وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی معاشی ٹیم کا اجلاس

November 26, 2019

 اسلام آباد، 26نومبر2019:

٭ وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی معاشی ٹیم کا اجلاس

٭ اجلاس میں  وزیرِ مواصلات مراد سعید، وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر، وزیر برائے فوڈ سیکورٹی مخدوم خسرو بختیار،  وزیرِ نجکاری میاں محمد سومرو، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، وزیرِ توانائی عمر ایوب، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، مشیر ڈاکٹر عشرت حسین، معاون خصوصی ندیم بابر، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ سید زبیر گیلانی، سابق وزیرِ خزانہ شوکت ترین،گورنر اسٹیٹ بنک رضا باقر، چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی و سینئر افسران شریک

٭ اجلاس میں کاروباری برادری کے ریفنڈز، تعمیرات کے شعبے  کے فروغ خصوصاً کم آمدنی والے افراد کے لئے ملک بھر میں پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کے منصوبے میں پیش رفت اور غیر سرکاری فلاحی تنظیم اخوت کی معاونت سے "فوڈ بنک"پروگرام  کے اجراء کے حوالے سے معاملات زیر غور آئے۔ 

٭ مشیر خزانہ  عبدالحفیظ شیخ اور چیئرمین  ایف بی آر شبر زیدی نے اجلاس کو ایکسپورٹرز کے ریفنڈز (بقایا جات) کی ادائیگی کے لئے کیے جانے والے اقدمات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ 

٭ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے زور دیا کہ ایکسپورٹرز کے بقایاجات کی ادائیگی کے حوالے سے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اس ضمن میں کاروباری برادری کو کسی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ  معیشت کی بہتری کے لئے ملکی برآمدات میں اضافہ کلیدی اہمیت کا حامل ہے اس ضمن میں ایکسپورٹرز کو  ہر ممکن سہولت فراہم کرنا اور انکو درپیش مسائل دور کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ بعض کاروباری حلقوں کی جانب سے بقایا جات کے نئے نظام کے حوالے سے مشکلات کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ اس کا فوری طور پر ازالہ کرنے کے لئے اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری طبقے کو نئے نظام سے متعارف کرانے کے لئے بھی ہر ممکنہ سہولت فراہم کی جائے۔ 

٭ چیئرمین نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی لیفٹینٹ جنرل (ر) انور علی حیدر نے اجلاس کو تعمیرات کے شعبے کے فروغ خصوصاً کم آمدنی والے افراد کے لئے ہاؤسنگ منصوبے میں پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں خاطر خواہ پیش رفت کی جا چکی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ  بہت جلد پندرہ ہزار یونٹس پر مشتمل پہلے منصوبے کا  باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا اور دسمبر کے آخر تک ملک کے کم از کم تین صوبوں میں گھروں کی تعمیر کے منصوبوں کا آغاز کر دیا جائے گا۔    

٭ سابق وزیرِ خزانہ شوکت ترین نے اجلاس کو غیر سرکاری فلاحی تنظیم اخوت کی معاونت سے شروع کیے جانے والے "فوڈ بنک"پروگرام کے  اجراء کے حوالے سے آگاہ کیا۔ اس پروگرام کے تحت اخوت کی جانب سے مختلف گھروں،  ہوٹلوں اور میرج ہالز سے اضافی کھانا اکٹھا کرکے مستحق لوگوں کی دہلیز تک پہنچایا جائے گا۔اس منصوبے کو ابتدائی طور پر لاہور سے شروع کیا جائے گا جس کے لئے ابتدائی طور پر ایک سو ریسٹورنٹس سے پارٹنرشپ کی گئی ہے۔ اکٹھی کی جانے والی خوارک  اور کھانے کو  کچی آبادیوں،  مستحق افراد کے اندراج شدہ گھروں جن میں بیوائیں اور عمر رسیدہ نادار افراد مقیم ہوں اور دیگر مقامات مثلاً ریلوے، بس اڈوں، ہسپتالوں و دیگر جگہوں پر مفت فراہم کیا جائے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پہلے تین ماہ میں بیس ہزار لوگوں تک یہ کھانا پہنچایا جائے گا اس تعداد میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا۔ 

٭ وزیرِ اعظم نے "فوڈ بنک"پروگرام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام حکومت کے وژن اور فلاحی سرگرمیوں سے مطابقت رکھتا ہے اس لیے حکومت اس پروگرام کو شروع کرنے کے لئے مطلوبہ وسائل  و ماہانہ اخراجات کی فراہمی میں تعاون کرے گی۔