وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے اپنے منشور کو عملی جامہ پہناتے ہوئے آٹھ ماہ کی قلیل مدت میں عوامی فلاح و بہبوداور اقتصادی ترقی کے حصول کے لئے کم و بیش چھتیس اہم منصوبوں کا آغاز کیا۔

May 09, 2019

 

اسلام آباد، 09مئی2019:
٭ وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے اپنے منشور کو عملی جامہ پہناتے ہوئے آٹھ ماہ کی قلیل مدت میں عوامی فلاح و بہبوداور اقتصادی ترقی کے حصول کے لئے کم و بیش چھتیس اہم منصوبوں کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ  غربت کے خاتمے کے لئے ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ "احساس"کے عنوان سے ایک جامع اور مفصل پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ اس پروگرام سے نہ صرف صحت، تعلیم، روزگار کی فراہمی اور معاشرے کے کمزور طبقوں کی ضروریات کے ضمن میں ریاست کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں مدد ملے گی بلکہ عوام کی فلاح و بہبود کے لئے حکومتی وسائل کا منظم اور مربوط طریقے سے استعمال یقینی بنایا جا سکے گا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملک میں سیاحت کے مواقع کو اندرون ملک وعالمی سطح پر اجاگر کرانا،  عوام الناس کو صحیح معنوں میں بااختیار بنانے کے لئے مقامی حکومتوں کا نظام، کلین اینڈ گرین پاکستان منصوبہ،  ملکی معیشت کی بہتری اور کارواباری طبقوں کے سہولت کے لئے اقدامات، پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر، زراعت کے شعبے میں جدت و ٹیکنالوجی کا فروغ اورانصاف کی فراہمی کے سلسلے میں کیے جانے والے اقدامات حکومت کے اہم منصوبوں میں سرفہرست ہیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملک بھر میں پناہگاہوں کا قیام کا منصوبہ اس بات کا مظہر ہے کہ کمزور اور نادار طبقوں کی فلاح و بہبود کے لئے حکومت کو اپنی ذمہ داریوں کا مکمل احساس ہے۔ انہوں نے کہا ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کی جانب سے شروع کیے جانے والے فلاحی منصوبوں کے بارے میں عوام کو مکمل آگاہی فراہم کرکے ان منصوبوں میں انکی شرکت یقینی بنائی جائے تاکہ یہ منصوبے کامیابی کی منازل طے کر سکیں۔
وزیرِ اعظم آج وزیرِ اعظم آفس میں مختلف سرکاری محکموں کی جانب سے کارپوریٹ سوشل ریسپانس بیلیٹی کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔
اجلاس میں  معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، یوسف بیگ مرزا، افتخار درانی، ترجمان ندیم افضل چن، ڈاکٹر ثانیہ نشتر، سیکرٹری خزانہ محمد یونس ڈھاگہ، سیکرٹری اطلاعات شفقت جلیل، چئیرمین نادرا، صدر نیشنل بنک، صدر زرعی ترقیاتی بنک لمیٹڈ، ایگزیکیٹیو وائس پریذیڈنٹ بنک آف پنجاب، سی ای او بنک آف خیبر، سوئی نادرن اور سوئی سدرن کمپنیوں کے مینیجنگ ڈائریکٹر اور ایم ڈی پی ایس او سمیت دیگر افراد موجود تھے۔ صوبائی وزیرِ سیاحت خیبر پختونخواہ محمد عاطف بھی ملاقات میں موجود تھے۔
مختلف سرکاری کمپنیوں کے سربراہان نے وزیرِ اعظم کو کارپوریٹ سوشل ریسپانسبیلیٹی کے ضمن میں اٹھائے جانے والے اقدامات سے وزیرِ اعظم کو آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی فلاح سے متعلق مختلف اہم منصوبوں اور اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔
زرعی ترقیاتی بنک کے صدر نے وزیرِ اعظم کو بتایا کیا زرعی ترقیاتی بنک کی جانب سے کسانوں اور خصوصا چھوٹے کسانوں کو بلا سود قرضے فراہم کرنے کے لئے ای کریڈٹ کے نام سے منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت پنجاب میں کسانوں کو اب تک گیارہ ارب روپے قرضہ فراہم کیاجا چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آزادکشمیر کی حکومت کے تعاون سے آزاد کشمیر میں بھی اس منصوبے کو شروع کر دیا گیا ہے جبکہ بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومتوں سے اس سلسلے میں بات چیت جاری ہے۔ صدر زرعی ترقیاتی بنک نے بتایا کہ بنک کو ڈیجیٹل کرنے اور کسانوں کو اے ٹی ایم کی سہولت فراہم کرنے پر بھی کام جاری ہے۔
خیبر بنک کی جانب سے وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ بنک انضمام شدہ قبائلی علاقوں میں روزگار کی فراہمی پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ طالبعلموں کو سکالرشپ کی فراہمی  اور خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے  کے منصوبوں پر بھی  خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ بنک آف خیبر انضمام شدہ قبائلی علاقوں کے نوجوانوں کو کاروبار شروع کرنے کے لئے آسان قرض فراہم کرنے پربھی خصوصی توجہ دے رہا ہے اور اس ضمن میں پچاس ہزار سے دس لاکھ تک کے قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ با صلاحیت نوجوانوں کو اپنا روزگار قائم کرنے میں مدد ملے۔
وزیرِ اعظم نے مختلف کمپنیوں کی جانب سے سوشل ریسپانسیبیلیٹی کی مد میں اٹھائے جانے والے اقدامات کو سراہا۔