وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وزارت اطلاعات ونشریات اور اس کے ذیلی اداروں کی ایک سالہ کارکردگی کا جائزہ اجلاس

August 05, 2019

 

اسلام آباد،5  اگست 2019ء
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وزارت اطلاعات ونشریات اور اس کے ذیلی اداروں کی ایک سالہ کارکردگی کا جائزہ اجلاس۔
اجلاس میں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی برائے سیاسی امور نعیم الحق، سیکرٹری اطلاعات، چیئرمین اور ایم ڈی پی ٹی وی، اور سینئر افسران کی شرکت۔
وزیراعظم کو وزارت اطلاعات ونشریات اور اس کے ذیلی اداروں بشمول پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ، ریڈیو پاکستان، پاکستان ٹیلی ویژن، اے پی پی اور دیگر اداروں کی ایک سالہ کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
 بریفنگ میں معاون خصوصی  ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ  وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق اطلاعات تک رسائی کے قانون 2017ء کے تحت انفارمیشن کمشنرز تعینات کرنے کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عبوری ویج ایوارڈ کا اعلان کیا جا چکا ہے جبکہ آٹھویں ویج ایوارڈ  کو مرتب کرنے پر کام جاری ہے ۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ  وزیرِ اعظم کی کفایت شعاری مہم کے تحت وزارت اطلاعات نے گذشتہ سال بیس کروڑ روپے کی بچت کی اور وزارت کے ذیلی اداروں  اے پی پی اور پی بی سیسے ریٹائرڈ ملازمین کو 1.5ارب روپے پنشن کی مد میں واجبات ادا کیے گئے اسی طرح پی ٹی وی کے ملازمین کو پینشن واجبات کے طور پر ڈیڑھ ارب روپے ادا کر دیے گئے ہیں۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ وزارت اطلاعات اشتہاروں کی منصفانہ تقسیم اور حکومتی منصوبوں کو موثر طورپر اجاگر کرنے کے لیے ایک نئی پالیسی جلد منظوری کے لیے پیش کرے گی۔  اداروں کو مزید فعال بنانے کے لیے وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق تنظیم نو پر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔
چیئرمین پاکستان ٹیلی ویژن نے سرکاری ٹی وی میں کی جانے والی اصلاحات اور انکے نتائج سے بھی وزیرِ اعظم کو آگاہ کیا۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت کی کارکردگی کو اجاگر کرنے میں وزارت اطلاعات کا بہت اہم کردار ہے۔ اس ضمن میں وزیراعظم نے ہدایات جاری کیں کہ تمام وفاقی وزارتیں اپنی اپنی ایک سالہ کارکردگی کی رپورٹ وزارت اطلاعات کو فراہم کریں تاکہ عوام الناس کو پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی سے آگاہی حاصل ہو۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ٹیلی وژن قومی تشخص، تہذیب وتمدن اور ہمارے اقدار کی ترجمانی کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ  معاشرے میں پاکستانیت کو اجاگر کرنے کے لئے ایسے پروگرام مرتب کیے جائیں جو حقیقی معنوں میں ہمارے معاشرتی اقدار کی عکاسی کرتے ہوں۔