وزیرِ اعظم عمران خان کی ہدایت پر مختلف وزارتوں اور محکمہ جات کی جانب سے عوامی فلاح و بہبود کی غرض سے اٹھائے جانے والے مختلف اقدامات کی رپورٹ وزیرِ اعظم آفس کو پیش

November 18, 2019

اسلام آباد: 18 نومبر 2019

 

٭ وزیرِ اعظم عمران خان کی ہدایت پر مختلف وزارتوں اور محکمہ جات کی جانب سے عوامی فلاح و بہبود کی غرض سے اٹھائے جانے والے مختلف اقدامات کی رپورٹ وزیرِ اعظم آفس کو پیش

٭ مختلف وزارتوں اور محکمہ جات کی جانب سے عوامی فلاح بہبود کے حوالے سے اب تک 64 نئے اقدامات کی نشاندہی

٭  نئے اقدامات وزارتوں اور محکموں کی معمول کی ذمہ داریوں کے علاوہ ہیں 

٭ 64نئے اقدامات میں سے 35پر عمل درآمد ہو چکا ہے جبکہ 28پر عمل جاری ہے۔

٭ ان اقدامات کا مقصد عوام کی زندگیوں میں بہتری لانا اور عام آدمی کی زندگیوں کو آسان بنانا اور ان مسائل کو حل کرنا ہے جن پر ماضی میں کبھی توجہ نہیں دی گئی۔

٭ وزیرِ اعظم عمران خان نے تمام وزرا، مشیران اور معاونین خصوصی کو ہدایت کی ہے کہ عوام کو سہولت فراہم کرنے اور انکی فلاح و بہبود کے لئے نئے اقدامات تجویز کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سارے معاملات ایسے ہیں جن پر کوئی خرچہ کیے بغیر محض انتظامی اقدامات سے عوام کو سہولت بہم پہنچائی جا سکتی ہے۔

٭ وزیرِ اعظم عمران خان کی ہدایت پر کابینہ کے ہر اجلاس میں عوامی فلاح و بہبود کے حوالے سے مختلف وزارتوں کی جانب سے نئے اقدامات کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ 

٭ وزارتِ مواصلات کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر ان کے خاندانوں کو بغیرکوئی اضافی معاوضہ ادا کیے بھجوانے کا نظام رائج  کیا گیا ہے۔ 

٭ وزارتِ مواصلات کی جانب سے خصوصی ضروریات کے حامل افراد (معذوری کا شکار)کی موٹرویز تک رسائی  اور استعمال کو آسان بنایا گیاہے۔

 ٭  معاشرے کے مختلف افراد اور خصوصاً کسانوں تک موسم کے بارے میں معلومات کی فراہمی کے لئے وزارتِ اطلاعات کی جانب سے پاکستان ٹیلی ویژن کو ہدایت کی گئی ہے کہ موسم کے بارے میں خبروں کے لئے وقت مختص کیا جائے۔ 

٭ ملک بھر میں پھیلے نادرا کے دفاتر میں خواتین کی سہولت کے لئے جمعہ کا روز خواتین کے مختص کیا گیا ہے تاکہ وہ دیگر ایام کے علاوہ جمعہ کے روز بغیر کسی دقت نادرا کے دفاتر سے اپنے کام کرا  سکیں۔ 

٭  معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت کی جانب سے گورننس کے حوالے سے پالیسی تمام کابینہ ممبران کو فراہم کی جا چکی ہے۔ 

٭ وزارتِ توانائی کی جانب سے صارفین کی شکایات کے ازالے کے لئے ایک جامع نظام رائج کرایا گیا ہے۔ صارفین 118کے ٹول فری نمبر پر اپنی شکایات محکمے تک پہنچا کر ان کا ازالہ کرا سکتے ہیں۔ 

٭ مختلف محکموں میں کلاس فور کی آسامیوں کو پر کرنے کے لئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے ہدایات تمام وزارتوں کو فراہم کر دی گئی ہیں۔ 

