یوم سیاہ کشمیر کے موقع پر وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان کا پیغام

یوم سیاہ کشمیر کے موقع پر وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان کا پیغام
اس سال یوم سیاہ کشمیر، جو پاکستان سمیت دنیا بھر میں منایا جارہا ہے، ماضی کی نسبت  مختلف اورنمایاں ہے۔ 27  اکتوبر 1947ء کو بھارت نے بین الاقو امی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جموں و کشمیر پر قبضہ کیا اور  5 اگست 2019ء کو مزید یکطرفہ اقدامات کے ذریعے پہلے سے متنازعہ علاقے کی حیثیت میں ترامیم کرتے ہوئے آباد یاتی ڈھانچے اور شناخت کو تبدیل کردیا۔ پاکستان، کشمیریوں اور مسلم امہ نے واضح طور پر قانون اورا نصاف کے اس تمسخر کو مسترد کردیاہے۔
5  اگست 2019ء سے بھارتی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں کئی گنا اضافہ اور ان کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ غاصب  فوج کی  نفری میں اضافہ اور گذشتہ تین ماہ سے ذرائع ابلاغ کےمکمل بلیک آؤٹ کی وجہ سے بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کرہ ارض کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل ہوچکا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں اس وقت ادویات اور اشیائے خورد نوش کی شدید قلت ہے۔ ہزاروں افراد جابرانہ حراست میں لے لیے گئے ہیں۔ ہزارو ں نوجوانوں کو اغوا ء کرکے نامعلوم مقام پر قید کردیا گیا ہے اور ان کے ساتھ غیر انسانی اور تضحیک آمیز سلوک کیا جارہا ہے۔ بھارتی ریاستی دہشت گردی  آج پہلے سے کہیں زیادہ سفاکانہ رخ اختیار کر گئی ہے۔
عالمی برادری، بین الاقوامی انسانی حقو ق کی تنظیمیں او ر عالمی ذرائع ابلاغ بھارت سے اس جبر کو ختم کرنے کا کہہ رہے ہیں۔ نام نہاد "بڑی جمہوریت" ہونے کے دعویدار  بھارت کا اصل چہرہ مکمل طورپر بے نقاب ہوچکا ہے۔
پاکستان فوری طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرفیو اور ذرائع ابلاغ کے بلیک آؤٹ کے خاتمے کے ساتھ ساتھ بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کی منسوخی کا مطالبہ کرتا ہے۔ ہم عالمی برادری پر زور دیتے ہیں کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مظلوم کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقو ق کے احترام اور آزادی کو یقینی بنانے، اور بھارت کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کی وجہ سے امن و سلامتی کو لاحق شدید خطرات کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرے۔
ہم مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام سے غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور اپنے کشمیری بھائیوں و بہنوں کو یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان ہمیشہ ان کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔ پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی روشنی میں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ  قرار دادوں کے عین مطابق، حق خود ارایت کے حصول تک ان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