وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا جائزہ لینے اور افراط زر پر قابو پانے کے حوالے سے وزیراعظم آفس میں اعلیٰ سطحی اجلاس

October 18, 2019


اسلام آباد،18اکتوبر 2019:
٭ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا جائزہ لینے اور افراط زر پر قابو پانے کے حوالے سے وزیراعظم آفس میں اعلیٰ سطحی اجلاس۔
٭  اجلاس میں وزیربرائے منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار، مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد، وزیراعلیٰ پنجاب سر دار عثمان بزدار، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان،  معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی یوسف بیگ مرزا، وزیر خوراک پنجاب سمیع اللہ چوہدری، وزیر زراعت پنجاب نعمان لنگڑیال اور دیگر سینیئر افسران کی شرکت۔
٭ اجلاس میں ضروری اشیائے خوردونوش خصوصا گندم، چینی، گھی، دالیں، پیاز اور ٹماٹر کی قیمتوں کا جائزہ اور ذخیرہ اندوزی کے خاتمے کے حوالے سے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ۔
٭ اجلاس میں گندم کی فراہمی، دستیابی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو منظم رکھنے کے حوالے سے صوبہ پنجاب،  صوبہ خیبر پختونخواہ اور سندھ کے اقدامات کا جائزہ۔
٭ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ گندم کے مناسب ذخیرے کو یقینی بنانے اور قیمت کو قابو میں رکھنے کے ضمن میں صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخواہ کی حکومتوں کی جانب سے اطمینان بخش انتظامات کیے گئے۔
٭  وزیرِ اعظم کی گندم اور آٹے کی قیمت کو مستحکم رکھنے کے لیے اقتصادی رابطہ کمیٹی کوفی الفور تجاویز مرتب کرنے اور موثر فیصلے کرنے کی ہدایت
٭ وزیرِ اعظم نے کہا کہ گندم کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لئے ضرورت کے تحت درآمد سمیت تمام انتظامی اقدامات ترجیحی بنیادوں پر لئے جائیں۔
٭ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ حکومت سندھ کی جانب سے اس سال گندم کی خریداری نہ کرنے کے باعث طلب اور رسد میں فرق پیدا ہو گیا ہے  جس سے گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا  ہے اور عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ وزیرِ اعظم نے اس امر کا نوٹس لیتے ہوئے پاسکو کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے موجود سٹاک سے  صوبہ سندھ کو ایک لاکھ ٹن اور صوبہ خیبرپختونخواہ کو ڈیڑھ لاکھ ٹن گندم  فوری طور پر ریلیز کرے تاکہ مارکیٹ میں گندم اور آٹے کی قیمت کو مستحکم رکھا جا سکے
٭ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ تمام صوبائی حکومتیں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر کڑی نظر رکھیں۔
٭ وزیرِ اعظم کا ذخیرہ اندوزوں کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کا حکم۔ اس کے ساتھ ساتھ وزیرِ اعظم نے کہا کہ صوبائی حکومتیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ کاشت کار اور کسان کا استحصال نہ ہو اور آڑھتی ناجائز منافع خوری نہ کریں۔
٭ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کی مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت ایکشن لیاجائے
٭ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ تحصیل کی سطح پر مارکیٹ کمیٹیاں تشکیل دے کر انکو مکمل طور پر فعال بنایا جائے تاکہ منافع خور عناصر کی اجارہ داری پر موثر طور پر قابو پایا جا سکے اور قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکے۔
٭ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ جدید ٹیکنالوجی کو برؤے کار لاتے ہوئے اشیائے ضروریہ کے لئے  " درست قیمت " اپیلیکیشن پر مبنی نظام متعارف کرایا جائے تاکہ عوام کو اشیائے خوردو نوش کی اصل قیمتوں کے بارے میں روزانہ کی بنیاد پر آگاہی میسر آ سکے۔
٭ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ منڈی سے مارکیٹ کے تمام عمل کو شفاف، سہل اور آسان بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔اس ضمن میں صوبائی حکومتوں کو ایک ہفتے میں مربوط نظام وضع کرنے کی ہدایت
٭ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ احساس پروگرام کے تحت مستحق اور غریب لوگوں میں آٹے کے تھیلے کی تقسیم کے پروگرام کا جلد از جلد  اجراء کیا جائے۔
٭ وزیرِ اعظم نے وزارت صنعت و تجارت کو ہدایت کی کہ ملک بھر کے یوٹیلیٹی اسٹوروں پر اشیائے ضروریہ کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے اور ضروری اشیاء کی فراہمی پر کڑی نظر رکھی جائے تاکہ عوام کو ضرورت کی تمام اشیا ء ہر وقت میسر آئیں اور کسی چیز کی قلت نہ ہو۔
٭ اجلاس میں موسمی سبزیوں کی قلت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ اس سلسلے میں  بروقت درآمد سمیت تمام عوامل کا جائزہ لیا جائے اور ایک مربوط نظام تشکیل دیا جائے