PRIME MINISTER’S MESSAGE ON KASHMIR BLACK DAY

Islamabad: October 26, 2021

Pakistan and millions of Kashmiris observe the Kashmir Black Day every 27 October to condemn the beginning of the illegal occupation of parts of the State of Jammu and Kashmir by India. It is also a day to commemorate the countless sacrifices Kashmiris have made and continue to make as they resist the inhuman occupation and subjugation by India against their will. India's illegal occupation was meant to suppress the legitimate aspirations of the Kashmiri people to freely determine their future, but even after seven decades of brutal rule by Indian Occupation Forces, the will of the Kashmiris remains strong. We salute Kashmiri men, women and children for their resolve, courage and determination. Kashmiris are an inspiration for all freedom-loving people in the world. The long outstanding Jammu and Kashmir dispute has been on the agenda of the UN Security Council since January 1948. It is an internationally recognized dispute as affirmed by numerous UNSC resolutions. Having accepted the UNSC resolutions, and despite the solemn commitments made by the Government of India to the Security Council, Pakistan, other states and to the people of Jammu & Kashmir Indian unilateral action of 5th August 2019 shows its sheer disregard of international law, global community, aspirations of Kashmiri People let alone the UNSC Resolutions. Unfortunately, today’s India is ruled by the RSS ideology whose extremist worldview has no place for Muslims or other minorities. This has led the ruling BJP to resort to more brutal ways for suppression of Kashmiri voices being raised to attain their well-deserved right of self-determination. It has been 815 days since India imposed military siege, media blackout and other restrictions along with unilateral and illegal action of 5 August 2019. The human suffering in the shape of extra-judicial killings in fake encounters, rape and other gross violations of human rights is unspeakable. The introduction of Domicile Laws by the Indian Government to change the demography of the Valley shows Indian intention to change the ground realities regarding this internationally recognized dispute. Pakistan in the Past two years have firmly opposed such Indian actions and unequivocally supported the rights of oppressed Kashmiris. Pakistan has raised the Jammu & Kashmir issue at every forum, including the UN, OIC and bilaterally with important world leaders and capitals. Significantly, for the first time in 55 years, the Jammu and Kashmir dispute has been deliberated upon by the UN Security Council. UNSC has thrice taken up the dispute thereby debunking the false Indian claim that it is an "internal" matter of India. Today, there is increased scrutiny and censure of India by the international community including the UN and other human rights bodies. But, it is not enough. The dossier on India's human rights violations in IIOJK that Pakistan unveiled last month should be an eye-opener for the world. It has irrefutable evidence of India's rogue behavior. The UN Security Council has the responsibility to take steps to ensure the implementation of its resolutions, enabling the people of Jammu and Kashmir to realize their right to self-determination. A just and peaceful settlement of the Jammu and Kashmir dispute, in accordance with Security Council resolutions and the wishes of the Kashmiri people, is indispensable for durable peace and stability in South Asia.I reassure my Kashmiri brothers and sisters that Pakistan will continue to provide all possible support and stand shoulder to shoulder with them till the realization of their legitimate and inalienable right to self-determination. I also urge the international community to play its role in pressing India to stop forthwith its human rights violations in IIOJK, and let the Kashmiris decide their own future in accordance with UNSC Resolutions.

 

 

وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر کے موقع پر پیغام
(27 اکتوبر 2021)

پاکستان اور لاکھوں کشمیری ہر سال 27 اکتوبر کا دن  یوم سیاہ کشمیر سے منسوب کرتے ہیں جس کا مقصد بھارت کی طرف سے ریاست جموں و کشمیر کے کچھ حصوں پر غیر قانونی قبضے کی مذمت کرنا ہے۔ یہ کشمیریوں کی ان لاتعداد قربانیوں کی یاد تازہ کرنے کا بھی دن ہے جو انہوں نے بھارت کے غیر انسانی تسلط کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے دیں۔