٭ وزارتِ خارجہ کی جانب سے غیرممالک میں واقع پاکستان کے تمام سفارت خانوں میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے سہولیات کو بہتر بنایا گیا ہے، اس ضمن میں کیو منیجمنٹ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے۔ 

٭ وزارتِ ہوابازی کی جانب سے موسم کی معلومات اور اپ ڈیٹ کی فراہمی کے لئے موبائل ایپ متعارف کرائی گئی ہے۔ 

٭  وزارتِ نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشن کی جانب سے تمام ہسپتالوں کے او پی ڈی سیکشن میں خودکار کیو (لائن) منیجمنٹ اور ٹوکن سسٹم نافذ کیا جا رہا ہے  

٭ وزارتِ اقتصادی امور کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی  (جیکا) کے تعاون سے واٹرٹرانسمیشن سسٹم  کے جائزے کے حوالے سے پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا گیا ہے۔ 

٭ وزارت برائے بیرون ملک پاکستانیز کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی سہولت کے لئے "کال سرزمین"کے نام سے موبائل ایپلیکیشن شروع کی گئی۔ 

٭ وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ نیشنل انکیوبیشن سنٹر پشاور کی جانب سے کان کنی کے شعبے سے متعلقہ افراد کے لئے سمارٹ ہیلمٹ متعارف کرائے گئے ہیں۔ 

٭ وزارتِ پارلیمانی امور کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ نیشنل اسمبلی اور سینٹ میں عام آدمی کے لئے گیلری بنائی جا رہی ہے۔ جس پر کافی حد تک کام کیا جا چکا ہے۔

 

٭ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ ریٹائرڈ ملازمین کے پینشن کے کاغذات ایک ہفتے میں مکمل طور پر تیار کر لیے جائیں اور ان کو پینشن کے حصول میں کوئی دقت نہ ہو۔ 

٭ وزارت برائے بیرون ملک پاکستانیز  کی جانب سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جیلو ں سے رہا ہونے والے قیدیوں کا ڈیٹا حاصل کرکے ان کے خاندانوں کو فراہم کیا جائے۔

٭ وزارتِ مذہبی امور اور مذہبی ہم آہنگی کی جانب سے متروکہ املاک بورڈ کے زیر اہتمام املاک کا ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ 

٭ وزارتِ پٹرولیم کی جانب سے اس تجویز پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے کہ پٹرول پمپس پر کام کرنے والے افراد کو ماسک اور دستانے فراہم کیے جائیں تاکہ پٹرول سے اٹھنے والے بخارات سے ان کی صحت پر کوئی منفی اثرات نہ پڑیں۔ 

ئ ئ٭ وزارتِ مواصلات کی جانب سے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو مثبت طریقے سے برؤے کار لانے کے لئے مختلف منصوبوں پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ 

٭ وزارتِ اطلاعات کی جانب سے جھوٹی اور بے بنیاد خبروں کے تدارک کے لئے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس حوالے سے ای -لیٹر کا اجراء کیا جا رہا ہے۔ 

٭  وزارتِ خزانہ کی جانب سے معیشت کے حوالے سے خبروں پر نظر رکھنے کے لئے وزارت میں ایک خصوصی سیل بنایا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد جہاں عوام کو معیشت کے حوالے سے بروقت خبروں کی فراہمی ہے وہاں معیشت کے حوالے سے کسی غلط یا بے بنیاد خبر کی فوری تصحیح ہے۔ 

٭ وزارتِ قانون کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ بچوں کی فحش فلمیں بنانے کے تدارک کے لئے موجود قوانین موجود ہیں لہذا اس ضمن میں نئی قانون سازی کی بجائے موجودہ قوانین پر عمل درآمد کے لئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ 

٭ وزارتِ توانائی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ بجلی کے بلوں کی ادائیگیوں کے لئے صارفین کو دس دنوں کا وقت فراہم کیا جا رہا ہے۔ 

