وزیرِ عظم عمران خان کی زیر صدارت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور مہنگائی پر قابو پانے کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر اجلاس

October 31, 2019

 

اسلام آباد، 31اکتوبر2019:
٭  وزیرِ عظم عمران خان کی زیر صدارت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور مہنگائی پر قابو پانے کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر اجلاس
٭ اجلاس میں وزیرِ منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار، وزیرِ توانائی عمر ایوب  خان، مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ،  مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، وزیرِ اطلاعات پنجاب میاں اسلم  اقبال، وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جوان بخت، متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹری صاحبان و دیگر سینئر افسران کی شرکت
٭  وزیرِ اعظم کو اشیائے ضروریہ کی قیمتوں، خصوصاً گندم اور آٹے کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لئے کیے جانے والے اقدامات اور انکے نتائج پر تفصیلی بریفنگ
٭ اجلاس نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے پاسکو کے ذخائر سے صوبوں کو ساڑھے چھ لاکھ ٹن گندم ریلیز کرنے کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے ملک میں گندم اور آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔
٭  وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ آٹے کی قیمتوں پر کنٹرول کے حوالے سے حکومت کے حالیہ اقدامات کے نتائج برآمد ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے سے اس میں مزید بہتری آئے گی۔
٭ وزیرِ اعظم کو مختلف اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر تفصیلی بریفنگ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اشیائے ضروریہ کی ہول سیل اور پرچون قیمتوں میں خاطر خواہ فرق ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوری کی نشاندہی کرتا ہے۔اس فرق کو کم کرنے کے لئے انتظامی سطح کے اقدامات کو مزید موثر بنانے کی طرف خصوصی توجہ دی جائے۔
٭ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے  اور عوام تک  ان اشیاء کی قیمتوں کے بارے میں معلومات کی فراہمی کے لئے ٹیکنالوجی کو برؤے کار لاتے ہوئے  ایک مفصل نظام کا اطلاق وفاقی دارالحکومت میں شروع کر دیاگیا ہے۔ صوبوں کی مشاورت سے اس نظام کو دیگر بڑے شہروں میں رائج کرنے کے لئے بھی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
٭ وزیرِ اطلاعات پنجاب نے وزیرِ اعظم کو بتایا کی صوبہ پنجاب میں پرائس کنٹرول اتھارٹی کے قیام  پر کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ  ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ  اندوزی کے تدارک کے لئے مارکیٹ کمیٹیوں کو مکمل طور پر فعال بنانے کے ساتھ ساتھ مختلف دیگر اقدامات بھی زیر غور ہیں۔
٭  وزیرِ اعظم کو ایکسل لوڈ کے حوالے سے حکومتی فیصلے پر عمل درآمد کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ کاروباری برادری کے مطالبے پر ایکسل لوڈ پر عمل درآمد کو ایک سال کے لئے موخر کرنے کا مقصد جہاں کاروباری طبقے کے لئے سہولت فراہم کرنا تھا وہاں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو قابو میں رکھنا تھا۔ وزیرِ اعظم نے مشیر تجارت کو ہدایت کی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اس فیصلے کے ثمرات عوام تک پہنچیں۔
٭ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ گندم اور آٹے کی قیمتوں پر مسلسل نظر رکھی جائے اور اس سلسلے میں صوبوں کے درمیان کوارڈینیشن کو مزید بہتر بنایا جائے۔
٭ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ اشیاء ضروریہ کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لئے جہاں ان اشیا کی دستیابی کے حوالے سے جامع منصوبہ بندی کی جائے وہاں تمام ضروری انتظامی اقدامات موثر طریقے سے اٹھانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