وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت نیشنل ہائی ویز سیفٹی آرڈیننس 2000کے نفاذ، قانون پر عمل درآمد کے سلسلے میں متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات اور انکے ازالے کے لئے مستقبل کے لائحہ عمل پر اعلیٰ سطحی اجلاس

August 26, 2019

 

اسلام آباد، 26اگست2019:

٭ وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت نیشنل ہائی ویز سیفٹی  آرڈیننس 2000کے نفاذ، قانون پر عمل درآمد کے سلسلے میں متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات اور انکے ازالے کے لئے مستقبل کے لائحہ عمل پر اعلیٰ سطحی اجلاس
٭ اجلاس میں وزیرِ مواصلات مراد سعید، مشیر تجارت عبد الرزاق داؤد  اوروزارتِ مواصلات اور وزارتِ صنعت و تجارت کے سینئر افسران شریک 
٭ اجلا س میں  نیشنل ہائی ویز سیفٹی آرڈیننس 2000  کے نفاذ خصوصاً ایکسل لوڈ کے حوالے سے اسٹیک ہو لڈرز کے تحفظات  اور عدالتی احکامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
٭ سیکرٹری مواصلات جواد رفیق نے نیشنل ہائی ویز سیفٹی آرڈیننس 2000کے نفاذ کے ضمن میں اب تک کی پیش رفت،  ملکی سڑکوں کی  موجودہ صورتحال،  ذرائع مواصلات  بشمول  پاکستان ریلویز کی رسد و ترسیل کے حوالے سے استعداد کی صورتحال، ایکسل کے حوالے سے قانون کے نفاذ کے معیشت پر اثرات  اور اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
٭ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ سڑکوں کی مرمت اور دیکھ بھال کے ضمن میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو سالانہ 65ارب روپے کے اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ ٹرکوں پر منظور شدہ لوڈ کے علاوہ اضافی بوجھ لاد نے کی وجہ سے نہ صرف سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی ہیں بلکہ یہ حادثات کا باعث بھی بنتا ہے جس سے قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے۔
٭ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ہائی ویز سیفٹی  آرڈیننس 2000کا نفاذ سڑکوں کو محفوظ بنانے میں مدد گار ثابت ہو گا تاہم اس قانون پر عمل درآمد کے دوران متعلقہ اسٹیک ہولڈرز  کے تحفظات، سڑکوں کے انفراسٹرکچر،  ذرائع نقل و حمل کی استعداد اور ملکی معیشت خصوصاً عام آدمی پر اس کے اثرات کو مد نظر رکھا جانا ضروری ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ذرائع نقل و حمل کے  موجودہ ناکافی ذرائع اور ملکی معیشت کی مو جودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ کسی بھی قانون کے نفاذ سے پہلے اس امرپر خصوصی توجہ دی جائے کہ اس کے فوری اطلاق سے صنعت و تجارت خاص طور پر عام آدمی  پرکسی قسم کاا ضافی بوجھ  نہ  پڑے۔
٭  وزیرِ اعظم نے کہا کہ ان تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ اس ضمن میں تمام حقائق اعلیٰ عدلیہ کے سامنے پیش کیے جائیں اور قانون کے مرحلہ وار  نفاذ کی استدعا کی جائے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ عدلیہ سے رجوع کے ساتھ ساتھ ملک میں ذرائع نقل و حمل کی استعداد خصوصا ٹرکوں کی تعداد اور ریلوے کی استعداد بڑھانے پر بھی توجہ دی جائے۔
٭ اجلاس میں ٹرانسپورٹرز کو درپیش مسائل خصوصاً رشوت ستانی اور انکو اہلکاروں کی جانب سے حراساں کیے جانے کی شکایات پر بھی تفصیلی بات چیت
٭ ٹرانسپورٹرز کو درپیش مسائل کا سخت  نوٹس لیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے ہدایت کی اس ضمن میں ایک مفصل پلان تشکیل دیا جائے تاکہ ٹرانسپورٹرز کو حراساں کرنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت ایکشن لیا جا سکے۔