بھارت کے ناجائز قبضے کا مقصد کشمیری عوام کی اپنے مستقبل کا آزادانہ طور پر تعین کرنے کی جائز امنگوں کو دباناہے،لیکن بھارتی قابض افواج کی 7 دہائیوں کے ظلم و جبر کے باوجودکشمیریوں کا عزم مضبوط ہے۔ ہم کشمیری باشندوں، عورتوں اور بچوں کے عزم وحوصلے کو سلام پیش کرتے ہیں۔ کشمیری دنیا کے تمام آزادی پسند لوگوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔

جموں و کشمیر کا دیرینہ تنازعہ جنوری 1948 سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کو تسلیم کرنے کے بعد، بھارت حکومت کی طرف سے سلامتی کونسل، پاکستان، دیگر ریاستوں اور جموں و کشمیر کے عوام سے کئے گئے پختہ وعدوں کے باوجود 5 اگست 2019 کی ہندوستانی یکطرفہ کارروائی بین الاقوامی قانون کی کھلم کھلا بے توقیری ہے اور کوشش ہے کے بین الاقوامی کمیونٹی کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کو ترک کر دے۔

بدقسمتی سے، آج کے ہندوستان پر آر ایس ایس کے نظریے کی حکمرانی ہے جس کے انتہا پسند  نظریے میں مسلمانوں یا دیگر اقلیتوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے حکمراں بی جے پی نےکشمیریوں کی آوازکو دبانے کے لیے مزید ظالمانہ طریقے اختیار کر لیے ہیں
تاکہ ان کی حق خودارادیت کے حصول کے لیے آواز کو دبایاجا سکے۔

بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 کو یکطرفہ اور غیر قانونی کارروائی کے ساتھ فوجی محاصرہ، میڈیا بلیک آؤٹ اور دیگر پابندیاں عائد کیے ہوئے 815 دن ہو چکے ہیں۔ جعلی مقابلوں، عصمت دری اور انسانی حقوق کی دیگر سنگین خلاف ورزیوں میں ماورائے عدالت ہلاکتوں کی شکل میں انسانی مصائب ناقابل بیان ہیں۔ وادی کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے لیے بھارتی حکومت کی طرف سے ڈومیسائل قوانین متعارف کروانا اس بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ کے بارے میں زمینی حقائق کو تبدیل کرنے کے بھارتی ارادوں کی عکاسی کرتا ہے۔

پاکستان نے گزشتہ دو سالوں میں ان تمام غیر قانونی  بھارتی اقدامات کی سختی سے مخالفت کی ہے اور مظلوم کشمیریوں کے حقوق کی واضح حمایت کی ہے۔ پاکستان نے جموں و کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ، او آئی سی سمیت ہر فورم پر اور دو طرفہ طور پر اہم عالمی رہنماؤں اور ممالک کے ساتھ اٹھایا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ 55 سالوں میں پہلی بار جموں و کشمیر کے تنازعہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے  زیرغور لایا ہے۔ سلامتی کونسل نے تین بار اس تنازعہ کو اٹھایا ہے اور اس طرح جھوٹ پر مبنی ہندوستانی دعوے کو رد کیا ہے کہ یہ ہندوستان کا "اندرونی" معاملہ ہے۔

آج، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے دیگر اداروں سمیت بین الاقوامی برادری کے ذریعہ ہندوستانی اقدامات کی مذمت میں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن، یہ کافی نہیں ہے۔ IIOJK میں ہندوستان کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں ڈوزیئر جس کی پاکستان نے گزشتہ ماہ نقاب کشائی کی وہ دنیا کے لیے چشم کشا ہونا چاہیے۔ اس میں بھارت کےغیر انسانی رویے کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے، جس سے جموں و کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت کا بنیادی حق مل سکے۔

سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازعہ جموں و کشمیر کا منصفانہ اور پرامن حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ ہم ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کے حصول تک ہر ممکن حمایت اور ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے رہیں گے۔

میں عالمی برادری پر بھی زور دیتا ہوں کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو فوری طور پر روکے اور کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق دلانے میں اپنا کردار ادا کرے۔