٭ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان ایڈمنسٹریٹیو سروس اور پولیس سروس کے گریڈ سترہ اور اٹھارہ کے افسروں کے لئے اس بات کو لازمی کیا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے تعیناتی کے علاقوں میں ایسے منصوبوں کا آغاز کریں جو خو د انحصاری پر مبنی اور دیرپا ہوں اوران کا مقصد سروس ڈیلیوری کی بہتری ہو

٭ وزراتِ انسانی حقوق کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے آگاہی مہم شروع کی جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ  ٹرک آرٹ کے ذریعے  بچیوں کی تعلیم کے بارے میں آگاہی کے لئے  اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ 

٭  انسانی حقوق کی وزارت سے تیسری جنس کے افراد کے حقوق کے تحفظ کے لئے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور اس حوالے سے پولیس کو بھی متحرک کیا جا رہا ہے۔ 

٭ وزارتِ انسدادِ منشیات کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ منشیات کی حوصلہ شکنی کرنے کے لئے "زندگی"ایپ شروع کی جا رہی ہے 

٭ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کلاس فور کی اسامیوں کی درخواستوں کے لئے چار سو سے پانچ سو تک کی پراسیسنگ فیس  ختم کر دی گئی ہے۔ 

٭ وزارتِ ہوا بازی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ  ہوائی اڈوں پر مسافروں کی سہولت کے لئے ای ایس ایف اہلکاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مسافروں کی ہر ممکن طریقے سے  سہولت کاری کریں، اے ایس ایف اہلکاروں کی جانب سے اسلحے کی نمائش نہیں کی جائے گی اس کے ساتھ ساتھ ای ایس ایف کے چیک پوائنٹس پر کلیرنس کا عمل ممکنہ حد تک تیز ترین کیا جانے کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ 

٭ وزارتِ ہوابازی کی جانب سے موسم کی معلومات کے ویدر اسٹوڈیو (میڈیا سنٹر) کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ 

٭ وزارتِ توانائی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سردیوں میں بجلی کم نرخوں پر صارفین کو فراہم کی جائے گی۔ 

٭ کابینہ ڈویژن کی جانب سے بتایا گیا کہ سسٹینیبل ڈویلپمنٹ گولز کے تحت مختلف منصوبوں کے لئے فنڈز کا اجراء کر دیا گیا ہے اور صوبائی چیف سیکرٹری صاحبان نے تصدیق کی ہے کہ فنڈز ضلعوں کو جاری کر دیے گئے ہیں۔

٭  وزارت برائے بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام تمام اداروں میں معذور بچوں کے لئے تین فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے، معذور وں کو وہیل چئیرز فراہم کی جا رہی ہیں، معذور افراد کے لئے جاب کوٹہ پر سختی سے عمل درآمد کرایا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ معذور افراد کے بچوں کی فیس میں رعایت دی جا رہی ہے۔ 

٭مندرجہ بالا اقدامات  کے علاوہ متعدد اقدامات پر عمل درآمد جاری ہے: رپورٹ 

٭ وزارتِ اطلاعات کی جانب سے الیکٹرانک میڈیا کو ہدایت کی گئی ہے کہ نشریات میں مخصوص ضروریات کے حامل ناظرین کے لئے سائن لینگوئج (اشاروں کی زبان) میں ترجمہ بھی شامل کیا جائے۔ 

٭ وزارتِ ماحولیات کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ درختوں کی کٹائی روکنے اور جنگلات کے تحفظ کے لئے سولر چولہوں کی فراہمی کے لئے فزیبیلیٹی اسٹڈی کی جا رہی ہے۔ 

٭ وزارتِ کشمیر امور کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں 

٭ وزارتِ مواصلات کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور قطر کے تعاون سے چار ڈرائیونگ لائسنس سنٹرز کے قیام پر کام جاری ہے۔ 

٭ وزارتِ قانون کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ "عمران خان لیگل ہیلپ لائن ای میل"کے قیام  کی تجویز پر کام کیا جا رہا ہے۔ 

٭ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور منتخب نمائندگان کی مشترکہ کھلی کچہریوں کے انعقاد کے حوالے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ 

