے ہیں اور جن میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت زرعی شعبے میں چین کے تجربے سے بھی استفادہ کر نے کے لئے پرعزم ہے۔ وزیرِ اعظم نے ایشین ڈویلپمنٹ بنک کی جانب سے زرعی شعبے میں معاونت فراہم کرنے پر شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تکنیکی معاونت کی فراہمی اور خصوصاً زراعت کے شعبے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی متعارف کرانے میں اے ڈی بی کی معاونت کا خیر مقدم کرتا ہے۔