وزیراعظم آفس کی جانب سے جی آئ ڈی سی معاملے سے متعلق اعلامیہ

September 04, 2019

 
وزیراعظم آفس کی جانب سے جی آئ ڈی سی معاملے سے متعلق اعلامیہ

ِ* گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کے  معاملے پر قانونی چارہ جوئی کے دوران جنوری 2012 تا دسمبر 2018ء تک اس مد میں  کل رقم تقریبا417  ارب روپے تک پہنچ گئی۔

* اس قانونی چارہ جوئی کے پہلے مرحلے میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کے قانون کو منسوخ کردیااور اس ضمن میں وفاقی حکومت کی جانب سے دائر شدہ نظر ثانی درخواست  کو بھی سپریم کورٹ نے خارج کردیا۔

* بعد ازاں اس معاملے پر نئی قانون سازی عمل میں لائی گئی جن پر صوبائی ہائی کورٹس میں اعتراض اٹھا ئے گئے  اور اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں دائر شدہ اپیلیں تاحال التوا میں ہیں۔

* اس تناظر میں ایک آرڈیننس کا اجراء کیا گیا تاکہ پھنسی ہوئی رقم کا 50فیصد حصہ صنعتی نمائندوں کے ساتھ قانونی چارہ جوئی میں پڑے بغیر باہمی تصفیے اور مشاورت سے واپس حاصل کیا جاسکے۔

* لیکن اس معاملے پرحالیہ تنازع کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے وزیراعظم نے شفافیت اوراعلی طرز حکومت کے اصول کی پاسداری کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ مذکورہ آرڈیننس  واپس لے لیا جائے ۔ مزید براں اٹارنی جنرل کو ہدایت کی گئ کہ وہ سپریم کورٹ میں اس معاملے میں فوری سماعت کے لیے درخواست دائر کریں تاکہ یہ معاملہ جلد از جلد آئین اور قانون کے عین مطابق حل ہو۔

* تاہم وزیراعظم قوم کو یہ آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ عدالت سے رجوع کرنے میں یہ خدشہ ہے کہ فیصلہ حق میں یا خلاف بھی آسکتا ہے جس کی وجہ سے حکومت پوری رقم کھو بھی سکتی ہے۔ علاوہ ازیں ممکنہ طورپر مستقبل میں اس مد میں محصولات ممکن نہ ہوں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ حکومت پر تقریبا 295  ارب روپے کی اصل رقم کی واپسی کا بوجھ بھی آسکتا ہے۔ وزیراعظم آفس۔