وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت توانائی کے شعبے میں آسانیاں پیدا کرنے خصوصاً عوام الناس کے مسائل کے حل اور توانائی کے شعبے میں کاروبار سے منسلک مراحل اور عوامل کو آسان بنانے کے حوالے سے بریفنگ

September 04, 2019

 
اسلام آباد،  04ستمبر2019:
٭  وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت توانائی کے شعبے میں آسانیاں پیدا کرنے  خصوصاً عوام الناس کے مسائل کے حل اور توانائی کے شعبے میں کاروبار سے منسلک مراحل اور عوامل کو آسان بنانے کے حوالے سے بریفنگ
٭ اجلاس میں وزیرِ توانائی عمر ایوب خان،  معاون خصوصی ندیم بابر، معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، چئیرمین سرمایہ کاری بورڈ زبیر گیلانی، سیکرٹری پاور ڈویژن عرفان علی و دیگر سینئر افسران شریک
٭  سیکرٹری پاور ڈویژن نے اجلاس کو بتایا کہ بجلی کے حوالے سے عوام کو درپیش مسائل میں غلط یا زیادہ بلوں کی شکایت،  لوڈشیڈنگ، نرخوں میں اچانک اضافہ، بجلی کی قیمت، کرپشن اور مفاد پرست عناصر کے مفادات کا تحفظ کرتی پالیسیاں شامل تھیں۔ ان مسائل کا تدارک کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
٭ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ گذشتہ ایک سال کی کاوشوں کے نتیجے میں ملک بھر کے اسی فیصد سے زائد فیڈرز کو بجلی چوری اور نقصانات سے پاک کر دیا گیا ہے جس سے تمام شعبوں کے لئے  بجلی کی بلا تعطل فراہمی میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے۔
٭ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ عوامی مسائل کے حل پر خصوصی توجہ دی گئی  جس کے نتیجے میں ان  شکایات میں واضح کمی آئی ہے۔
٭  اجلاس کو بتایا گیا کہ نظام  ترسیل کی بہتری کے ساتھ ساتھ رواں سال میں بجلی کی تقسیم کے طریقہ کار کو بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
٭ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ دسمبر 2017سے التوا کا شکار قابل تجدید منصوبوں کی تکمیل پر کام تیز کیا جا رہا ہے۔
٭ اجلاس کو بتایا گیا کہ آئندہ سال میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں مزید کمی آئے گی اور ڈسکوز کے مالی  حالات بہتر ہوں گے۔
٭ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ تئیس ہزار میگا واٹ بجلی کی ترسیل کا ہدف حاصل کیا گیا۔آئندہ سال اس کو چھبیس ہزار میگا واٹ تک بڑھایا جائے گا۔
٭ اجلاس کو بتایا گیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے حامل اے ایم آئی میٹرز اور اے بی سی کیبلز کی تنصیب کے منصوبے پر کام جاری ہے۔
٭ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ ٹرانسفارمرز کے حوالے سے عوام الناس کی شکایات کا ازالہ کرنے کے لئے صارفین کو یہ سہولت فراہم کی جا رہی ہے کہ وہ منظور شدہ کمپنیوں سے ٹرانسفارمر خرید سکیں اور اس سلسلے میں کسی قسم کے این او سی کی ضرورت نہیں ہوگی۔  
٭ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ لیسکو کے تحت ایک پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا گیا ہے جس میں بجلی کے کنکشن کے حصول کے مراحل کو آسان ترین بنانے، صارفین کو صرف شدہ بجلی کی قیمت کا  خود حساب رکھنے،  بجلی کی قیمت کے بارے میں صارفین کو مطلع رکھنے، لوڈشیڈنگ کے بارے میں بروقت اطلاع کی فراہمی اور بلوں کی آن لائن پیمنٹ کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ لیسکو میں عمل درآمد کے بعد اس نظام کو پورے ملک تک پھیلایا جائے گا۔
٭ لیسکو میں بجلی کے تعطل کے واقعات اور اس تعطل کی مدت کو جانچنے کے جدید  نظام سیفی اور سیدی (System Average Interruption Duration Index (SAIDI) اور  System Average Interruption Frequency Index (SAIFI)) پر بریفنگ دیتے ہوئے وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ گذشتہ سال بجلی کی ترسیل میں تعطل کے 1379واقعات رپورٹ ہوئے جو کہ اس سال گھٹ کر 108رہ گئے ہیں۔ تعطل کی میعاد3474.3گھنٹوں سے کم ہو کر 432گھنٹے  پر آگئی ہے جو کہ ایک واضح کامیابی ہے۔
٭ وزیرِ اعظم نے بجلی کے شعبے میں بہتری لانے کے لئے وزارتِ توانائی کی کاوشوں کو سراہا۔
٭ وزیرِ اعظم نے وزارتِ توانائی کو ہدایت کی توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور کاروبار کرنے کے حوالے سے مراحل کو مزید آسان بنایا جائے اور اس سلسلے میں ٹائم لائن پر مبنی لائحہ عمل پیش کیا جائے۔