وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت منی لانڈرنگ کی روک تھام کے سلسلے میں اٹھائے جانے والے قانونی اور انتظامی اقدامات اور اب تک ہونے والی کامیابیوں پر اعلیٰ سطحی اجلاس

March 13, 2019


اسلام آباد، 13مارچ 2019:
* وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت منی لانڈرنگ کی روک تھام کے سلسلے میں اٹھائے جانے والے قانونی اور انتظامی اقدامات اور اب تک ہونے والی کامیابیوں پر اعلیٰ سطحی اجلاس
* اجلاس میں وزیرِ خزانہ اسد عمر، وزیرِ اطلاعات چوہدری فواد حسین، وزیرِ قانون فروغ نسیم،وزیرِ مملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی ، معاون خصوصی افتخار درانی، ترجمان ندیم افضل چن، سیکرٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے، چئیرمین ایف بی آر اور دیگر سینئر افسران کی شرکت
* وزیرِ قانون محمد فروغ نسیم کی وزیرِ اعظم کو منی لانڈرنگ کے قوانین کو مزید موثر بنانے کے لئے فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947، اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010اور اینٹی ٹیررازم ایکٹ 1997میں کی جانے والی ترامیم پر تفصیلی بریفنگ
* منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لئے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ2010کی متعلقہ دفعات کو اینٹی ٹیررازم ایکٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ
* فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947 میں ترمیم کے ذریعے فیرا قوانین کی خلاف ورزی کی سزا دو سال سے بڑھا کر پانچ سال کرنے کی تجویز 
* مجوزہ ترمیم کے ذریعے فیرا سے متعلقہ جرائم قابل دست اندازی اور ناقابل ضمانت کیے جائیں گے۔ 
* فیرا میں مجوزہ ترامیم کے ذریعے فیرا کیسز میں تمام جرائم کا ٹرائل چھ ماہ سے ایک سال میں مکمل کیا جائے گا۔ 
* اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ میں ترمیم کرکے اے ایم ایل جرائم کی سزا دس سال تک جبکہ جرمانہ بڑھا کر پچاس لاکھ کیا جائے گا۔
*انسدادِ دہشت گردی قانون میں کی جانے والی ترامیم پر بھی تفصیلی بریفنگ
* ڈی جی ایف آئی اے نے وزیر اعظم کو نومبر 2018سے فروری2019تک منی لانڈرنگ کے سلسلے میں ایف آئی اے کی کارکردگی پر بریفنگ
* فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ اور اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ سے متعلقہ مقدمات میں ایف آئی اے کیجانب سے 131کیسز کا اندراج ہوا جس میں 423.304ملین روپے ضبط کیے گئے اور 198افراد کو گرفتار کیا گیا۔ 
* مشکوک ٹرانزیکشنز کی معلومات پر ایکشن کے علاوہ کرپٹو کرنسی کی شکایات پر کاروائی پر بھی بریفنگ۔ کرپٹو کرنسی سے متعلقہ انکوائریز میں تقریباً 540ملین روپوں کی رقوم کا تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ 
* وزیرِ اعظم کوبے نامی اکاؤنٹس، متحدہ عرب امارات میں جائیداوں اور منی لانڈرنگ کے دیگر مقدمات پر پیش رفت پر بھی تفصیلی بریفنگ
* وزیرِ اعظم کو بتایا کیا کہ ایف آئی اے کی جانب سے سخت اقدامات کے نتیجے میں حوالہ ہنڈی میں واضح کمی آئی ہے اور آج انٹر بنک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں محض پندرہ پیسے کا فرق ہے ۔
* وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ جولائی سے فروری کے دوران بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں 12فیصد بہتری آئی ہے 
* چئیرمین ایف بی آر کی جانب سے منی لانڈرنگ اور غیرملکی جائیدادوں پر ایکشن کے حوالے سے ایف بی آر کی کاروائیوں پر وزیرِ اعظم کو بریفنگ
* وزیرِ اعظم کو بتایا کیا کہ کسٹم اور ان لینڈ ریونیو انٹیلی جنس کو اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت اختیارات سے با اختیار اور موثر کیا گیا ہے۔ 
* کرنسی ڈیکلریشن سسٹم کے تحت 24پوائنٹس پر11335ڈیکلریشن کی گئیں جو 171.3ملین ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ 
* کسٹم حکام کی جانب سے وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ نومبر 2018سے فروری2019تک 314ملین روپے کی کرنسی و دیگر مال ضبط کیا گیا جو کہ گذشتہ اسی دوران محض 61ملین تھی ۔ اس حساب سے اس میں 415فیصد بہتری آئی ہے۔ 
* مشکوک ٹرانزیکشنز کی 335رپورٹس موصول ہوئی جن میں 510 افراد کے خلاف تحقیقات جاری ہیں اور ان میں سے اب تک 6600ملین روپے کی ریکوری کی جا چکی ہے۔ۂ * وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ کوئٹہ میں چیف کولیکٹوریٹ جبکہ پشاور، کوئٹہ اور کراچی میں انفورسمنٹ کولیکٹوریٹ قائم کیے گئے ہیں۔
* اجلاس میں بتایا گیا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی جائیدادوں پر قانونی ٹیکس کے حوالے سے ایف بی آر کی جانب سے چودہ ارب کی ڈیمانڈ پیدا ہوئی اس میں سے چھ ارب روپے وصول کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ متحدہ عرب امارات کے 556کیسز میں 278ملین روپے وصول کیے جا چکے ہیں۔