وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت "احساس اسٹیرنگ کمیٹی" وزیرِ اعظم آفس میں پہلا اجلاس

July 08, 2019


اسلام آباد، 08جولائی2019:

٭ وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت "احساس اسٹیرنگ کمیٹی" وزیرِ اعظم آفس میں پہلا اجلاس
٭ اجلاس میں وزیرِ تعلیم شفقت محمود، وزیرِ برائے بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، وزیرِ منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر، معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی یوسف بیگ مرزا، معاون خصوصی ندیم افضل گوندل، وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخواہ محمود خان، وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن، وزیرِ اعظم آزاد جموں و کشمیر راجا فاروق حیدر، چئیرمین قومی اسمبلی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے خزانہ اسد عمر،  صوبہ بلوچستان  اور سندھ کے نمائندے  اور سینئر افسران شریک
٭ معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی جانب سے شرکاء کو سماجی تحفظ کے ضمن میں حکومت کی جانب سے  شروع کیے جانے والے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے  "احساس پروگرام " کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ
٭ ڈاکٹر ثانیہ نے بتایا کہ سماجی تحفظ کے حوالے سے شروع کیے جانے والے مفصل اور جامع احساس پروگرام کے 115پالیسی مقاصد جب کہ چاربنیادی شعبوں میں سماجی تحفظ، وسائل  انسانی کی ترقی، روزگار کی فراہمی اور حکومتی وسائل پر اشرافیہ کی گرفت ختم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت مختلف سماجی پروگراموں کو یکجا کرنے اور ان کے درمیان ربط کو یقینی بنانے کے لئے غربت کے خاتمے اور سماجی تحفظ کے حوالے سے علیحدہ ڈویژن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ ڈاکٹر ثانیہ نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت شروع کیے جانے والے مختلف پروگراموں پر عمل درآمد کے سلسلے میں 28وفاقی وزارتوں، مختلف اداروں بشمول صوبائی حکومتوں کو ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں۔
٭ ڈاکٹر ثانیہ نے" احساس پروگرام " کے تحت اب تک جاری کردہ اور آئندہ مہینوں میں  شروع کیے جانے والے پروگراموں کے بارے میں آگاہ کیا۔     
٭ وزرائے اعلیٰ، وزیرِ اعظم آزاد جموں و کشمیر اور صوبائی نمائندوں نے صوبائی سطح پر سماجی تحفظ کے حوالے سے مختلف منصوبوں اورجاری پروگراموں کے حوالے سے آگاہ کیا۔
٭ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے شروع کیا جانے والا "احساس" پروگرام  جہاں ملکی تاریخ کا سب سے مفصل پروگرام ہے وہاں اس پروگرام کا مقصد ریاست کی جانب سے معاشرے کے کمزور طبقات اور ضرورتمند افرادکی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں سماجی تحفظ کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی پروگراموں میں باہمی ربط اور کوارڈینیشن کا فقدان رہا  جس کے نتیجے میں جہاں ایک طرف وسائل کا زیاں سامنے آیا وہاں بسااوقات حقدار بھی اپنے حق سے محروم رہے ہیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ غربت کے حوالے سے اب تک موجود اعداد و شمار خصوصا غربت سروے پر مختلف حلقوں کے تحفظات کو مد نظر رکھتے ہوئے موجودہ حکومت نے غربت کے سروے کو از سر نو کرانے کا فیصلہ کیا تاکہ غربت کے حوالے سے صحیح اعداو شمار مرتب کئے جا سکیں۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ غربت کے سروے کے عمل کو جلد مکمل کرنے کی کوشش کی جائے۔
٭ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ماضی میں سماجی تحفظ کے حوالے سے شروع کیے جانے والے پروگراموں میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی کے فقدان پر قابو پانے کے لئے اعلیٰ سطحی اسٹیرنگ کمیٹی قائم کی گئی ہے تاکہ جہاں اس جامع پروگرام پر وفاقی و صوبائی سطح پر متوازن عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے وہاں صوبوں کی سطح پر مقامی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے سماجی تحفظ کے پروگراموں کو مزید موثر بنا سکے۔