وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی معاشی ٹیم کا اجلاس

November 20, 2019

: اسلام آباد، 20نومبر2019:

٭ وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی معاشی ٹیم کا اجلاس

٭ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر، وزیر بحری امور سید علی حیدر زیدی، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، وزیرِ توانائی عمرا یوب خان، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، مشیر ڈاکٹر عشرت حسین، معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر، معاون خصوصی ندیم بابر، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ سید زبیر گیلانی، گورنر اسٹیٹ بنک رضا باقر، سابق وزیر خزانہ شوکت ترین، متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹری صاحبان اور سینئر افسران شریک

٭ اجلاس میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر میں اضافے اور ان کو مراعات دینے، پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی، پاکستان بناؤ سرٹیفیکیٹس کی تشہیر،  بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ، نقصان اٹھانے والے بیمار سرکاری اداروں (سک یونٹس) کی بحالی کے لئے اقدامات جیسے اہم امور پر غور

٭ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ ترسیلات زر میں گذشتہ تین سالوں میں شرح نمو صفر رہی  ہے۔ تاہم تین سال کے بعد ترسیلات زر میں 09فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے  جو کہ مالی سال 2019میں 21.8ارب ڈالرہیں۔ 

٭ اجلاس کو بتایا گیا کہ برطانیہ، ملائیشیا، کینیڈا اور آسٹریلیا سے ترسیلات زر میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ برطانیہ سے ترسیلات زر میں 09فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 

٭ اجلاس کو بتایا گیا کہ ترسیلات زر میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ 

٭ وزارتِ خزانہ اور اسٹیٹ بنک کی جانب سے ترسیلات زر کے حوالے سے مراعات دینے پر مختلف تجاویز وزیرِ اعظم کو پیش  کی گئیں۔ ان میں تجاویز میں ترسیلات زر کے حوالے سے بنکوں کو 15فیصد شرح نمو  حا صل کرنے پر ایک ڈالر کے ساتھ ایک روپیہ  فراہم کرنے کی پالیسی جاری رکھنے،  ٹیلی گرافک ٹرانزیکشن کے لئے  مطلوبہ کم سے کم رقم کو مزیدنیچے لانے،  بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کے بنک اکاؤنٹ کھلوانے میں معاونت فراہم کرنے، بیرون ملک سے پہنچنے والی ترسیلات کو پہنچانے کے لئے پاکستان پوسٹ آفس کی خدمات برؤے کار لانے  جیسی مختلف تجاویز شامل تھیں۔ 

٭ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ  ترسیلات زر کے حوالے سے حکومت کی  جانب سے سہولت کاری اور مراعات سے متعلق تجاویزکو ایک ہفتے میں حتمی شکل دی جائے تاکہ ان پر عمل درآمد کیا جا سکے۔ 

٭ اجلاس میں پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کے لئے مختلف آپشنز بھی زیر غور آئے۔ 

٭ پاکستان بناؤ سرٹیفیکیٹس کی بیرون ممالک تشہیر کے لئے مختلف تجاویز پر بھی تفصیلی بات چیت

٭ وزیرِ اعظم کو بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں پر اب تک کی پیش رفت اور ان پر عمل درآمد میں تیزی لانے کے لئے مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی غور کیا گیا۔ 

٭ وزیرِ اعظم نے اس امر پر زور دیا کہ ترقیاتی منصوبوں اور خصوصاً بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے جاری منصوبوں پر پیش رفت تیز کی جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں پر بروقت عمل درآمدسے جہاں معاشی عمل تیز ہوگا وہاں نوجوانوں کے لئے نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ان ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے سے وزیرِ اعظم آفس کو باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے اورکسی بھی مشکل کو دور کرنے کے سلسلے میں وزیرِ اعظم آفس سے رجوع کیا جائے۔ 

٭  سابق وزیرِ خزانہ  شوکت ترین کی جانب سے وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ غیر سرکاری فلاحی تنظیم اخوت کی جانب سے لوگوں کے گھروں سے کھانے کی اشیاء اکٹھی کرکے مستحق اور ضرورتمند افراد کو پہنچانے کے منصوبے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے یہ عمل ایک ہفتے میں مکمل کر لیا جائے گا۔ وزیرِ اعظم نے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام حکومتی کی فلاحی سرگرمیوں سے مطابقت رکھتا ہے لہذا حکومت اس ضمن میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ 

٭ معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے سابقہ قبائلی علاقوں میں احساس راشن کارڈ کی فراہمی کے سلسلے میں پلان پر وزیرِ اعظم کو بریفنگ دی۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ احساس پروگرام کے تحت مختلف منصوبوں کے بر وقت اجراء کو یقینی بنایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ حکومت کے اس اہم فلاحی منصوبے سے مستفید ہو سکیں۔