وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی معاشی ٹیم کا اجلاس

November 27, 2019

 اسلام آباد،27نومبر2019:

٭ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی معاشی ٹیم کا اجلاس

٭ اجلاس میں  وزیرِ برائے مواصلات مراد سعید، وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر، وزیرِ نیشنل فوڈ سیکیورٹی مخدوم خسرو بختیار، وزیر نجکاری میاں محمد سومرو، وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر، وزیرِ توانائی عمر ایوب، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر، معاون خصوصی ندیم بابر، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ سید زبیر حیدر گیلانی، گورنر اسٹیٹ بنک رضا باقر، چیئرمین نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی لیفٹنٹ جنرل (ر)  انور علی حیدر، متعلقہ محکموں کے سیکرٹری صاحبان و سینئر افسران شریک

٭اجلاس میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے قانونی طریقوں سے ملک میں ترسیلات زر بھیجنے کے حوالے سے حکومت کی جانب سے مجوزہ مراعاتی پیکج وزیرِ اعظم کو پیش کر دیا گیا۔   

٭  مراعاتی پیکج میں ترسیلات زر کے فروغ کے حوالے سے بنکوں اور ایکسچینج کمپنیوں کو خصوصی مراعات دیے جانے کی تجویز۔ 

٭  ترسیلات زر کے حوالے سے بنکوں کو دی جانے والی مراعات میں اضافے کے ساتھ ساتھ ٹرانزیکشن کے لئے مطلوبہ رقم کی مقدار کو بھی کم کیے جانے کی تجویز۔ 

٭ فارن ایکسچینج ریمٹنس کارڈ  کی تجدیدسے  اسے مزید بہتر بنانے کے لئے اقدامات کیے جا رہے ہیں 

٭ غیر ممالک سے قانونی طریقوں سے ملک میں بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے فروغ کے لئے پرموشن اسکیم کے اجرا کی تجویز۔ اس سکیم کے تحت قرعہ اندازی کے ذریعے بیرون ملک سے ترسیلات زر بھیجنے والے پاکستانیوں کو انعامات دیے جائیں گے۔

٭ بیرون ملک جانے والے افراد کے لئے بنک اکاؤنٹ کھولنے کی شرط لازمی قرار

 ٭  پاکستان پوسٹ کی جانب سے بتایا گیا کہ ترسیلات زر میں سہولت کاری کے لیے پاکستان پوسٹ کے مقرر ڈاکخانوں کی تعداد 240سے بتدریج بڑھا کر 3200کر دی جائے گی جہاں سے بیرون ملک سے موصول ہونے والی ترسیلات متعلقہ خاندانوں کی دہلیز تک پہنچائی  جائیں گی۔ اس ضمن میں پاکستان پوسٹ اور نیشنل بنک آف پاکستان  کے مابین معاملات طے پا چکے ہیں۔ 

٭  اسٹیٹ بنک آف پاکستان  نجی بنکوں کو ترسیلات زر کے ضمن میں کارکردگی کی بنیاد پر مراعاتی پیکیج دے گا: وزیرِ اعظم کو بریفنگ

٭ بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے موصول ہونے والی ترسیلات ملکی معیشت میں اہم حیثیت رکھتی ہیں: وزیرِ اعظم

٭ بیرون ملک پاکستانی ملک کا اثاثہ ہیں ان کی سہولت کاری کے لئے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا: وزیرِ اعظم

٭ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی پوری رقم متعلقہ خاندانوں تک پہنچائی جائے۔ 

٭ اجلاس میں صوبائی ٹیکسز کی شرح میں اصلاحات کے حوالے سے بتایا گیا کہ صوبائی حکومتوں کی جانب سے اس ضمن میں پلان تشکیل دیا جا چکا ہے جو بہت جلد وزیرِ اعظم کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ 

٭ اجلاس میں  کاروباری طبقے کے لئے آسانیاں فراہم کرنے (ایز آف ڈوئنگ بزنس)پر پیش رفت کے بارے میں شرکاء کو آگاہ کیا گیا۔

 ٭ چیئرمین نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی نے تعمیرات کے شعبے کے فروغ کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات سے اجلاس کو بریف کیا

٭ خصوصی اقتصادی زونز کے قیام اور اس سلسلے میں قوانین کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے پیش رفت پر بھی بات چیت

٭  بیمار اداروں (سک یونٹس) کی بحالی کے لئے اقدامات اور اس سلسلے میں پیش رفت کا جائزہ

٭ اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹیکسٹائل اور لیدر کی صنعتوں کے فروغ کے لئے طویل مدتی پالیسی تشکیل دینے پر کام جاری ہے جو کہ فروری 2020 تک مکمل کر لیا جائے گا۔ 

٭ مشیر تجارت نے اجلاس کو بتایا کہ میڈیکل کے شعبے میں درآمد کیے جانے والے آلات اور مشینری پر سے ڈیوٹی ختم کیے جانے کے حکومتی فیصلے پر عمل درآمد کیا جا چکا ہے۔ 

٭ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے مشکل ترین معاشی صورتحال میں حکومت کی  باگ ڈور سنبھالی۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی کوششوں کی وجہ سے آج ملک میں معاشی استحکام ہے اور سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کا اعتماد بحال ہوا ہے اور مثبت رجحان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی استحکام اور اقتصادی اعشاریوں میں بہتری کے عمل کو آگے بڑھانا ہے اور کاروباری طبقے کے لئے موزوں فضا کو مزید بہتر بنانا ہے تاکہ معاشی ترقی کا عمل تیز کیا جاسکے۔