وزیرِ اعظم عمران خان کا ٹرانسپورٹرز کو درپیش مسائل خصوصا رشوت ستانی کی شکایت کا سخت نوٹس

September 04, 2019

 
وزیرِ اعظم عمران خان کا ٹرانسپورٹرز کو درپیش مسائل خصوصا رشوت ستانی کی شکایت  کا سخت نوٹس

ٹرانسپورٹرز کو حراساں کیے جانے اور رشوت بٹورنے کی شکایت کا تدارک کرنے کے لئے وزیرِ اعظم کااہم فیصلہ

* مختلف ایجنسیوں / اداروں ( پولیس ، ایکسائز ، کسٹمز ، رینجرز ، ایف سی ، کوسٹ گارڈ وغیرہ) کی جا نب سے ناجائز وصولیاں عوام کے لئے پریشانی کی وجہ بنتی ہیں ، بدعنوانی کو جنم دیتی ہیں  اور حکومت و ملک کے لیے بدنامی کا باعث ہیں۔ وزیراعظم آفس کا مراسلہ

* رشوت ستانی کا یہ عمل موجودہ طریقہ کار میں خامیوں کا عکاس ہے ۔ مراسلہ

* وزیر اعظم کی جانب سے ٹرانسپورٹرز کو حراساں کیے جانے  اور ناجائز رقم بٹورنے کی روش  کے خاتمے کے لئے متعلقہ اداروں کو موجودہ طریقہ کار کو بہتر بنانے اور نئے ضوابط وضع کرنے کی ہدایت۔ مراسلہ

* چیک پوسٹوں کی تعداد میں ممکنہ حد تک کمی کی جائے۔ مختلف ایجنسیاں مشترکہ چیک پوسٹیں قائم کریں۔ مراسلہ

*  نگرانی کے عمل کو موثر بنایا جائے ۔

*  مندرجہ بالا ہدایات پر عمل درآمد 5 اکتوبر 2019 تک کر لیا جائے ۔ مراسلہ

* ایک فوری سروے بھی کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے رشوت ستانی اور غیر قانونی طرزعمل کے لئے اختیار کئے جانے والے ہتھکنڈوں کی نشاندہی کی جائے گی علاوہ ازیں  اس سارے عمل کے بارے میں باقاعدہ اعداد  و شمار مرتب کیے جا رہے ہیں  ۔ مراسلہ

05 اکتوبر کے بعد بعد مختلف چیک پوسٹوں پر تعینات عملے اور نگران افسران کے خلاف کارروائی کا آغاز ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ  متعلقہ وزارتوں،  اداروں یا محکمہ جات کے انتظامی سربراہان کے خلاف بھی کارروائی ہو سکتی ہے ۔ اگر نگران عہدیدارکے خلاف انتظامی افسران کی طرف سے کوئ کارروائ عمل میں نہ لائ گئی تو اس صورت میں چیف سکریٹری صاحبان، آئ جی حضرات یا متعلقہ  ڈائریکٹر جنرل کے خلاف ایکشن لیا جائے گا ۔

* وزیراعظم آفس کا وفاقی سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری نارکوٹکس،  تمام چیف سیکرٹریز، چیئرمین ایف بی آر، چیف کمشنر اسلام آباد ، آئ جیز پولیس،  آئ جی ایف سی، ڈی جی رینجرز اور ڈی جی کوسٹ گارڈ کے نام مراسلہ جاری۔