وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت تعمیرات سیکٹر کی بحالی و فروغ  کے حوالے سے اعلی سطح اجلاس 

November 11, 2019

اسلام آباد ١١ نومبر ٢٠١٩

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت تعمیرات سیکٹر کی بحالی و فروغ  کے حوالے سے اعلی سطح اجلاس 

وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار، وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان،  وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت، وزیر ہاوسنگ پنجاب میاں محمود الرشید،  وزیر خزانہ بلوچستان ظہور احمد بلیدی، چیرمین ایف بی آر سید شبرزیدی،  چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ  سید زبیرحیدر گیلانی،  ڈپٹی چیرمین منصوبہ بندی کمیشن جہانزیب خان، چیئرمین نیا پاکستان ہاوسنگ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر)  انور علی حیدر اور سینئر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے افسران شریک۔ 

اجلاس کو تعمیرات سیکٹر کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

وزیرِ اعظم کو تعمیرات سیکٹر میں بلڈرز، کنٹریکٹرز ، ڈویلپرز اور  املاک کی خریدو فروخت  میں درپیش مسائل، خصوصا صوبائی و وفاقی سطح پر ٹیکسز کی شرح، بنکوں کی جانب سے سرمایہ  فراہم کرنے کے حوالے سے  مشکلات ،  ریجسٹریشن و دیگر سرکاری کاروائیوں کے حوالے سے  درپیش مسائل، کرپشن  وغیرہ جیسے ایشوز پر تفصیلی بریفنگ

وزیر اعظم نے کہا کہ تعمیرات سیکٹر کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے  کہا کہ تعمیرات کے شعبے سے چالیس کے لگ بھگ صنعتیں منسلک ہیں۔ تعمیرات کے شعبے سے جہاں ان صنعتوں کو ترقی ملے گی وہاں نوجوانوں کے لئے نوکریوں کے مواقع میسر آئیں گے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ معاشی عمل کو تیز کرنے کے لئے تعمیرات کے شعبے کا فروغ ازحد ضروری ہے۔ 

تعمیرات سیکٹر ہماری حکومت کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔۔وزیر اعظم

تعمیرات کے شعبے کے فروغ سے ہی  پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کا سب سے اہم منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔ 

بینکوں کی طرف سے تعمیرات کے لیے قرضوں کی فراہمی ، صوبوں میں تعمیرات کے شعبے میں یکساں شرح  ٹیکس کے اطلاق اور پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے  فروغ کے حوالے سے مختلف تجاویز پر  تفصیلی غور۔

صوبائی اور وفاقی سطح کے ٹیکسوں سمیت مختلف مسائل کے  حل کے حوالےسے قابل عمل تجاویز مرتب کرنے کے لئے وزیرِ اعظم نے چیئرمین نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر)  انور علی حیدر کی سربراہی میں  چئیرمین ایف بی آر، گورنر اسٹیٹ بنک، وزیر خزانہ پنجاب ،  صوبائی چیف سیکرٹری صاحبان اور دیگر متعلقین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی۔ 

کمیٹی کوآئندہ  24 گھنٹوں میں ٹیکسوں، بنکوں کی جانب سے قرضوں  کی فراہمی اور دیگر مشکلات کے  حل کے حوالے سے  لائحہ عمل اور سفارشات  وزیرِ اعظم کو پیش کرنے کی ہدایت-