وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت دورہ چین کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس

April 11, 2019

اسلام آباد، 11اپریل2019

* وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت دورہ چین کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس
* اجلاس میں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیرِ اطلاعات چوہدری فواد حسین، وزیر برائے فوڈ سیکیورٹی صاحبزادہ محمد محبوب سلطان، وزیرِ برائے ایجوکیشن شفقت محمود، وزیرِ ریلوے شیخ رشید احمد، وزیرتوانائی عمر ایوب خان، چئیرمین ٹاسک فورس برائے سائنس و ٹیکنالوجی ڈاکٹر عطاء الرحمن و دیگر افسران کی شرکت
* اجلاس میں وزیرِ اعظم کے آئندہ دورہ چین کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے سلسلے میں کی جانے والی تیاریوں کا جائزہ
* سی پیک ون محض چند پاور پلانٹس اور تین سڑکوں پر مشتمل تھا۔ جبکہ موجودہ حکومت کے دور میں سی پیک کے دوسرے مرحلے میں زراعت، تعلیم، صحت، پانی کے منصوبوں، فنی تعلیم و اسکل ڈویلپمنٹ، ٹرانسپورٹ ، مین لائن 1-کی اپ گریڈیشن و دیگر اہم منصوبے شامل ہیں: وزیرِ اعظم 
* ایک محدود وقت میں کثیر تعداد کو غربت کے دائرے سے نکالنے کا چین کا کامیاب تجربہ قابلِ تقلید ہے۔۔ حکومت غربت کے خاتمے کے لئے چین کے کامیاب تجربے سے استفادہ کرنا چاہتی ہے : وزیرِ اعظم
* زراعت ، صنعت و دیگر شعبوں میں چین کی مہارت سے سیکھنا چاہتے ہیں: وزیرِ اعظم
* سی پیک منصوبہ نہ صرف حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے بلکہ ہم اس منصوبے کا دائرہ کار مزید وسیع کرنا چاہتے ہیں تاکہ دیگر ممالک بھی اس اہم منصوبے کا حصہ بنیں اور خطے میں تعمیر و ترقی کا نیا باب روشن ہو: وزیرِ اعظم
* سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں چین کی بے مثال ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس شعبے میں تعاون کا فروغغ دورے کا اہم مقصد ہے، کوشش ہے کہ کم از کم بیس ہزار پاکستانی طلبہ کے وظائف اور انکی چین میں جدید علوم میں تعلیم حاصل کرنے کی راہ ہموار ہو سکے: وزیرِ اعظم
* آٹھ بڑے شعبوں بشمول مائننگ، ہائی سپیڈ ریلوے ، مینوفیکچرنگ، ایگریکلچر وغیرہ میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ جہاں ان جدید شعبوں چینی مہارت سے استفادہ کیا جاسکے وہاں ٹیکنالوجی ٹرانسفر بھی عمل میں آئے: وزیرِ اعظم