وزیرِ اعظم عمران خان سے نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء کی وزیرِ اعظم آفس میں ملاقات

July 02, 2019

 

اسلام آباد، 2 جولائی2019:

٭ وزیرِ اعظم عمران خان سے نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء کی وزیرِ اعظم آفس میں ملاقات
وزیر دفاعی پیدا وار زبیدہ جلال بھی ملاقا ت کے دوران موجود تھیں ۔ ورکشاپ کا انعقاد پاکستان آرمی ، سدرن کمانڈ نے بلوچستان حکومت کے اشتراک سے کیا ہے تاکہ شرکاءکو اہم سیکیورٹی امور سے متعلق آگاہی فراہم کی جاسکے ۔ شرکاءمیں سیاست دان ، سماجی کارکن ، تعلیم ، صحت ،قانون اور زندگی کے دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے افرادشامل تھے۔

شرکاءنے وزیراعظم کو متوازن بجٹ دینے پر مبارک باد پیش کی اور قومی نوعیت کے معاملات خصوصا بلوچستان کو صحت ، تعلیم ، پانی اور بجلی کے حوالے سے درپیش مسائل اور ماضی میں گذشتہ حکومتوں کی بلوچستان پر عدم توجہ کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے صوبے کی سماجی و معاشی ترقی پر بات چیت کی ۔ شرکاء نے کہا کہ پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کی وجہ سے بلوچستان میں امن بحال ہوا۔

شرکاءنے وزیراعظم کو کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے اقدامات اٹھانے پر خراج تحسین پیش کیا ۔ شرکاءکے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ ہم نے نئے پاکستان کا تصور دیا ہے جو قائد اعظم اورعلامہ اقبال کے خواب اور جدو جہد کا حاصل تھا ۔ وزیراعظم عمران خان نے ریاست مدینہ کے اصولوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان اصولوں کی بنیاد پر بہت کم عرصے میں مسلمانوں نے دنیا بھر میں بلند مقام حاصل کیا ۔ وزیراعظم نے مزید کہاکہ جن اقوام نے مدینہ کی ریاست کے اصول اپنائے وہ ترقی سے ہمکنار ہوئیں او رجو قومیں ان اصولوں سے پیچھے ہٹ گئیں وہ ترقی نہ کرسکیں ۔
وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ قومیں قانون کی عمل داری اور یکساں اطلاق ، میرٹ کی بالادستی اور حکمران کی جوابدہی کی بنیاد پر ترقی کرتی ہیں ۔ بدقسمتی سے ہم قائد اعظم کی وفات کے بعد اپنے نظریہ سے دور ہوگئے ۔ ہم اس نظریے سے دور ہو گئے جس کی بنیاد پر پاکستان کا قیام عمل میں آیااور جس کے تحت پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانا مقصود تھا ۔

شرکاءکے بلوچستان میں بھی Spiritual University

 کے قیام کے مطالبے پر وزیراعظم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا مقصد تحقیقی عمل کا فروغ اور عوام میں آگہی پیدا کرنا ہے کہ مدینہ کی ریاست دنیا کی تاریخ کا بہت بڑا انقلاب تھا ۔ وزیراعظم نے کہاکہ ہم یونیورسٹی میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم کے ساتھ ساتھ یہ بھی ممکن بنائیں گے کہ لوگوں کو تعلیم کےبنیادی مقصد سے روشناس کروایا جائے۔ وزیراعظم نے کہاکہ آج جو مشکلات ہمیں درپیش ہیں ان کی بنیادی وجوہات نظریہ پاکستان سے روگردانی اور کرپشن ہے ۔

بلوچستان کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ بلوچستان خوشحال صوبہ بنے گا ۔ ہمیں صرف گورننس، صحت اور تعلیم کا نظام ٹھیک کرنا ہے جس کے لیے ہم بھرپور اقدامات اٹھا رہے ہیں ۔ سی پیک کی وجہ سے بلوچستان بہت اہمیت کا حامل ہے ۔سی پیک کی وجہ سے بلو چستان میں ترقی اور روز گار کے بے شمار مواقع میسر ہونگے اور گوادر عنقریب ایک ترقی یافتہ علاقہ بنے گا ۔ وزیراعظم نے صوبے میں معدنیات اور گیس کے بڑے پیمانے پر ذخائر سے استفادہ کرنے کے حوالے سے حکومتی اقدمات سے بھی شرکاءکو آگاہ کیا اور کہاکہ معدنیات کی آمدن میں بلوچستان کا حصہ پہلے سے زیادہ ہوگا کیونکہ بلوچستان ماضی کی پالیسیوں کی وجہ سے پسماندہ رہ گیا ہے ۔ وزیراعظم نے مزید کہاکہ دس سال کے بعد پہلی مرتبہ بلو چستان کے بجٹ میں اضافہ کیا گیاہے ۔ ماضی میں بلوچستان کو اس کا جائز حصہ نہیں دیا جاتا تھا او ر جو حصہ ملتا تھا وہ بھی کرپشن کی نظر ہوجاتا تھا۔ وزیراعظم نے صوبہ بلوچستان میں مقامی حکومتوں کے نظام کو رائج کرنے کے حوالے سے اپنے خیالات سے آگاہ کرتے ہوئے کہاکہ جب مقامی لوگوں کو فنڈز براہ راست میسر ہونگے تو وہ اپنے علاقے کی ترقی پر خرچ کرسکیں گے ۔

وزیراعظم نے صوبے میں شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کے قیام ، بجلی ، پانی اور صحت خصوصا ہیپاٹائسس پر قابو پانے کے حوالے سے پروگرام پر شرکاءکوآگاہ کیا اور خواتین کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک وہاں کی خواتین تعلیم یافتہ نہ ہوں ۔