وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک میں معاشی عمل کو تیز کرنے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ و نجی شعبے کی شراکت  داری سے مختلف شعبوں میں ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس

November 27, 2019

 اسلام آباد،27نومبر2019:

٭ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک میں معاشی عمل کو تیز کرنے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ و نجی شعبے کی شراکت  داری سے مختلف شعبوں میں ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس

٭ اجلاس میں وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان، وزیر مواصلات  مراد سعید، وزیر برائے گلگت بلتستان و امور کشمیر علی امین گنڈا پور، وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی، وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی مخدوم خسرو بختیار، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر ریلوے شیخ رشید احمد، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، چئیرمین سرمایہ کاری بورڈ سید زبیر گیلانی، متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹری صاحبان، صوبائی چیف سیکرٹری صاحبان، چیئرمین نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی  لیفٹنٹ جنرل (ر) انور علی حیدر و دیگر سینئر افسران شریک

٭ اجلاس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ  اور نجی شعبے کے تعاون سے مختلف حکمت عملی اور رائج طریقہ کار سے ترقیاتی منصوبوں کے اجراء کے حوالے سے تفصیلی گفتگو

٭  اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں سے جہاں معاشی عمل تیز ہوتا ہے وہاں نوکریوں کے مواقع پیدا ہوتے ہیں تاہم حکومت کے محدود وسائل کی وجہ سے بعض اہم ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد نہیں کیا جا سکتا۔ اس امر کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کی یہ کوشش ہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ  کو فروغ دیا جائے اور نجی شعبے کی شراکت داری میں ہر ممکنہ سہولت فراہم کی جائے تاکہ سماجی و معاشی ترقی کاعمل تیز ہو اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں۔ 

  ٭ اجلاس میں توانائی، مواصلات،  ہوابازی، سیاحت، لاجسٹک،ٹیکنالوجی،  ویسٹ منیجمنٹ، سوشل سیکٹر،  رئیل اسٹیٹ  اور اس کے علاوہ مختلف دیگر شعبوں میں متعدد ایسے منصوبوں کی نشاندہی کی گئی جن میں نجی شعبے کی شراکت داری کو یقینی بنا کر ان  ترقیاتی منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے۔  

٭ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی ملک کے بیش قیمت اثاثہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوانوں کے اس ٹیلنٹ کو مثبت طریقے سے برؤے کار لایا جائے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح نوجوانوں کے لئے نوکریوں کے مواقع پیدا کرنا اور معاشی عمل کو تیز کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لئے روایتی طریقوں سے ہٹ کر غیر روایتی  (آؤٹ آف  دا باکس)  سوچ اپنانے کی ضرورت ہے۔

٭ وزیرِ اعظم نے کہا کہ  توانائی، انفراسٹرکچر، سیاحت، مواصلات و دیگر شعبوں میں متعدد ایسے منصوبے موجود ہیں جہاں حکومت کی جانب سے نجی شعبے کی سہولت کاری، قوانین اور عوام کو آسان بنا کر یا حکومت کی جانب سے کم سے کم وسائل مالی وسائل برؤے کار لا کر ترقیاتی عمل کو تیز کیا جا سکتا ہے اور اربوں روپے کے منصوبوں کا اجراء کیا جا سکتا ہے۔ وزیرِ اعظم نے وزراء اور صوبائی چیف سیکرٹری صاحبانان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے متعلقہ محکموں میں ایسے ترقیاتی منصوبوں کی نشاندہی کریں جہاں محض سہولت کاری، قوانین کو آسان بنا کریا کم مالی وسائل لگا کر ترقیاتی  منصوبوں پر کام شروع کیا جا سکتا  ہے۔ 

٭ وزیرِ اعظم نے وزارتوں کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں میں نجی شعبے کی شراکت داری کو یقینی بنانے اور ان کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے ضمن میں موجود قوانین اور عوامل کا جائزہ لیا جائے تاکہ نجی شعبے کی بھرپور شرکت میں حائل روکاوٹوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جا سکے۔ اس ضمن میں وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے قانون کا بھی جائزہ لیا جائے تاکہ اس سے نجی شعبے کی ترقیاتی عمل میں شمولیت کی حوصلہ افزائی و سہولت کاری ہو۔ 

٭ وزیرِ اعظم نے ترقیاتی منصوبوں پر بغیر کسی دقت و بلا تعطل عمل درآمد کو یقینی بنانے کے سلسلے میں بین الوزارتی، بین الصوبائی اور وفاقی محکموں کے درمیان کوارڈینیشن و روابط کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے وزارتوں اور صوبائی محکموں کی استعدادِ کار بڑھانے پر توجہ دینے کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا۔