وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت انضمام شدہ قبائلی علاقہ جات کی تعمیر و ترقی میں پیش رفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس

April 17, 2019

اسلام آباد،17اپریل2019:

*وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت انضمام شدہ قبائلی علاقہ جات کی تعمیر و ترقی میں پیش رفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس

* اجلاس میں وزیرِ خزانہ اسد عمر، وزیرِ برائے منصوبہ بندی خسرو بختیار، گورنر خیبر پختونخواہ شاہ فرمان، وزیرِ اعلی خیبر پختونخواہ محمود خان، وزیرِ اعظم کے مشیر ارباب شہزاد، معاون خصوصی افتخار درانی، متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے وفاقی و صوبائی سیکریٹریز و دیگر افسران شریک

* وزیرِ اعظم عمران خان کو انضمام شدہ علاقہ جات کے سالانہ ترقیاتی پروگرام اور آئندہ دس سالوں کے ترقیاتی منصوبوں ، رواں مالی سال کے لئے مختص و جاری شدہ فنڈز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ

* سالانہ ترقیاتی پروگرام 2018-19 میں انضمام شدہ علاقوں کی تعمیر و ترقی کے لئے 1186منصوبے شامل ہیں جن میں سے 726جاری جبکہ 460نئے منصوبے ہیں ۔ ان منصوبوں میں تعلیم، صحت، مواصلات، بجلی، زراعت اور انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ وغیرہ کے منصوبے شامل ہیں۔

* وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ انضمام شدہ علاقوں میں معاشی ترقی کا فروغ،مواصلات کی سہولتوں کی بہتری، اربن سنٹرز کی ڈویلپمنٹ، انسانی وسائل میں سرمایہ کاری ، بہتر حکومتی نظام اور اداروں کی تعمیر و ترقی دس سالہ ترقیاتی منصوبے کے اہم ستون ہیں۔ 

* اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ انضمام شدہ علاقوں کی عوام نے ملک کے لئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور تکالیف برداشت کی ہیں۔ انضمام شدہ علاقوں کی عوام کی تعمیر و ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

* وزیرِ اعظم نے ہدایت کہ انضمام شدہ علاقوں کی عوام کے نقصانات کا ازالہ کرنے کے لئے حکومت کی جانب سے اعلان کردہ معاوضے کی ادائیگی کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے۔ 

* وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ انضمام شدہ علاقوں کی عوام میں صحت انصاف کارڈ کی تقسیم کے عمل کو مزید تیز کیا جائے۔ 

* انہوں نے ہدایت کہ ماہ رمضان کے دوران انضمام شدہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی کی بہتر صورتحال کو یقینی بنانے کے لئے بھی فوری اقدامات کیے جائیں۔ 

* وزیرِ اعظم نے کہا کہ عوامی نمائندے انضمام شدہ علاقوں کی عوام سے روابط کو مزید بہتربنائیں تاکہ تعمیر و ترقی کے سفر میں عوام کی شراکت کو یقینی بنایا جاسکے