وزیراعظم عمران خان کو پنجاب پولیس کی کارکردگی اور امن و امان کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے آئی جی پنجاب کی بریفنگ۔

September 02, 2019

 
لاہور: 2 ستمبر 2019

وزیراعظم عمران خان کو پنجاب پولیس کی کارکردگی اور امن و امان کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے آئی جی پنجاب کی بریفنگ۔

وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار،  صوبائی وزیر قانون محمد بشارت راجہ، صوبائی وزیر برائے بہبود آبادی محمد ہاشم ڈوگر، صوبائی وزیر برائے امور نوجوانان اور کھیل محمد تیمور خان، صوبائی وزیر لیبر انصر مجید خان نیازی، مشیر وزیر اعلی ڈاکٹر سلمان شاہ، چیف سیکرٹری پنجاب یوسف نسیم کھوکھر اور دیگر سینیئر افسران کی بریفنگ میں شرکت۔  

آئی جی پنجاب کی جانب سے پولیس کی سروس ڈلیوری،  محکمہ پولیس کے امیج  کوبہتر بنانے، احتساب، شفافیت، موثر عوامی دابطہ، ٹیکنالوجی کا استعمال، انتظامی اصطلاحات، خدمت مراکز کے قیام،  عوام کے تصفیہ  طلب معاملات کے لئے  متبادل طریقہ کار (Alternate Dispute Resolution)کے حوالے سے مجوزہ قانون سازی، عوام کی شکایات کے ازالے، تھانوں کی آن لائن مانیٹرنگ کے حوالے سے  اصلاحات، اب تک اٹھائے جانے والے اقدامات اور مستقبل کے لائحہ عمل پر بریفنگ۔

اجلاس میں سمندر پار پاکستانیوں کی سہولت اور شکایات کے ازالے کے حوالے سے مجوزہ طریقہ کار، پولیس کے اہل کاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی،  جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی، قبضہ مافیا کے خلاف اقدامات،  سرویلنس اور کیمروں کی تنصیب، جرائم کی روک تھام، معاشرے کو غیر قانونی اسلحے سے پاک  کرنے، کومبنگ آپریشن،  دہشت گردوں کے خلاف کاروائی اورکلین اینڈ گرین پاکستان مہم میں پنجاب پولیس کے کردار کے حوالے سے بھی شرکا کو  بریف کیا۔

آئی جی پنجاب نے اجلاس کو بتایا کہ ایک پائلٹ پراجیکٹ کے تحت پچاس پولیس اسٹیشنوں کو عوام دوست جدید سہولیات سے آراستہ  کیا جا رہا ہے اور اسکا آغاز اکتوبر میں کر دیا جائے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے Alternate Dispute Resolution کے ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے جلد از اقدامات کی ہدایت کی اور کہا کہ اس نظام کی بدولت عوام الناس کو بھرپورسہولت میسرآئے گی اور وہ تھانہ کچہری کی  روایتی پریشانیوں سے بھی محفوظ رہیں گے اور  عوام میں پولیس کا امیج بھی بہتر ہوگا۔
خیر پختونخواہ میں ہماری صوبائی  حکومت نے اس ضمن میں بہترین اقدامات اٹھائے جس پر لوگوں نے اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیراعظم

پولیس میں احتساب اور جوابدہی کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اگر نظام میں سزا اور جزا نہیں ہو گی تو اس سے نظام میں خرابی ہو گی اور وہ ناکام ہو جائے گا۔ اگر جرائم میں اضافہ اور نا اہلی بڑھتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ قانون کی عملداری نہیں ہے۔ وزیراعظم

وزیرِ اعظم نے کہا کہ محکمہ پولیس روایتی طرز عمل سے ہٹ کر عوام کی سہولت کے لئے ایسے اقدامات کرے جس سے عوام کو فوری انصاف  کی فراہمی میں مدد ملے۔  بدقسمتی سے نظام کی ناکامی کی وجہ سے جن لوگوں پر عوام کی خدمت  کرنا فرض تھا وہ خود عوام سے اپنی خدمت کرواتے رہے، اس تاثر کو یکسر تبدیل ہونا چاہئے۔ وزیراعظم

وزیراعظم نے پنجاب پولیس کو جرائم پیشہ عناصر خصوصاً بڑے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف فوری  اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جب بڑے مجرموں کے خلاف کارروائی ہو گی تو چھوٹے مجرم بھی ارتکاب جرم سے باز آ جائیں گے۔

سمندر پار پاکستانیوں کی سہولت کا خیال رکھنا ہمارے لئے انتہائی اہم ہے  کیونکہ وہ اپنے خون پسینے کی کمائی  ملکی معیشت کے استحکام  کے لئے بھجوا رہے  ہیں  لیکن افسوس کی بات ہے کہ جب وہ اپنی جمع پونجی پاکستان لاتے ہیں تو انہوں ہراسیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

وزیراعظم نے پولیس کے تفتیشی طریقہ کار میں تبدیلی اور ملزموں کو تفتیش کے دوران اذیتی حربوں کے حوالے سے نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ یہ طریقہ کار نا صرف غیر انسانی بلکہ قابل مذمت بھی ہے جسکا  فوری تدارک ضروری ہے۔
 
مشیر وزیراعظم عبدالرزاق داؤد،  چیئرمین  سرمایہ کاری بورڈ سید زبیر حیدر گیلانی معاونین خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور نعیم الحق بھی اجلاس میں موجود تھے۔