وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت توانائی کے شعبے میں کی جانے والی اصلاحات اور اب تک ہونے والی پیش رفت پر اعلیٰ سطحی اجلاس

May 06, 2019

 

اسلام آباد،06مئی 2019:
٭ وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت توانائی کے شعبے میں کی جانے والی اصلاحات اور اب تک ہونے والی پیش رفت پر اعلیٰ سطحی اجلاس
٭ اجلاس میں  وزیرِ توانائی عمر ایوب خان،مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ،  معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، ترجمان ندیم افضل چن، معاون خصوصی یوسف بیگ مرزا، سیکرٹری پاور عرفان علی و دیگر اافسران شریک
٭ وزیرِ اعظم کو توانائی کے شعبے میں کی جانے والی اصلاحات، بجلی چوری کی روک تھام، ترسیل و تقسیم کے عمل میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے، گردشی قرضوں کے مسئلے پر قابو پانے اور دیگر متعلقہ معاملات پر تفصیلی بریفنگ
٭ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ مالی سال 2017-18میں محض ایک سال میں گردشی قرضوں میں 450ارب روپے کا اضافہ ہوا۔
٭ اکتوبر2018میں موجودہ حکومت کی جانب سے چوری کی روک تھام اور واجبات کی وصولیوں کے سلسلے میں باقاعدہ مہم شروع کی گئی جس کے مثبت نتائج برآمد ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
٭ دسمبر2018سے مارچ 2019تک  بجلی چوری کی روک تھام اور واجب الادا رقوم کی وصولیوں کی مد میں محض چار ماہ میں 48ارب کی اضافی رقم وصول کی گئی ہے جوکہ رواں سال کے اختتام تک 80ارب تک پہنچ جائے گی۔اضافی وصولیاں آئندہ سال110ارب تک پہنچ جائیں گی جبکہ جون 2020تک 190ارب روپے اکٹھے کیے جانے کی توقع ہے۔
٭ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ توانائی کے شعبے میں چوری،تکنیکی وجوہات اور ترسیل و تقسیم کے ضمن میں ہونے والے نقصانات پر قابوپانے کی طرف خصوصی توجہ دی جا رہی ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
٭ بجلی چوری کی روک تھام کی مہم میں پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ اب تک ستائیس ہزار سے زائد ایف آئی آر درج کرائی جا چکی ہیں اور 4225 گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں، گرفتار شدگان میں 433  اہلکار ہیں جبکہ 1467مزید اہلکاروں کو چارج شیٹ کیا گیا ہے۔
٭ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ ترسیلی نظام کی 15بڑی خامیوں کو دور کیا جا چکا ہے جس سے نظام کی صلاحیت میں 3000میگا واٹ کا اضافہ ہوا ہے۔
٭ ترسیل و تقسیم کے نظام میں بہتری کی وجہ سے ماہ رمضان میں ملک بھر میں 80فیصد فیڈرز پر کسی قسم کی کوئی لوڈشیڈنگ نہیں کی جائے گی۔ بقیہ 20فیصد فیڈرز پر کہ جہاں بعض مقامات پربجلی چوری کی شرح اسی فیصد سے بھی زائد ہے وہاں نقصانات کے تناسب سے لوڈ مینیجمنٹ کا پلان ترتیب دیا گیا ہے تاہم اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ سحر و افطار میں ملک بھر میں بلا تعطل بجلی فراہم کی جائے۔
٭ گردشی قرضوں کے مسئلے پر قابو پانے کے حوالے سے تفصیلی پلان پر بریف کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ سال 2017-18کے450ارب  روپے کے گردشی قرضوں کو سال 2018-19میں 293ارب  روپے تک لایا جا ئے گا جبکہ2019-20تک ان کو 96ارب  روپے تک لایا جائے گا۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ گردشی قرضوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کا ہدف دسمبر2020  ہے۔
٭ بجلی کے نرخوں پر بات کرتے ہوئے اجلاس کو بتایا گیا کہ گذشتہ دورِ حکومت میں ناقص حکمت عملی کی وجہ سے نیٹ ہائیڈل پرافٹس اور مختلف منصوبوں کی مد میں اٹھائے جانے والے اخراجات کو بجلی کے نرخوں میں شامل نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے صارفین کو اب اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
٭ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ سابق حکمرانوں کی جانب سے ماضی میں مختلف شعبوں کے لئے سبسڈی کا تو اعلان کیا جاتا رہا لیکن بجٹ میں مطلوبہ رقوم مختص نہیں کی گئیں جس سے شعبہ مالی مشکلات کا شکار ہوتا گیا۔ 
٭ اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ آئندہ25سال کے لئے طلب و رسد کا پلان مرتب کیا گیا ہے۔
٭ سستی بجلی کی پیداوار کے حوالے سے بتایا گیا کہ قابل تجدید ذرائع سے بجلی کی پیداوار کی نئی پالیسی تشکیل دی جا چکی ہے۔ اس پالیسی کا مقصد 2025تک کل پیداوار کا 20فیصد قابل تجدید ذرائع سے بجلی حاصل کرنا جبکہ2030تک یہ شرح 30فیصد تک لے جانا ہے۔
٭  پٹرولیم کے شعبے میں کی جانے والی اصلاحات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ایکسپلوریشن اینڈ پروڈوکشن کے حوالے سے پالیسی میں ترمیم کی جا رہی ہے اور ملکی تاریخ کی پہلی شیل پالیسی ترتیب دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کے شعبے میں پالیسی اور ریگولیشن کے محکمہ جات کو علیحدہ کیا جارہا ہے۔  وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کے ضمن میں چالیس بلاکس کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔ان بلاکس کو برؤے کار لانے کے سلسلے میں معروف غیر ملکی کمپنیوں کو راغب کرنے کے لئے بین الاقوامی طور پر روڈ شوز کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ جدید ٹیکنالوجی کی حامل غیر ملکی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی جا سکے اور تیل و گیس کے ذخائر سے استفادہ حاصل کیا جا سکے