وزیرِ اعظم عمران خان کو نوجوانوں کی ترقی اور انکوکاروباری مواقع فراہم کرنے کے سلسلے میں شروع کیے جانے والے "کامیاب جوان"پروگرام پر بریفنگ

August 22, 2019

 
اسلام آباد، 22اگست2019:
٭ وزیرِ اعظم عمران خان کو نوجوانوں کی ترقی اور انکوکاروباری مواقع فراہم کرنے کے سلسلے میں شروع کیے جانے  والے "کامیاب جوان"پروگرام  پر بریفنگ
٭ اجلاس میں معاون خصوصی برائے امور نوجوانان محمد عثمان ڈار، معاون خصوصی نعیم الحق، قائم مقام گورنر سٹیٹ بنک آف پاکستان جمیل احمد، صدر نیشنل بنک آصف عثمانی، صدر بنک آف خیبر سیف الاسلام، صدر بنک آف پنجاب خالد صدیق ترمذی، چیئرمین نادرا عثمان یوسف مبین،چیئرمین این ٹی سی، چیئرمین این آئی ٹی بی، سی ای او سمیڈا  و دیگر سینئر افسران شریک
٭  معاون خصوصی برائے امور نوجوانان محمد عثمان ڈار نے وزیرِ اعظم کو کامیاب جوان پروگرام پر بریفنگ دی اور پروگرام کے خدو خال سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔
٭ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ نیشنل یوتھ ڈویلپمنٹ سٹرٹیجک روڈ میپ کے پہلے مرحلے میں نیشنل یوتھ ڈویلپمنٹ فریم ورک مرتب کیا جا چکا ہے اور نیشنل یوتھ کونسل  تشکیل دی جا چکی ہے۔
٭ دوسرے مرحلے میں کامیاب جوان پروگرام کا باقاعدہ اجراء ستمبر سے کیا جا رہا ہے۔
٭ کامیاب جوان پروگرام کے تحت یوتھ انٹرپرینیور سکیم (Youth Entrepreneurship Scheme)، گرین یوتھ موومنٹ، اسٹارٹ اپ پاکستان، انٹرن شپ پروگرام، ہنرمند جوان (اسکل فار آل)، اور نیشنل انٹر پرینیورپروگرام شروع کیے جائیں گے۔    
٭ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ کامیاب جوان پروگرام کے تحت ایک مخصوص پورٹل کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔ پورٹل کے تحت  پروگرام سے استفادہ کرنے والے نوجوانوں کا تمام ریکارڈ مرکزی سطح پرجمع ہو سکے گا اور مستند اور قابل اعتماد ڈیٹا میسر آئے گا۔
٭ ماضی کے پروگرام اور موجودہ حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے والے کامیاب جوان پروگرام کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ ماضی میں نوجوانوں کو کاروبار کے لئے قرض فراہم کرنے کا دائرہ کار نہایت محدود تھا لیکن کامیاب جوان پروگرام کے تحت اس دائرہ کار کو بڑھا یا گیا ہے اور قرض کی فراہمی کے لئے دودرجے بنائے گئے ہیں۔ پہلی درجہ بندی میں نوجوانوں کو  اپنا کاروبار شروع کرنے کے لئے ایک سے پانچ لاکھ روپے تک کے قرضے فراہم کیے جائیں گے جبکہ دوسری سطح پر پانچ سے پچاس لاکھ تک کے قرضے فراہم کیے جائیں گے۔
٭ کامیاب جوان پروگرام کے تحت نوجوانوں کے لئے قرض کے حصول کے لئے کسی تیسرے فرد کی جانب سے بنکوں کو گارنٹی فراہم کرنے کی شرط کو ختم کر دیا گیا ہے اور نوجوان براہ راست پورٹل کے ذریعے بنکوں سے قرض حاصل کر سکیں گے۔اس ضمن میں پہلے مرحلے میں تین بنک (نیشنل بنک، بنک آف خیبر اور بنک آف پنجاب) نوجوانوں کو براہ راست قرض فراہم کریں گے۔
٭ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ کامیاب جوان پروگرام کے تحت پورٹل کے قیام کا مقصد پروگرام میں مکمل شفافیت کو یقینی بنانا اور قرضوں کے حصول میں کسی قسم کے صوابدیدی اختیار، ذاتی پسند نا پسند یا کسی دیگروابستگی کو ملحوظِ خاطر لائے بغیر میرٹ کی بنیاد پر قرض فراہم کرنا ہے۔ پورٹل کی مدد سے نوجوان آن لائن درخواستیں جمع کرائیں گے جو نہ صرف فوری طور پر بنکوں تک پہنچیں گی بلکہ وزیرِ اعظم آفس میں بھی اس کامکمل ریکارڈ موجود ہوگا اور اس پورے عمل پر نظر رکھی جاسکے گی تاکہ شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جا سکے۔
٭ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ ماضی میں شروع کیے جانے والے پروگرام کے تحت دیے جانے والے قرضے محض ایک دو شعبوں تک محدود ہو کر
 رہ گئے تھے۔ کامیاب جوان پروگرام میں چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، ای -کامرس اور اسی طرح کے دیگر  جدیدشعبوں میں بھی نوجوانوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے وافر مواقع میسر آئیں۔
٭ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ کامیاب جوان پروگرام کے تحت پانچ سالوں میں ایک سو ارب روپے تک کے قرضے تقریبا ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو فراہم کیے جائیں گے۔
٭ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ کامیاب جوان پروگرام کے تحت قرضوں کا حصول نہایت آسان بنا دیا گیا ہے۔
٭ وزیرِ اعظم نے کامیاب جوان پروگرام ترتیب دینے پر معاون خصوصی برائے امور نوجوانان محمد عثمان ڈار کی کاوشوں کو سراہا۔
٭ وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستانی نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور مناسب مواقع ملنے پر وہ ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا سکہ منواتے ہیں۔
٭ وزیرِ اعظم نے کہا کہ کامیاب  جوان پروگرام نہ صرف نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی بلکہ چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کی ترقی کے فروغ میں بھی ممدو معاون ثابت ہوگا۔
٭  کامیاب جوان پروگرام کا باقاعدہ آغاز وزیرِ اعظم ستمبر کے پہلے ہفتے میں کریں گے