٭ وزارتِ ہاؤسنگ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سرکاری گھروں کی بیش قیمت زمینوں کو برؤے کار لانے کے لئے لائحہ عمل بنانے پر کام جاری ہے۔ 

٭ وزیرِ اعظم کی ہدایت کے مطابق  عوام کی سہولت کے لئے تمام وزارتوں اور سرکاری دفاتر کی جانب سے اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ  ان دفاتر کے استقبالیوں پر سلجھے ہوئے  اور تہذیب یافتہ ملازمین کو تعینات کیا جائے۔

٭ وزارتِ خارجہ کی جانب سے سفارت خانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ملکی برآمدات، تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے

٭ وزیر برائے بحری امور کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ کی املاک پر کم آمدنی والے ملازمین کے لئے کثیر منزلہ عمارات  کی تعمیر کی تجویز زیر غور ہے۔ 

٭ وزارتِ داخلہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں منظم جرائم میں ملوث افراد کے خلاف سخت ایکشن لینے کا عمل جاری ہے اور اس ضمن میں وزیر اعظم آفس کو ماہانہ بنیادوں پر رپورٹ پیش کی جائے گی۔ 

٭ قومی ورثہ ڈویژن کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ہیریٹیج اتھارٹی کے قیام کے سلسلے میں مشاورت و غور جا ری ہے۔ 

٭ وزارتِ خارجہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سفارت خانوں میں بیرون ملک پاکستانیوں کی سہولت کاری کے حوالے سے فیڈ بیک حاصل کرنے کے لئے مفصل نظام تشکیل دیا جا رہا ہے۔ 

٭ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے متعلق اسپیشل اقتصادی زون کے قیام پر کام جاری ہے۔ 

٭ معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز کی جانب سے بتایا گیا کہ بھٹوں پر کام کرنے والے مزدور بچوں کی تعلیم کے لئے لائحہ عمل ترتیب دیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گھروں میں اور غیر رسمی (انفارمل) شعبے میں کام کرنے والے افراد کے حقوق کے تحفظ پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ 

٭ اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے بتایا گیا کہ بھٹہ مالکان سے مشاورت سے بھٹوں پر ٹیکس کے حوالے سے سفارشات مرتب کی گئی ہیں۔ 

٭ وزارتِ صحت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ہسپتالوں کے فضلات کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق ہو چکا ہے جبکہ صوبوں میں اس پر عمل درآمد کرایا جا رہا ہے۔ 

٭ وزارتِ انسانی حقوق کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ہیومن رائٹس انفارمیشن منیجمنٹ سسٹم کے قیام پر کام کیا جا رہا ہے  اس نظام کے تحت تعلیم، صحت اور سماجی تحفظ کی بنیاد پر معلومات اکٹھی کی جائیں گی۔ 

٭ معاون خصوصی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز کی جانب سے بتایا گیا کہ کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ کی روش کی حوصلہ شکنی کے لئے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ 

٭ وزارتِ داخلہ نے بتایا کہ ان کھوکھا مالکان کو متبادل مقامات پرجگہ فراہم کی جا رہی ہے جن کے کھوکھوں کو سی ڈی اے حکام نے عدالت کے احکامات کی وجہ سے ہٹایا ہے۔ 

٭ وزارتِ مواصلات کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ہر سال پینتیس ہزار نوجوانوں کو انٹرن شپ کے مواقع فراہم کرنے کی سکیم پر کام کیا جا رہا ہے 

٭ وزارتِ خزانہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ تمام کمپنیوں کو اس بات کا پابند کیا جا رہا ہے کہ وہ کارپوریٹ سوشل ریسپانسبیلیٹی کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔

٭ وزارتِ ہوابازی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مسافروں کی سہولت کے لئے ای گیٹس کے قیام کی تجویز زیر غور ہے۔ 

٭  وزارتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان اقدامات پر عمل درآمد کی رپورٹ باقاعدگی سے وزیرِ اعظم آفس کو ارسال کریں